سنگارپور کے وزیر اعظم کے بیان پر بھارت میں سفارتی تنازع 

وزیر اعظم لی سیئن لونگ نے جنوبی ایشیائی ملک کو ’نہرو کا بھارت‘ قرار دیتے ہوئے تبصرہ کیا کہ 1947 میں پہلے وزیر اعظم کے بعد سے بھارت کو ’اخلاقی اقدار‘ کے حوالے سے گراؤٹ کا سامنا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندرہ مودی سنگاپور کے وزیر اعظم لی سیئن لونگ سے 4 اکتوبر 2016 کو نئی دہلی میں ملاقات کے موقع پر ہاتھ ملا رہے ہیں (تصویر: اے ایف پی فائل)

مشرق بعید کے ملک سنگاپور کے وزیر اعظم لی سیئن لونگ کی جانب سے ایمانداری کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کے بارے میں دیے گئے بیان نے نئی دہلی کے ساتھ ایک غیر معمولی سفارتی تنازع پیدا کر دیا ہے۔

رواں ہفتے بدھ کو ریاستی پارلیمان میں تقریباً 40 منٹ کی تقریر کے دوران وزیراعظم لی سیئن لونگ نے جنوبی ایشیائی ملک کو ’نہرو کا بھارت‘ قرار دیتے ہوئے تبصرہ کیا کہ 1947 میں پہلے وزیر اعظم کے بعد سے  بھارت کو ’اخلاقی اقدار‘ کے حوالے سے گراؤٹ کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا: ’نہرو کا بھارت ایک ایسا ملک بن گیا ہے، جہاں میڈیا رپورٹس کے مطابق، لوک سبھا (بھارت کے ایوان زیریں) میں تقریباً نصف ممبران پارلیمنٹ کے خلاف مجرمانہ مقدمات زیر التوا ہیں جن میں ریپ اور قتل جیسے الزامات شامل ہیں اگرچہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان میں سے بہت سے الزامات سیاسی محرکات کی وجہ سے لگائے گئے ہیں۔‘

وزیر اعظم لی سیئن لونگ کا یہ بیان 15 فروری کو سنگاپور کی پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے استحقاق کی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جو ملک کی حزب اختلاف ’ورکرز پارٹی‘ کے ارکان کی جانب سے غلط بیانی کے الزامات کا جائزہ لے رہی ہے۔

وزیر اعظم لی سیئن لونگ نے کہا کہ ’سنگاپور کو اسی (بھارت جیسے) راستے پر جانے سے روکنا ہوگا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکومتی ذرائع کے مطابق سنگاپور کے وزیر اعظم کے بیان پر سخت ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کی وزارت خارجہ نے سنگاپور کے ہائی کمشنر سائمن وونگ کو لی سیئن لونگ کے تبصروں پر احتجاج کے لیے ساؤتھ بلاک طلب کیا تھا۔

ایک بھارتی اہلکار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’سنگاپور کے وزیر اعظم کے ریمارکس غیر ضروری تھے۔ ہم نے یہ معاملہ سنگاپور کے ساتھ اٹھایا ہے۔‘

سنگاپور بھارت کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک پارٹنر ہے یہی وجہ ہے کہ اس بیان نے دونوں ممالک کے درمیان ایک غیر معمولی تنازع کو جنم دیا ہے۔ دونوں سابق برطانوی کالونیوں کے درمیان دوستانہ تعلقات رہے ہیں۔

وزیراعظم لی سیئن لونگ نے تقریر میں ’بین گوریون کے اسرائیل‘ اور برطانیہ کے ’پارٹی گیٹ‘ سکینڈل کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا: ’بین گوریون کا اسرائیل دو سالوں میں چار عام انتخابات کے باوجود بمشکل حکومت بناسکا کیوں کہ اسرائیل میں سینیئر سیاستدانوں اور عہدیداروں کو مجرمانہ الزامات کا سامنا ہے اور ان میں سے کچھ جیل بھی جا چکے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اپنی پرجوش تقریر کا آغاز کرتے ہوئے لی سیئن لونگ نے کہا کہ کچھ رہنما جنہوں نے آزادی کی جنگ لڑی اور جیتی ان میں سے ’اکثریت باہمت، شاندار ثقافتی اقدار اور قابلیت کے حامل افراد‘ ہوتے ہیں۔

وزیر اعظم کے بقول: ’وہ رہنما آگ کے دریا سے گزر کر انسانوں اور قوموں کے رہنما بن کر ابھرے۔ ان میں ڈیوڈ بین گوریون، جواہر لعل نہرو جیسے اور ہمارے اپنے رہنما بھی شامل ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ آج ان ممالک میں بہت سے سیاسی نظام اپنے بانی رہنماؤں کے خیالات کے برعکس بالکل ناقابل شناخت ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا: ’سنگاپور کو اسی راہ پر جانے سے روکنے کے لیے کیا کیا جائے؟ کچھ نہیں، ہم اندرونی طور پر دوسرے ممالک کے مقابلے میں زیادہ ذہین یا زیادہ نیک نہیں ہیں۔ جدید سنگاپور ایک فیل سیف میکانزم کے ساتھ پیدا نہیں ہوا۔‘

وزیر اعظم لی سیئن لونگ کے بیان نے بھارت میں ایک تنازع کو جنم دیا ہے جہاں ملک کے اپوزیشن لیڈروں نے حکمران دائیں بازو کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کو اس کا ذمہ دار ٹہرایا ہے۔

بھارت کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس پارٹی، جس کے جواہر لعل نہرو صدر تھے اور اب جس کی قیادت ان کے پڑپوتے راہول گاندھی کے ہاتھ میں ہے، نے اس بیان کو اپنے بانی رہنما کی تعریف اور اپنے حریفوں پر تنقید کے لیے استعمال کیا ہے۔

کانگریس پارٹی نے ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں کہا: ’نہرو کی عظمت آج بھی عالمی رہنماؤں کو متاثر کرتی ہے۔ افسوس ہے کہ ہمارے اپنے ملک میں سیاست دان یہ سمجھنے میں ناکام رہے ہیں کہ وہ کتنے عظیم رہنما تھے۔‘

کانگریس پارٹی کے رہنما اور سابق بھارتی وزیر ششی تھرور نے کہا کہ وزارت خارجہ کے لیے ایک دوست ملک کے سفارت کار کو ’طلب‘ کرنا ’غیر مناسب‘ ہے جبکہ انہوں نے نریندر مودی کی حکومت کو تنقید برداشت کرنے کا مشورہ بھی دیا۔

اقوام متحدہ کے سابق انڈر سیکریٹری جنرل ششی تھرور نے اس حوالے سے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا: ’ملک کے وزیر اعظم کی جانب سے ان کی اپنی پارلیمنٹ میں دیے گئے بیان پر بھارت کی وزارت خارجہ کی جانب سے سنگاپور جیسے دوست ملک کے ہائی کمشنر کو طلب کرنا سب سے زیادہ نامناسب بات ہے۔ وہ ایک عام (اور بڑی حد تک درست) نقطہ ںظر پیش کر رہے تھے۔ ہمارے اپنے سیاست دانوں کے کرتوت دیکھتے ہوئے ہمیں اس تنقید کو برداشت کرنا سیکھنا چاہیے۔‘

سنگاپور کے وزیراعظم نے بھارتی سیاست دانوں کے خلاف مجرمانہ الزامات کے بارے میں اپنے دعوؤں کے لیے کسی ذرائع کا حوالہ نہیں دیا تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بھارتی غیر سرکاری تنظیم ’ایسوسی ایشن آف ڈیموکریٹک ریفارمز‘ کی 2019 کی رپورٹ کا حوالہ دے رہے تھے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سال عام انتخابات میں جیتنے والے امیدواروں میں سے 43 فیصد کو مجرمانہ الزامات کا سامنا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا