شمسی توانائی بھی متوسط طبقے سے دور کر دی گئی

میں نے ایک سال قبل اپنے گھر میں سولر سسٹم نصب کرایا جو مجھے سات لاکھ کا پڑا، اب نئے ٹیکسز اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث وہی سٹسم 12 لاکھ سے اوپر چلا گیا ہے۔


دو فروری 2014 کو اسلام آباد میں سڑک کے کنارے سولر پینل نصب کیے جا رہے ہیں (اے ایف پی)

تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں شمسی توانائی سے حاصل کی جانے والی بجلی کے نظام یعنی سولر پینلز کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک میں 15 فیصد سے زیادہ گھر سولر پینلز کا استعمال کر رہے ہیں۔ ملک میں سولر پینلز کے استعمال کا 40 فیصد  خیبر پختونخوا میں ہے۔

دوسری جانب ملک کے دیہی علاقوں میں شمسی توانائی کا استعمال شہری علاقوں سے زیادہ ہے۔ خیبر پختونخوا ایک بار پھر سر فہرست ہے جہاں اس کا استعمال 43 فیصد ہے، سندھ میں تقریباً 40 فیصد، بلوچستان میں 20 اور پنجاب میں تقریباً آٹھ فیصد ہے۔

پاکستان میں سولر انرجی کی جانب جانے کا مقصد ماحولیاتی آلودگی نہیں بلکہ سستی اور بلا رکاوٹ بجلی کا حصول ہے۔ ماحولیاتی آلودگی میں کمی کا خیال تو شاید ہی کسی کو آیا ہو سولر پینل لگواتے ہوئے لیکن جو بڑی وجوہات ہیں وہ ہیں بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمت اور لوڈ شیڈنگ۔

لوگ اپنے مکان میں اپنا سامان بعد میں لاتے ہیں پہلے سولر پینلز لگواتے ہیں۔ 2000 کی دہائی کے وسط میں سولر پینلز کی جانب لوگوں کا رحجان بڑھنے لگا۔ جنریٹرز کی جگہ سولر پینلز نے لینی شروع کی۔ لیکن 2010 میں شمسی توانائی کی جانب زیادہ لوگ جانا شروع ہوئے کیوں کہ حکومت نے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں سولر پینلز کے استعمال کے لیے پالیسی بنائی جس میں سولر پینل کے صارفین شمسی توانائی سے بنی غیر استعمال شدہ بجلی واپس واپڈا کو بیچ سکتے تھے۔

حکومت کی کوشش تھی کہ انرجی مکس کو پانچ فیصد سے بڑھا کر 2025 تک 20 فیصد اور 2030 تک 30 فیصد تک پہنچایا جائے۔ حکومت نے سولر پینلز کی درآمد پر سے ٹیکس ختم کر دیے۔ سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی اور یہ امرا کے علاوہ مڈل کلاس کی رسائی بھی اس تک ممکن ہوئی۔

سستا سولر پینل اور اس کے ساتھ نیٹ میٹرنگ کی سہولت کے باعث گھریلو صارفین میں اس کی مقبولیت ہوئی۔ حکومت نے مزید آسانی کے لیے نیٹ میٹرنگ کے لیے لائسنس لینے کے عمل کو کئی ماہ سے کم کر کے چند ہفتوں تک لے آئے۔ حال ہی میں نیپرا نے اعلان کیا کہ پانچ کلو واٹ تک کا نظام لگانے والے صارفین کو لائسنس کی ضرورت نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان میں سولر پینلز کے استعمال میں اضافے کے باوجود پاکستان چین اور انڈیا سے کہیں پیچھے ہے۔ لیکن حکومت کی جانب سے بہت ہی کم شرح پر بینکوں سے سولر سسٹم لگوانے کے لیے قرض لینے کے قدم نے مزید لوگوں کو اس جانب مائل کیا۔

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی 2020 کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال کے مقابلے میں سولر انرجی 20 سے 50 فیصد سستی ہے اور اس کی بڑی وجہ مختلف ممالک کی سولر انرجی دوست پالیسیاں ہیں۔

ایک جانب جب سولر انرجی کی جانب گھریلوں صارفین زیادہ سے زیادہ راغب ہو رہے ہیں جس کے باعث ملک کی پاور جنریشن پر سے دباؤ کم ہو رہا ہے، حکومت کی جانب سے سولر پینلز، انورٹرز اور دیگر سازو سامان پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کا فیصلہ دانشمندانہ نہیں ہے۔ یہ فیصلہ ملک کی نیشنل رینیو ایبل انرجی پالیسی کے بالکل برعکس فیصلہ ہے جس کے تحت 2030 تک انرجی مکس میں سولر انرجی کا شیئر 30 فیصد کا ہدف دیا گیا ہے۔

سولر پینل اور اس سے متعلقہ سازوسامان پر ٹیکس لگانے سے ایک بار پھر یہ ضرورت مڈل کلاس کی پہنچ سے دور کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کلین انرجی کی جانب حکومتی سفر سست پڑ جائے گا۔ مڈل کلاس کے لیے اس حکومتی قدم نے کوئی اور راستہ نہیں چھوڑا کہ وہ سستے اور غیر معیاری سولر سسٹ کی جانب جائیں۔

میں نے خود ایک سال قبل پانچ کلو واٹ کا سولر سسٹم نصب کرایا جو نیٹ میٹرنگ اور دیگر فیسوں وغیرہ کے ساتھ مجھے سات لاکھ کا پڑا۔ بجلی ہے یا نہیں مجھے فرق نہیں پڑتا۔ گرمیوں میں ہم تین انورٹر ایئر کنڈیشنر باآسانی صبح چھ بجے سے شام سات بجے تک چلاتے ہیں، اور سردیوں میں الیکٹرک گیزر اور دو انورٹر۔ لیکن اب جب ٹیکس لگنے اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث وہی پانچ کے وی کا سٹسم 12 لاکھ سے بھی زیادہ کا پڑ رہا ہے تو کیا میں اتنا مہنگا سسٹم لگوانے کی پسلی رکھتا ہوں؟ ہر گز نہیں۔

اس میں دو رائے نہیں ہے کہ ٹیکس ریونیو پائیدار معیشت اور ترقی کے لیے ضروری ہے لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ پالیسیاں تشکیل دینے والے ماحول کو داؤ پر لگا کر سولر انرجی پر ٹیکس لگا دیں جب کہ ملک میں کئی اور چیزیں ہیں جن پر ٹیکس یا تو بہت کم ہے یا پھر ہے ہی نہیں۔

موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے اور پاکستان کا شمار ان 10 ممالک میں ہوتا ہے جو موسمی تبدیلی سے متاثر ہیں۔ پورتو ریکو، میانمار، ہیٹی، فلپائن کے بعد پاکستان کا نام ہے۔

موسمی تبدیلی کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کے باوجود سمندری سطح میں اضافے، پانی کی قلت، زراعتی پیداوار میں کمی اور خشک سالی کے باعث خدشہ ہے کہ 2030 تک پاکستان میں چھ لاکھ افراد بے گھر ہو جائیں گے اور نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں گے۔

ایسے میں سولر پینلز پر ٹیکس عائد کر دینا موسمیاتی تبدیلی اور اس کے اثرات کے حوالے سے حکومتی وعدے کھوکھلے ظاہر ہوتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ