مظفرآباد: شہریوں کو آئی جی سے براہ راست بات کرنے کی سہولت

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے آئی جی پی ڈاکٹر سہیل حبیب تاجک کے مطابق تین تھانوں میں مددگار ڈیوائسز نصب کی گئی ہیں جن کے ذریعے پولیس کے شہریوں سے رویے کی نگرانی کی جا رہی ہے اور شہریوں کو ان سے براہ راست بات کرنے کی سہولت بھی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں شہریوں کی سہولت کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کچھ تھانوں میں ایسے آلات نصب کیے گئے ہیں جن کی مدد سے پولیس حکام کے مطابق کوئی بھی شکایت کنندہ براہ راست پولیس کے سربراہ سے ہی بات کر سکتا ہے۔  

انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) ڈاکٹر سہیل حبیب تاجک کے مطابق پہلے مرحلے میں تین تھانوں کے صدر دروازوں پر لگے یہ آلات پولیس کے رویے میں بڑی تبدیلی لا رہے ہیں۔ 

ڈاکٹر سہیل حبیب تاجک نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا: ’ہمارے تھانے میں نگرانی کا کوئی نظام نہیں تھا۔ پولیس سٹیشن میں عوام کے ساتھ کیا ہو رہا ہے یا پولیس کا رویہ کیا ہے ہمیں نہیں پتہ چلتا تھا ہمیں سب اچھا ہے کی رپورٹ ملتی تھی۔‘ 

آئی جی نے بتایا انہوں نے تین تھانوں کو سی سی ٹی وی پر لائیو کر دیا ہے۔ اب ان کو پتہ چل رہا ہوتا ہے کہ تھانے میں کون آ رہا ہے، کون جا رہا ہے اور ہر تیسرے آدمی کو وہ خود بھی پوچھ لیتے ہیں کہ ان کے ساتھ پولیس کا رویہ کیسا تھا، جس سے پولیس کو احساس رہتا ہے کہ ان کی نگرانی ہو رہی ہے۔ 

پولیس سربراہ ڈاکٹر سہیل حبیب تاجک نے مزید بتایا کہ انہوں نے پہلے مرحلے میں تین تھانوں کو لائیو کیمرے پر منتقل کیا ہے، دوسرے مرحلے میں مزید 20 کو جبکہ تیسرے میں 46 تھانوں میں مددگار ڈیوائس اور سی سی ٹی کیمرے لگائے جائیں گے۔ 

مدینہ مارکیٹ کی رہائشی سیدہ شمسہ حسن نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ تھانے میں شکایت لے کر گئیں اور مددگار ڈیوائس سے آئی جی پی سے شکایت کی کہ مدینہ مارکیٹ میں موٹر سائیکل اور رکشوں کا رش ہونے سے خواتین کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے اسی وقت ایس ایچ او کو ہدایت کی اور اب مارکیٹ میں رش کم ہے۔

ان کا ماننا تھا کہ مددگار ڈیوائس سے عام عوام اور افسران کے درمیان رابطہ بہت آسان ہو گیا ہے اور لوگوں کو آسانیاں ملی ہیں۔ 

آئی جی پی نے مزید بتایا کہ انہوں نے ایک ماہ میں 713 تنازعات حل کیے ہیں۔ یہ شکایات ان تک ان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور مددگار آلات کے ذریعے پہنچی تھیں۔

انہوں نے کہا: ’جیسے ہی ہمارے پاس شکایت آتی ہے ہم اس پر کارروائی کرتے ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے رضوان نامی ایک شخص نے شکایت کی کہ اس کے مکان کے راستے کا تنازع ہے۔ میں نے متعلقہ ایس ایچ او کو بتایا تو اس نے دوسرے فریق کو بلا کر راستے کا معاملہ حل کر دیا۔‘ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک دوسرے سائل رضوان نے جو اس وقت تھانے میں موجود تھے بھی انڈپینڈنٹ اردو سے بات کی۔

انہوں نے بتایا: ’میں نے مددگار ڈیوائس کے ذریعے اپنا مسئلہ بتایا تو دو دن میں میرا معاملہ حل ہو گیا میں آئی جی پی اور ایس ایچ او کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘

ایک نجی تعلیمی ادارے کے پرنسپل ہادی آغا راٹھور نے بھی مددگار ڈیوائس کو آئی جی پی کا اچھا اقدام قرار دیا۔

انہوں نے بتایا: ’میرے کالج کے سامنے چھٹی کے وقت لڑکے آ جاتے تھے۔ میں تھانے شکایت کرنے گیا تو مجھے مددگار ڈیوائس نظر آئی میں نے یہی ضروری سمجھا کہ اعلیٰ حکام تک اپنی شکایت پہنچاؤں۔ میں نے مددگار کا بٹن دبایا تو آئی جی پی سے میری بات کروائی گی میں نے انہیں مسئلہ بتایا تو انہوں نے یقین دہانی کروائی تو میں واپس آ گیا۔ اگلے دن چھٹی کے وقت یہاں پولیس کانسٹیبل کھڑا تھا اس کے بعد لڑکے ادھر کھڑے نہیں ہوتے۔‘ 

مددگار ڈیوائس کس حد تک فائدہ مند ہے، اس کے جواب میں آئی جی پی نے بتایا: ’جہاں جہاں یہ ڈیوائسز لگی ہیں ان تھانوں کی نگرانی ہو رہی ہوتی ہے، جس سے پولیس کے رویوں میں تبدیلی آئی ہے لوگوں کا اعتماد بڑھ گیا ہے۔ سروس ڈیلوری بہتر ہوئی ہے‘

ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے 46 تھانوں کی کارکردگی بہتر ہو جائے گی اور  لوگوں کے مسائل حل ہونا شروع ہو جائیں گے۔

آئی جی پی نے کہا: ’اگر کسی کو شکایت ہے تو سیدھا مجھے کال کر سکتا ہے۔‘

مبصرین کے مطابق اگرچہ حکام عوام کی سہولت کے لیے کئی اقدامات کرتے رہتے ہیں لیکن کچھ عرصہ بعد یا تو اس نظام کی دیکھ بھال کے مسائل، حکام کے تبادلوں یا حکام کی دلچسپی ختم ہونے کے بعد حالات دوبارہ ماضی کی نہج پر پہنچ جاتے ہیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا