ہری پور کی خاتون جو اپنی دست کاری سے دنیا میں نام کما رہی ہیں

ہری پور کی نسیم اختر پچھلے 20 سالوں سے دست کاری کے ذریعے نہ صرف اپنے لیے بلکہ علاقے کی دیگر خواتین کے لیے مالی وسائل پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ہری پور کی نسیم اختر پچھلے 20 سالوں سے دست کاری کے ذریعے نہ صرف اپنے لیے بلکہ علاقے کی دیگر خواتین کے لیے مالی وسائل پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔

نسیم شادی کے بعد گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنے شوہر کا ہاتھ بٹانا چاہتی تھیں لیکن تعلیم سے محرومی اور خواتین کے لیے روزگار کے موقعے نہ ہونے کے باعث ان کے پاس روایتی دست کاری کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔

انہوں نے دست کاری اپنی والدہ اور نانی سے سیکھی تھی۔ نسیم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کا بچپن سے مشغلہ تھا کہ وہ سلائیوں سے گرم اونی ملبوسات اور تکیوں کے کشن تیار کرتی تھیں۔

’شادی کے بعد گھر کے اخراجات زیادہ اور آمدن کم تھی، اوپر سے بچیوں کی سکول فیس اور دیگر خرچے لہٰذا میں نے اس ہنر کو اپنی ڈھال بنا لیا۔‘

نسیم اختر پانچ بچیوں اور ایک بچے کی ماں ہیں۔ ان کی بڑی بیٹی نے چین سے ایم بی بی ایس کیا ہے جب کہ دوسری بیٹی نے میڈیکل کالج میں داخلے کا ٹیسٹ دے رکھا ہے۔

نسیم کہتی ہیں کہ وہ مالی مسائل اور معاشرتی پابندیوں کے باعث تعلیم حاصل نہیں کر سکی تھیں مگر ان کی خواہش ہے کہ ان کی بیٹیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے معاشرے میں اپنا مقام بنائیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے شروع میں سٹالز لگا کر گاہک کی پسند کو سمجھا جس کے بعد خود پیسے جمع کر کے پسماندہ علاقوں کی ہنر مند خواتین کو اپنے ساتھ شامل کیا۔

یوں ان کے کام کو پذیرائی ملی اور وہ بین الاقوامی مارکیٹ تک پہنچا۔

آج ہری پور کے دیہات سے اڑھائی سو خواتین نسیم اختر کے لیے کام کرتی ہیں، جن کے ہاتھ کی بنی ہوئی شالیں، چادریں، کشیدہ کی ہوئی قمیضیں، دوپٹے اور دیگر اشیا محکمہ ثقافت کی دلچسپی کی وجہ سے عالمی شہرت حاصل کر چکی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہیں تیار کرنے میں کئی دن لگ جاتے ہیں، جن کی اندرون اور بیرون ملک بہت مانگ اور قیمت ہے۔

نسیم اختر بین الاقوامی میلوں میں نمائش کے لیے کام لے کر گئی ہیں جہاں انہیں بڑی پذیرائی ملی۔

نسیم اختر کے ساتھ کام کرنے والی خواتین اور ان کے اہل خانہ نسیم کے شفیق انداز کی وجہ سے ان کی بے حد عزت کرتے ہیں۔

وہ خود بھی دیگر خواتین کو سکھانے کے لیے تیار رہتی ہیں کہ کسی طرح وہ بھی اس کام سے اپنا روزگار حاصل کر سکیں۔

ان کے ساتھ کام کرنے والی ایک خاتون صائمہ بتاتی ہیں کہ وہ بیڈ شیٹس، کشن کورز، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر کڑھائی اور کروشیے سے مختلف اشیا بناتی ہیں۔

سردیوں کے موسم میں زیادہ طلب کی وجہ سے وہ زیادہ محنت کرتی ہیں۔

صائمہ کے بقول وہ یہاں سے مفت دست کاری کی تربیت حاصل کرنے کے بعد گھر پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یوں گھریلو اخراجات میں ان کے خاوند کا ہاتھ بٹ جاتا ہے۔

نسیم کہتی ہیں: ’مجھ جیسی بہت سی خواتین اپنے بچوں کا پیٹ پالنے اور انہیں معاشرے کا مفید شہری بنانے کے لیے سلائی، کڑھائی، لباس، شالیں اور دیگر اشیا بناتے ہیں لیکن ان کو بہت کم معاوضہ ملتا ہے۔‘

نسیم کی خواہش ہے کہ حکومت محنت کش باہنر خواتین کو بلا سود قرضے فراہم کرے۔

سابق رکن اسمبلی اور دست کاری کے ساتھ گہرا لگاؤ رکھنے والی آمنہ سردار کہتی ہیں کہ ہری پور کے دیہات کی خواتین گھروں میں کام کر کے معاشی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

’اگر ان کو موقعے فراہم کیے جائیں اور حکومت ان کے لیے وسائل فراہم کرے اور صحیح معنوں میں ان کے کام کی تشہیر کرے تو بڑے پیمانے پر زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین