ویراٹ کوہلی ٹیسٹ کپتانی سے بھی مستعفی: ’آپ کی سپورٹ کا شکریہ‘

ویراٹ کوہلی نے ٹیسٹ کے ساتھ 50 اوورز اور ٹی ٹوئنٹی کی بھی کامیاب قیادت کی۔ انہوں نے 213 میچوں میں کپتانی کی جن میں سے 135 کامیابیاں مقدر بن گئیں۔ لیکن بدقسمتی سے وہ کوئی آئی سی سی ایونٹ نہیں جیت سکے۔

ویراٹ کوہلی نے ٹیسٹ کے ساتھ 50 اوورز اور ٹی ٹوئنٹی کی بھی کامیاب قیادت کی۔ انہوں نے 213 میچوں میں کپتانی کی جن میں سے 135 کامیابیاں مقدر بن گئیں۔ لیکن بدقسمتی سے وہ کوئی آئی سی سی ایونٹ نہیں جیت سکے(اے ایف پی )

بھارت کی جنوبی افریقہ کے ساتھ حالیہ ٹیسٹ سیریز میں شکست نے اپنے اثرات دکھانا شروع کر دیے ہیں اور پہلا چراغ کپتان ویراٹ کوہلی کا بجھا ہے، جنہوں نے تیسرے ٹیسٹ کی شکست کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر اپنے استعفی کا اعلان کر دیا۔

بھارتی کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ ٹیسٹ فتوحات سمیٹنے والے ویراٹ کوہلی گذشتہ کئی ماہ سے خبروں میں ہیں۔ وہ شکستوں کے انبار میں اختلافات کا بوجھ بھی اٹھا رہے ہیں۔ ان کی اپنی ذاتی کارکردگی بھی تنزلی کا شکار ہے۔

جبکہ کپتانی پر بھی آسیب کاسایہ ہے جہاں بھارتی ٹیم ایک بہت اچھی ٹیم ہوتے ہوئے بھی کم تجربہ کار ٹیموں سے ہار رہی ہے۔

ویراٹ کوہلی نے کپتانی کا بوجھ 2014 کے آسٹریلیا کے دورے پر اس وقت سنبھالا تھا جب ایم ایس دھونی نے اچانک ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا تھا۔

ان سات سال کے دوران انہوں نے 68 ٹیسٹ میچوں میں کپتانی کی۔ جس میں 40 ٹیسٹ جیتے، جن میں سے 16 ٹیسٹ بھارت سے باہرجیتے جو اپنی جگہ خود ایک ریکارڈ ہے۔

انہوں نے سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز جیتیں لیکن سب سے اہم اور قابل ذکر آسٹریلیا میں آسٹریلیا کے خلاف 19-2018 میں 1-2 سے سیریز جیتنا تھا۔ جب خود ان کی اپنی کارکردگی بھی بہت اچھی تھی۔

ویرات کوہلی نے اپنی ٹویٹ میں کپتانی سے استعفی دینے کا بیان پوسٹ کیا جس کے بعد دوسری ٹویٹ میں انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ ایک تصویر پوسٹ کرتے ہوئے اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کیا۔

ویراٹ کوہلی نے ٹیسٹ کے ساتھ 50 اوورز اور ٹی ٹوئنٹی کی بھی کامیاب قیادت کی۔ انہوں نے 213 میچوں میں کپتانی کی جن میں سے 135 کامیابیاں مقدر بن گئیں۔ لیکن بدقسمتی سے وہ کوئی آئی سی سی ایونٹ نہیں جیت سکے۔

ان کا سب سے بڑا کارنامہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل تک پہنچنا اور ورلڈ نمبر ایک ہونا ہے۔ تاہم ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل وہ نیوزی لینڈ سے صرف ایک سیشن برا کھیل کر ہار گئے تھے۔

کوہلی نے کیا کہا؟

ویراٹ کوہلی نے کہا کہ میں نے سات سال تک سخت محنت اور ایمانداری سے اپنی ذمہ داری نبھائی اور ٹیم کو درست سمت میں لے کرچلا۔ اپنے کام میں کوئی کمی نہیں چھوڑی لیکن ہر چیز کا ایک اختتام ہوتا ہے اور میری کپتانی کے اختتام کا بھی وقت آگیا ہے۔

انہوں نے اپنی ٹویٹ میں بھارتی کرکٹ بورڈ کے ساتھ سابق کپتان ایم ایس دھونی اور سابق کوچ روی شاستری کا بھی شکریہ اداکیا جن کی مدد کے بغیر اتنی کامیابیاں ممکن نہیں تھیں۔

بھارتی کرکٹ بورڈ نے کوہلی کو استعفی واپس لینے کے لیے کہنے کے بجائے ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے خاموش الفاظ میں کپتانی چھوڑنے پر شکریہ کا تاثر دیا ہے۔ جس سے کوہلی کے استعفی کے پیچھے بورڈ کی رضامندی یا حکمت عملی نظر آتی ہے۔

بھارتی کرکٹ بورڈ کی منافقت پر کوہلی پہلے ہی شکوہ کرچکے ہیں جب ان سے ایک روزہ ٹیم کی کپتانی چھین لی گئی تھی۔

 انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس بارے میں انہیں اعتماد میں لیا جاسکتا تھا۔ کوہلی اس بات پر بہت شاکی تھے کہ ٹیم ڈسکس کرتے ہوئے ایک بار بھی انہیں یہ تاثر نہیں دیا گیا کہ وہ سفید گیند کی ٹیم کی قیادت سے ہٹائے جا رہے ہیں۔

بیٹنگ کارکردگی بھی پریشان کن

ویراٹ کوہلی بھارتی کرکٹ تاریخ کے دوسرے سچن ٹنڈولکر سمجھے جارہے تھے۔ وہ جس تیزی سے پرانے ریکارڈ توڑ رہے تھے اور نئے بنا رہے تھے سب کو امید تھی کہ وہ بہت جلد سچن سے آگے نکل جائیں گے۔ لیکن 2019 کے بعد سے ان کی کارکردگی کو بریک لگ گئے ہیں۔

وہ نومبر 2019 سے کوئی سنچری سکور نہیں کرسکے ہیں ان کی آخری سنچری بنگلہ دیش کے خلاف تھی۔

انٹرنیشنل کرکٹ میں 70 سنچریاں بنانے والے کوہلی کے لیے اب سہ عددی اننگز خواب بن گئی ہے۔

جنوبی افریقہ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں ان کی 79 رنز کی اننگز کی بہت تعریف کی گئی لیکن شکست نے ساری محنت پر پانی پھیردیا۔

کوہلی کا جانشین کون ہوگا؟

اگرچہ ٹیم میں ان کے سب سے بڑے حریف روہت شرما ان کے نائب کپتان ہیں لیکن فٹنس مسائل پر وہ فی الحال ٹیم سے باہر ہیں۔ جس کے باعث دوسرے ٹیسٹ میں کے ایل راہل نے کپتانی کی اور ایک شکست لکھوا لی۔

اب بھارتی ٹیم کا اگلا اسائنمنٹ سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز ہے۔ جس میں اگر شرما دستیاب نہ ہوئے تو راہل ہی کپتانی کریں گے۔

کیا کوہلی کا دور ختم ہوچکا ہے؟

ایسا کہنا قبل از وقت اور نامناسب ہوگا کیونکہ ویراٹ کوہلی سے اگرچہ رنز نہیں بن رہے لیکن جس طرح وہ آخری ٹیسٹ کھیلے اس سے ظاہر ہے کہ وہ ابھی بھی کئی سال کھیل سکتے ہیں۔

ویراٹ کوہلی ایک اچھے کھلاڑی کے ساتھ خوش اخلاق انسان بھی ہیں لیکن جلد جذباتی ہوجانے کے باعث وہ اختلافات میں گھرے رہتے ہیں۔ وہ لگی لپٹی نہیں رکھتے اور نہ خاموش رہتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں بعض اوقات سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ویراٹ کوہلی بلاشبہ ایک بہترین کھلاڑی، ایک باصلاحیت قائد اور فائٹر کرکٹر ہیں جو دیانت داری سے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کااعتراف کرتے ہیں۔

پاکستان سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شکست کے بعد انہوں نے جس خوش دلی سے پاکستانی کھلاڑیوں کو مبارک باد دی تھی اورمحمد شامی کا دفاع کیا تھا اس پر سوشل میڈیا پر ان پر بہت کیچڑ اچھالی گئی لیکن کوہلی اپنے موقف سے نہ پیچھے ہٹے اور نہ تبدیل کیا۔

کوہلی نے اپنے کپتانی کے دور میں اہل اور قابل کھلاڑیوں کو بلاتفریق مذہب و نسل سپورٹ کیا۔ محمد سراج اور شامی اس کی سب سے بڑی مثال ہیں۔

بھارتی ٹیم میں کوہلی کے استعفے نے ٹیم کا شیرازہ بکھرنے کی نوید دے دی ہے۔ ٹیم کے سینئیر کھلاڑیوں کی ناکامی اور مسلسل شکستوں نے کسی بڑے آپریشن کی نشاندہی کردی ہے۔

 اب کوہلی کے بعد جو بھی کپتان بنے گا اسے ٹیم کو نئے خطوط پر استوار کرنا ہو گا۔

کوہلی کے اس اچانک استعفے پر جہاں ان کے مداح اپنے اپنے مطابق اس کی وجوہات بیان کرنے اور ان کی بحثیت کپتان خدمات کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں وہیں بھارتی ٹیم اور دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی بھی ویراٹ کوہلی کی تعریف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

بھارتی ٹیم کے سابق کوچ اور فاسٹ بولر روی شاشتری نے کوہلی کی کپتانی سے استعفے کے اعلان پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’ویراٹ آپ اپنا سر اٹھا کر جا سکتے ہیں۔ بہت کم کپتانوں نے آپ جتنی کامیابی حاصل کی ہے۔ آپ یقینی طور پر بھارت کے سب سے کامیاب اور جارحانہ کپتان تھے۔‘

بھارتی بلے باز کے ایل راہل نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ’آپ ہر انداز میں ایک رہنما ہیں۔ آپ نے جو کیا اس کا شکریہ ادا کرنا ممکن نہیں کپتان۔‘

بھارتی ٹیم کے فاسٹ بولر محمد شامی بھی اپنی ٹویٹ میں ویراٹ کوہلی کی کھل کر تعریف کرتے دکھائی دیے۔

کرکٹ کے میدان میں ویراٹ کوہلی کو کانٹے کی ٹکر دینے والے پاکستانی بولر محمد عامر نے ویرات کوہلی کو نوجوان نسل کے لیے ایک بہترین مثال قرار دیتے ہوئے ان کے میدان اور میدان سے باہر کامیاب رہنے کی تمنا کی۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ