فیصل آباد: سی اے امتحانات میں پرچے نقل کروانے والا گرفتار

ڈگری انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان کی انتظامیہ کو یہ شبہ ہوا کہ کوئی شخص غیر قانونی طور پر طلبہ کو پیپر حل کروانے میں ملوث ہے جس پر نومبر 2021 میں ایف آئی اے کو شکایت درج کروائی گئی۔  

چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ (سی اے) کی ڈگری پاکستان سمیت دنیا بھر میں اکاؤنٹینسی کی فیلڈ میں سب سے اعلیٰ تسلیم کی جاتی ہے اور اس کے امتحان کو پاس کرنا انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان میں یہ ڈگری انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان کے تحت کروائی جاتی ہے۔

کرونا کے دوران 2021 میں اس ادارے کی طرف سے امتحان لینے کا طریقہ کار مینول سے آن لائن پر منتقل کیا گیا جس کے تحت دوران امتحان  ’ریموٹ پروٹیکٹر ایگزام اینڈ اسیسمنٹ ماسٹر آن لائن سافٹ وئیر‘ کے ذریعے طلبہ کی نگرانی کی جاتی تھی۔

اس دوران ڈگری انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان کی انتظامیہ کو یہ شبہ ہوا کہ کوئی شخص غیر قانونی طور پر طلبہ کو پیپر حل کروانے میں ملوث ہے جس پر نومبر 2021 میں ایف آئی اے کو شکایت درج کروائی گئی۔  

اس شکایت پر ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل فیصل آباد نے گزشتہ روز اس شخص کو گرفتار کیا ہے جو سی اے کے طالب علموں کو غیرقانونی طور پر پیپر حل کروانے میں ملوث ہے۔

ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل فیصل آباد کے سرکل انچار ج سید ارشد علی رضوی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ شخص قیصر طلبہ کے ساتھ مل کر ایک گروپ بناتا تھا واٹس ایپ پر ، طلبہ جو آن لائن پیپر کے سوال ہوتے ہیں وہ واٹس ایپ پر اسے بھیجتے تھے اور یہ واٹس ایپ کے ذریعے ان سوالات کے جواب ان طلبہ کو بھیجتا تھا اوروہ اسی طرح انہیں پیپر میں لکھ دیتے تھے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ملزم سی اے کے تین مضامین کا ماہر ہے اور فیصل آباد کے مختلف انسٹی ٹیوٹس میں سی اے کے طلبہ کو یہ مضامین پڑھاتا بھی تھا۔

’ابتدائی تحقیقات میں یہ ثابت ہونے کے بعد کہ یہ شخص سی اے کے گزشتہ دو امتحانات میں طلبہ کو غیر قانونی طور پر پیپر حل کروانے میں ملوث ہے اسے ریکی کر کے لاہور سے گرفتار کیا گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ  ملزم کے قبضے سے ایک موبائل بھی برآمد کیا گیا ہے جو اس  جعلسازی میں استعمال ہوا ہے۔

’اس کے موبائل میں وہ ساری واٹس ایپ چیٹ موجود ہےجو یہ طلبہ کو بھیجتا تھا یا طلبہ اس کو بھیجتے تھے۔‘

انہوں نے بتایا کہ وہ ان طلبہ کو بھی تلاش کر رہے ہیں جو اس سکینڈل میں ملوث ہیں تاکہ قانون کے مطابق جو بھی ان کے خلاف کاروائی بنتی ہے وہ کی جا سکے۔

’لگ بھگ62 سے 65 طلبہ ایسے ہیں جن کی نشاندہی ہو گئی ہے۔اس سلسلے میں مزید تفتیش بھی جاری ہے تو جلد ہی ان کی تصدیق ہو جائے گی۔‘

ارشد رضوی کے مطابق اس میں دوطرح کے طلبہ ملوث ہیں ، ایک وہ جوملزم سے براہ راست پڑھ چکے ہیں اور کچھ ایسے طالب علم ہیں جودیگر اداروں میں پڑھتے تھے لیکن ان کی اس شخص کے طلبہ سے دوستی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ملزم  کے خلاف  پیکا کی دفعہ 3،4،5،13،14،15،16،18،19،23 اور پی پی سی کی دفعہ 419، 420، 468 اور 471 کے تحت مقدمہ درج کرنے کے بعد  عدالت میں پیش کر کے تین روز کا ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے تاکہ جو بھی مزید ثبوت حاصل کرنے ہیں وہ  لیے جا سکیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ملزم نے استاد کے منصب کی توہین کرتے ہوئے طلبہ کو امتحان کے دوران غیر قانونی ذرائع استعمال کرنے میں مدد کر کے بہت سنگین جرم کیا ہے تاہم انہوں نے استاد کے پیشے کا تقدس مدنظر رکھتے ہوئے اس کے ساتھ کسی بھی طرح کا توہین آمیز یا پرتشدد رویہ اختیار نہیں کیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ طلبہ اس کیس میں برابر کے قصور وار ہیں کیونکہ انہوں نے ایک غیر قانونی کام کیا ہے ۔

’اب ان کے خلاف ایکشن کون سا لینا ہے۔ یہ چیزیں تفتیش میں آئیں گی کہ اس میں کون کون ملوث ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کی گئی یاوہ خود اس میں ملوث ہوئے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان بھی اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ اس غیرقانونی سرگرمی میں ملوث طلبہ کے پیپر کینسل کیے جائیں یا ان کی سی اے کی رجسٹریشن ہی کینسل کردی جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس