مری: 22 سیاحوں کی ہلاکت کے واقعے پر تحقیقاتی کمیٹی قائم

کمیٹی یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کرے گی کہ ريسکيو آپریشن کتنی حد تک کامیاب رہا؟ کتنی گاڑیوں کو نکالا گیا اور اس سارے بحران میں کمی اور کوتاہی کن افسران کی تھی؟

پاکستان کے سیاحتی مقام مری اور اس کے محلقہ علاقوں میں شدید برفباری کے نتیجے میں پیش آنے والے حادثے کے بعد اتوار کو بھی امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور وہاں پھنسے لوگوں کو نکالا جا رہا ہے جبکہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

حکومت پنجاب کی جانب سے جاری کیے جانے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق کمیٹی کے کنوینئر پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری ظفر نصراللہ جبکہ ارکان میں پنجاب حکومت کے دو سیکریٹریز علی سرفراز اور اسد گیلانی کے ساتھ ایڈیشنل آئی جی پنجاب فاروق مظہر ہوں گے اور مزید ایک رکن کو بھی مشاورت سے شامل کیا جا سکتا ہے۔

اتوار کو جاری کیے جانے والے نوٹیفیکیشن میں تحقیقاتی کمیٹی کے اغراض و مقاصد بھی دیے گئے ہیں۔

کمیٹی ان آٹھ سوالات کے جواب تلاش کرے گی کہ کیا محکمہ موسمیات کی جانب سے متعدد موسمیاتی وارننگز جاری کیے جانے کے باوجود متعلقہ اداروں نے جن میں ضلعی انتظامیہ، پولیں، ٹریفک پولیس، قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے، کمیونیکیشن اینڈ ورکس اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی وغیرہ شامل ہیں بحرانی صورتحال سے بچنے کے لیے کوئی مشترکہ منصوبہ بنایا تھا۔

کمیٹی اس بات کی بھا تحقیقات کرے گی کہ کیا پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے کوئی ٹریول ایڈوائزری جاری کی گئی تھی جس میں شہریوں سے کہا گیا ہو کہ وہ مری کا سفر کرنے سے گریز کریں۔

بڑی تعداد میں گاڑیوں اور سیاحوں کے مری میں داخلے کی ترتیب بنانے یا اسے قابو میں رکھنے کے لیے کوئی اقدامات کیے گئے تھے۔

انکوائری کمیٹی یہ بھی معلوم کرے گی کہ کیا مری میں اسلام آباد اور گلیات کے راستوں سے داخل ہونے والی گاڑیوں کا ریکارڈ رکھا گیا اور حد سے زیادہ تعداد میں گاڑیوں کے مری میں داخلے کو کیوں نہیں روکا گیا۔

بحرانی صورتحال میں برف ہٹانے والی مشینوں اور گاڑیوں کو ہٹانے والے لفٹرز کو متحرک کیا گیا تھا۔ کیا کوئی کوئی کنٹرول روم بنایا گیا تھا۔

کیا لوکل ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز کے ساتھ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے رابطہ قائم کيا گیا تھا۔

کمیٹی یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کرے گی کہ ريسکيو آپریشن کتنی حد تک کامیاب رہا؟ کتنی گاڑیوں کو نکالا گیا اور اس سارے بحران میں کمی اور کوتاہی کن افسران کی تھی؟

ان تمام نکات پر تحقیقات مکمل کرکے کمیٹی کو سات دن میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

پنجاب حکومت کے ترجمان حسان خاور نے انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار فاطمہ علی کو بتایا: ’اس سانحہ پر انتظامیہ کا جو ابتدائی تحقیقاتی موقف سامنے آیا ہے اس کے مطابق ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ ٹریفک کاؤنٹ رکھا جارہا تھا، یہ کاؤنٹ ایک حد سے بڑھنے کے بعد اسے روکا بھی گیا۔ داخلی راستے بھی سیل کیے گئے۔ اس کے علاوہ برف ہٹانے والی مشینری بھی کام کر رہی تھی۔ لیکن یہ دیکھنا بہت ضروری ہے کہ ان سارے انتظامات میں کہیں کوئی غفلت برتی گئی؟ اور اس کا ذمہ دار کون تھا؟ یہی جاننے کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب نے پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی بنائی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ کیا اس سانحہ سے بچا سکتا تھا اور اگر ایسا تھا تو اس سے کیوں نہیں بچا گیا؟ دوسرا یہ کہ جب یہ حادثہ ہوگیا تو رلیف اور ریسکیو مناسب طریقے سے کیا گیا یا نہیں؟‘

اُدھر مری میں برفباری کے نتیجے میں بند ہونے والی زیادہ تر سڑکوں کو کھول دیا گیا ہے تاہم اب بھی مری اور اس کے ملحقہ علاقوں کی جانب سفر کرنے والے سیاحوں کو روکا جا رہا ہے۔

مری کی تمام اہم شاہراہوں کو ٹریفک کے لیے کلیئر کر دیا گیا ہے جس کے بعد سیاحوں نے وہاں سے نکلنا شروع کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ مری اور اس کے ملحقہ علاقوں میں جمعہ کی شب شدید برفباری کے باعث بڑی تعداد میں سیاح سڑکوں پر ہی پھنس گئے تھے۔

شدید برفباری میں پھنسے سیاحوں میں سے 22 کے قریب افراد بند گاڑیوں میں دم گھٹنے سے ہلاک ہوگئے تھے، جن کی لاشیں گذشتہ رات ہی آبائی علاقوں کی جانب سے روانہ کر دی گئی تھیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اتوار کی صبح مری کے متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی سرگرمیوں کا فضائی جائزہ بھی لیا تھا۔

اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’مری میں برفباری کے دوران پیش آنے والے انتہائی افسوسناک واقعے کے بعد ہماری سب سے پہلی ترجیح ریسکیو آپریشن مکمل کرنا تھی۔‘

مری میں برفباری کے نتیجے میں ہلاکتوں کے بعد مری کو ’آفت زدہ‘ قرار دے کر ایمجنسی نافذ کر دی گئی تھی۔

پاکستان فوج، پنجاب پولیس اور ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ اس دوران گاڑیوں میں پھنسے سیاحوں کو محفوظ مقامات منتقل کیا گیا، ان میں کھانے پینے کی اشیا اور گرم کپرے تقسیم کیے گئے۔

اس وقت مری کی تقریباً تمام اہم شاہراہوں کو کھول دیا گیا جس کے بعد وہ سیاح جنہوں نے اتوار تک ہی ہوٹلوں میں بکنگز کروا رکھی تھیں انہوں نے مری سے واپسی کا سفر شروع کر دیا ہے۔

مری میں امدادی کارروائیوں میں مصروف اہلکاروں کی جانب سے ایک کیمپ بھی لگایا گیا ہے جہاں سے سیاحوں میں ضروری اشیا تقسیم کی جا رہی ہیں۔

 

اے سی ستیاں عبد الرحمن نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تمام حکومتی مشینری موقع پر موجود ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہزاروں پھنسے سیاحوں کو ریسکیو کر کے گھروں کو روانہ کر دیا گیا ہے۔

’بڑی شاہراہیں کھول دی ہیں جبکہ چھوٹی سڑکیں کھولنے کا کام جاری ہے، اب حالات کنٹرول میں ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اہلکاروں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اب تک دس ہزار کے قریب افراد میں امدادی سامان تقسیم کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شدید برف میں کھڑی گاڑیوں کو جم سٹارٹ کے ذریعے سٹارٹ کیا جا رہا ہے جبکہ بعض گاڑیاں رات بھر سٹارٹ رہیں جس کے وجہ سے ان کا ایندھن ختم ہو گیا تھا۔

پنجاب پولیس نے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ مری کی بڑی شاہراہوں پر شدید برفباری، برفانی طوفان کی وجہ سے 20 سے 25 بڑے عمارتی درخت گرے، جس سے راستے بلاک ہو گئے تھے۔

انہوں نے بیان میں مزید کہا ہے کہ تمام سیاحوں کو رات ہونے سے پہلے ہی ریسکیو کرکے محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا تھا۔

تاہم پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد سے مری جانے والے تمام داخلی راستے اتوار کو بھی بند ہیں۔

اس موقع پر راولپنڈی پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فی الحال مری کا رخ نہ کریں۔

اسلام آباد میں راول ڈیم چوک سے سترہ میل تک پانچ کے قریب چیک پوسٹیں لگائی گئی ہیں جن میں پنجاب/اسلام آباد پولیس، رینجرز اور آرمی کے اہلکار تعینات ہیں، جو شناختی کارڈ دیکھ کر صرف رہائشیوں کو ہی آگے جانے دے رہے ہیں۔

جبکہ محکمہ موسمیات کی جانب سے ایک اور ایڈوائزی جاری کی گئی ہے جس میں 17 جنوری سے ایک بار پھر بارشوں اور برفباری کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات نے اپنے بیان میں اداروں کو الرٹ کیا ہے جبکہ شہریوں سے اس دوران احتیاط کرنے کی اپیل کی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان