جب چاروں ٹائر پھٹنےکےباوجودگاڑی بھاگتی رہی اور فرانسیسی صدربچ گئے

22 اگست کی شام چارلس ڈیگال صدارتی محل سے ہوائی اڈے کی طرف جا رہے تھے۔ ان کی سٹرن ڈی ایس گاڑی کم از کم  110 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھاگی جا رہی تھی کہ اچانک چند بندوق برداروں نے ان کے قافلے پرحملہ کر دیا۔

4

وہ گاڑی جس میں چارلس ڈیگال قاتلانہ حملے سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے (تصویر: کری ایٹو کامنز)
 

22 اگست 1962 وہ تاریخ ساز دن تھا جب فرانس کے صدر چارلس ڈیگال اپنی سرکاری گاڑی کی وجہ سے قاتلانہ حملے میں بچ گئے۔

او اے ایس نامی ایک فرانسیسی عسکری گروہ صدر چارلس ڈی گال پر قاتلانہ حملے کی طویل عرصے سے منصوبہ بندی کر رہا تھا، جس کا خیال تھا کہ الجزائر کو قوم پرستوں کے حوالے کرکے ڈیگال نے فرانس کے ساتھ غداری کی ہے۔

22 اگست کی شام ڈیگال اور ان کی اہلیہ صدارتی محل سے ہوائی اڈے کی طرف جا رہے تھے۔ ان کی سٹرن ڈی ایس (Citroen DS) گاڑی کم از کم 110 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھاگی جا رہی تھی کہ اچانک چند بندوق برداروں نے ان کے قافلے پرحملہ کر دیا۔

140 گولیوں کی بوچھاڑ میں صدر کے دو موٹرسائیکل سوار محافظ ہلاک ہوئے، گاڑی کی پچھلی کھڑکی ٹوٹ گئی اور اس کے چاروں ٹائر پنکچر ہو گئے۔

گاڑی کے چاروں ٹائر پنکچر تھے لیکن گاڑی پھر بھی دوڑے جا رہی تھی۔ آپ کی گاڑی پنکچر ہو جائے تو صرف ایک ٹائر کی ہوا نکلنے پر سات یا آٹھ سیکنڈ بعد ٹائر برسٹ ہو جاتا ہے اور گاڑی چلائی ہی نہیں جا سکتی لیکن سٹرن دوڑتی رہی۔

چارلس ڈی گال کا ڈرائیور تیز رفتاری سے گاڑی بھگا کے صدر صاحب اور ان کی اہلیہ کو بچا لے گیا۔

یہ سب اس گاڑی کے اعلیٰ سسپنشن سسٹم کی بدولت تھا۔ ڈیگال اور ان کی اہلیہ نے اپنا سر نیچے گھٹنوں میں کیے رکھا اور بالآخر حملے سے بچ کر نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔

مشہور انگریزی ناول نگار فریڈرک فورسیتھ نے ان واقعات کو اپنے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے ناول ’دی ڈے آف دی جیکال‘ میں ڈرامائی شکل دی، جسے بعد میں فلم بھی بنایا گیا۔

1969 میں، ڈیگال نے یہ جانتے ہوئے کہ ان کی زندگی پر فرانسیسی کار ساز ادارے سٹرن کا قرض ہے، اسے اطالوی کار ساز کمپنی فیاٹ کے ہاتھوں فروخت ہوجانے سے روکنے کے لیے بھی بہت کوشش کی جو کامیاب رہی۔

یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن چاروں ٹائر برسٹ ہو جائیں اور گاڑی پھر بھی چلتی رہے کیسے ممکن ہے؟ شاکس تھے، کوئی غیبی مدد تھوڑی تھی چلتی گاڑی کو جھولی میں بھرا اور دشمنوں کی نظر سے غائب کر دیا؟

1952 میں سٹرن نے اپنی کار سسپنشن ٹیکنالوجی کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا۔ دوران سفر جھٹکے برداشت کرنے کے لیے سپرنگ، کوائلز یا کمانیوں پر مشتمل شاکس کی بجائے انہوں نے ہائیڈرو نیومیٹک، سسپنشن کے ساتھ اپنی پہلی گاڑی متعارف کرائی۔

کمانیوں اور سپرنگ والے شاکس جتنے مرضی اچھے ہوتے سڑک کے ناہموار ہونے پر مسافروں کو جھٹکے لگتے ہی لگتے تھے۔ 1952 میں ہائیڈرونیومیٹک سسٹم نہ صرف وقت سے بہت پہلے کی ایک چھلانگ تھا بلکہ اس نے اعلیٰ ترین سواری کا تصور بھی تبدیل کر دیا۔ ٹائر گڑھوں میں چھلانگیں لگا رہے ہیں پر گاڑی ہموار ہے، یہ سٹرن ڈی ایس تھی!

سادہ الفاظ میں، جھٹکے برداشت کرنے والے سپرنگ شاکس کو ایسے جدید شاکس سے بدلا گیا جن میں ایک طرف کمپسریسڈ نائٹروجن گیس پر مشتمل کرّے تھے (غبارہ نما کوئی چیز سمجھ لیں)اور دوسری طرف ہائیڈرولک فلوئڈ۔

اردو کبھی کبھی فیل ہو جاتی ہے۔ آسانی کے لیے یہ انگریزی ٹیکسٹ دیکھیے: (Spheres filled with nitrogen gas that were suspended in a hydraulic fluid)

فزکس کہتی ہے کہ گیس کمپریس ہو سکتی ہے لیکن سیال کو دبایا نہیں جا سکتا۔ تو ان شاکس میں گیس سپرنگ کی طرح کام کرتی تھی جب کہ ہائیڈرولک لیکوئیڈ جھٹکے جذب کرنے کے لیے کام آتا تھا۔ پھر گاڑی میں چاروں سائیڈیں یکساں اونچی یا نیچی رکھنے کے لیے ایک پمپ بھی تھا جو ایک طرف سے ٹائر پنکچر ہونے کی صورت میں گاڑی کے سسپنشن میں زیادہ ہائیڈرولک فلوئڈ کو دھکیل کر گاڑی کی اونچائی باقی تینوں ٹائروں کے برابر کر دیتا تھا۔ 

بلکہ اس گاڑی میں تو یہ سہولت تک موجود تھی کہ ٹائر پنکچر ہونے پر مزے سے بغیر جیک لگائے اسے تبدیل کیا جا سکتا تھا۔ چوتھا ٹائر بالکل نکل جانے کی صورت میں یہ گاڑی تین ٹائروں پر بھی سکون سے چل سکتی تھی۔ یہ سب اسی سسپنشن کی وجہ سے تھا۔ مزید تفصیلات یوٹیوب پر اس ویڈیو میں دیکھیے، جہاں 10 منٹ 34 سیکنڈز پر گاڑی کو تین ٹائروں پر چلتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔ 

نو سے 28 سینٹی میٹر کے درمیان آپ مزے سے گاڑی کو اونچا یا نیچا کرسکتے تھے۔ گاڑی میں بیٹھیں، ایک لیور دبائیں اور اس کی اونچائی اپنی مرضی کے حساب سے رکھیں۔ چاہیں تو بالکل سڑک کے ساتھ لگا دیں اور چاہیں تو پاکستانی ٹائپ سڑکوں پہ گاڑی فل اٹھا کر چلیں۔ جس گراونڈ کلئیرنس کے لیے آپ شاکس میں فالتو پیکنگ رکھواتے ہیں وہ کام سٹرن نے 1952 میں قابل عزت طریقے سے کر دیا تھا۔

عام گاڑی کو تیز سپیڈ میں موڑیں تو وہ ایک طرف جھکتی ہے، ہائیڈرو نیومیٹک سسپنشن سسٹم وہاں بھی لیول پر رکھتا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد تباہ حال سڑکیں ہیں، ہچکولے کھاتی گاڑیاں ہیں اور آپ سوچیں، ان کے درمیان ایک سٹرن ڈی ایس ہے کہ ٹائروں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کا تعلق مسافر سے نہیں، گاڑی ہے جو بس تیر رہی ہے۔

رولز رائس نے 1965 میں سٹرن سے اس سسٹم کا لائسنس لیا۔ مرسڈیز بینز بھی تھک ہار کے 1974 میں اسی سسٹم کے ساتھ آئی اور پیجو نے کوئی چالیس سال بعد 1990 میں یہ سسٹم استعمال کیا۔ خود سٹرن نے 2001 میں اس سسٹم کو ترک کر دیا۔

سٹرن ڈی ایس میں ایک چیز اور بڑے مزے کی تھی، آپ جدھر سٹیئرنگ موڑتے تھے ہیڈ لائٹس ساتھ مڑتی تھیں، جیسے انسان آنکھیں گھماتا ہے عین ویسے۔ اس وقت عام گاڑیوں کے سٹیئرنگ بڑے سائز میں ہوتے تھے تاکہ جب آپ پوری جان لگا کر انہیں گھمائیں تو گاڑی چلانے میں زور کم لگے۔ سٹرن نے ڈی ایس میں پاور سٹیئرنگ دیا جسے نہ صرف گھمانا آسان تھا بلکہ اس کا سائز بھی چھوٹا تھا۔

جیگوار سپورٹس کے بعد یہ پہلی گاڑی تھی جس میں ڈسک بریکس نہ صرف متعارف کروائے گئے بلکہ یہ سہولت چاروں ٹائرز کے لیے تھی۔

1950 کے آس پاس جب گاڑیاں دیوہیکل جہازوں جیسی ہوتی تھیں، اس وقت ایک ایسی گاڑی لانا جو وزن میں ہلکی ہو، تیزرفتار ہو اور ان گنت وہ سہولیات ہوں جو آج بھی ہم نہیں سوچ سکتے، ٹیکنالوجی کی ایک بہت بڑی پیش رفت تھی۔ گاڑی مارکیٹ میں لانچ ہونے کے پہلے دن اس کے 12 ہزار یونٹ بُک ہو چکے تھے۔ اگلے 20 سال میں 15 لاکھ سٹرن ڈی ایس مارکیٹ میں فروخت ہوئیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ