تحریک عدم اعتماد: کیا آئینی خلا عمران خان کو بچا سکتا ہے؟

پاکستان میں انتخابات و پارلیمانی امور کے تجزیہ کار احمد بلال محبوب کے مطابق موجودہ صورت حال میں نئے وزیراعظم کو منتخب کرنے کے لیے آئین میں کوئی مدت نہیں رکھی گئی ہے۔

17 فروری 2022 کی اس تصویر میں  وزیراعظم عمران خان اسلام آباد میں  مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس سے ملاقات کے موقع پر (فائل فوٹو: وزیراعظم عمران خان    آفیشل فیس بک پیج)

پاکستان میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے موجودہ وزیراعظم کو آئینی طریقے سے ہٹا کر نئے وزیراعظم کے انتخاب کی باتیں زبان زد عام ہیں لیکن اسی آئینی طریقے میں نئے وزیراعظم کے انتخاب کی کوئی مدت طے نہیں کی گئی ہے، جسے آئین میں ایک خلا اور موجودہ وزیراعظم کے زیادہ عرصے تک عہدے پر رہنے کا راستہ بھی کہا جا رہا ہے۔

پاکستان میں انتخابات و پارلیمانی امور کے تجزیہ کار اور ادارے پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پیش ہونے کے بعد وزیراعظم کا انتخاب کرنے کے لیے سب سے پہلے کاغذات نامزدگی چھاپے جائیں گے۔ ان کی سکروٹنی (جانچ پڑتال) ہوگی اور اس دوران امیدواروں کی فہرست بھی سامنے آجائے گی، جس کے بعد ووٹنگ کے ذریعے 172 ووٹوں سے امیدواروں کا چناؤ ہوگا۔‘

احمد بلال محبوب کے مطابق: ’اگر مطلوبہ تعداد کسی بھی امیدوار کو نہیں مل پاتی تو پھر جو ابتدائی دو امیدوار ہوں گے ان کے درمیان مقابلہ ہوگا جو ایک دلچسپ مرحلہ ہے اور اس میں 172 کی شرط بھی پوری نہیں کرنی پڑتی بلکہ اس کے لیے تمام ارکان اسمبلی کی اکثریت چاہیے ہوتی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ قابل ذکر بات یہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں نئے وزیراعظم کو منتخب کرنے کے لیے آئین میں کوئی مدت نہیں رکھی گئی، جو کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے لیے خود کو بچانے کا آخری سیاسی حربہ ثابت ہوسکتا ہے۔

بقول احمد بلال محبوب: ’ہمارے آئین کے اندر یہ ایک خلا ہے۔ نئے انتخابات کے برعکس جس میں نئے وزیراعظم کو منتخب کروانے کی مدت 21 دن ہے، عدم اعتماد کی تحریک چلنے کے بعد وزیراعظم کے انتخاب کی مدت کے حوالے سے آئین میں کوئی وضاحت وقواعد نہیں ملتے۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’ایسی صورت میں صدر کو اجلاس بلانا ہوگا جو کہ ان کی صوابدید پر ہے۔ اس دوران جب تک نئے وزیراعظم منتخب نہیں ہوتے صدر پرانے وزیراعظم کو کام جاری رکھنے کی اجازت دینے کا اختیار رکھتے ہیں۔‘

جب انڈپینڈنٹ اردو نے ان سے پوچھا کہ کیا حزب اختلاف اور حکومت اس نقطے سے آگاہ ہوں گے تو انہوں نے کہا کہ دونوں جانب سے قانونی مشیران وماہرین اس اہم نقطے سے ضرور باخبر ہوں گے، تاہم انہوں نے کہا کہ ’عمران خان کی حکومت کے لیے یہ کوئی زیادہ حوصلہ افزا بات نہیں ہے کہ جب آدھے سے زیادہ ارکان وزیراعظم پر عدم اعتماد ظاہر کردیں، اس کے بعد ان کا عہدہ نہ چھوڑنا باعث شرمندگی ہوگا۔‘

احمد بلال محبوب کے مطابق: ’البتہ نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے مدت کا نقطہ ایک چیلنج ہے اور عمران خان اس پر حزب اختلاف کو تنگ کرنے کے ساتھ ساتھ اگلے الیکشن کے لیے کچھ تھوڑے بہت فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ پیر (28 مارچ) کو ہونے والے قومی اسمبلی اجلاس میں متحدہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پیش کی تھی۔ 

 قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے قرارداد پیش کرنے کی اجازت طلب کی اور اس کے بعد ایوان میں گنتی کا عمل شروع ہوا۔ اس موقع پر ایوان میں 161 ارکان نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر قرارداد کی منظوری دی جس کے فوراً بعد ہی ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے تحریک عدم اعتماد پر مزید بحث کے لیے اجلاس جمعرات (31 مارچ) تک ملتوی کر دیا۔

ساڑھے تین سال حکومت یا اپوزیشن بہتر تھی؟

اس آئینی خلا سے قطع نظر کارکنان پی ٹی آئی کے غلط فیصلوں کو اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں اور تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں اپوزیشن میں آکر کارکردگی دکھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔

2013 میں پی ٹی آئی کے چیئرمین اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے جب سیاسی افق پر اپنی سرگرمیاں تیز کیں تو نہ صرف ملک بھر سے بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی ان کا ساتھ دیا، جس میں زیادہ تر نوجوان تھے۔

کئی نوجوانوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے عمران خان کا ساتھ دینے کے لیے اپنی جیب سے رقم خرچ کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا، تاہم جب عمران خان وزیراعظم بن گئے تو ان کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان سے ناراض ہوئی جو وقتاً فوقتاً سوشل میڈیا پر اس کا ذکر کرتے رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان ہی میں سے ایک سید تجمل حسین شاہ ہیں جو پی ٹی آئی کے لیے کارڈف سے پاکستان آئے اور پشاور میں پی کے پانچ کے حلقے میں صدر کے فرائض سنبھال لیے۔ انہوں نے عمران خان سے ناراضگی کی وجہ بتاتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’عمران خان کا اپنے وعدوں سے انحراف میرا پی ٹی آئی کو چھوڑنے کا سبب بنا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ روایتی سیاست نہیں کریں گے، لیکن پھر وہ پرویز خٹک، شاہ محمود قریشی، نور عالم جیسے کئی دیگر کو لے آئے اور کہا کہ وہ الیکٹیبلز کے بغیر وزیراعظم نہیں بن سکتے۔‘

تجمل حسین نے کہا کہ ’لوٹوں‘ کو اپنی پارٹی میں شامل کرکے عمران خان نے خود کو جو نقصان پہنچایا اس کا خمیازہ وہ آج بھگت رہے ہیں۔

تجمل کے بقول: ’میرے جیسی سوچ رکھنے والوں کا یہ موقف تھا کہ وزیراعظم بننے میں تاخیر ’لوٹوں‘ کو ٹکٹ دینے سے بہتر ہے۔ کم از کم اپنے بندے تو وہ لے آئیں گے۔ لیکن پھر انہوں نے این اے تین سے ایم این اے ساجد نواز جیسے مخلص لیکن غریب ورکر پر 2018 میں نور عالم خان کو فوقیت دی۔ یہ وہ ساجد نواز تھا جو 2014 میں پشاور سے پیدل اسلام آباد دھرنے میں شامل ہونے کے لیے گیا تھا اور جس کے پاؤں میں چھالے پڑگئے تھے۔‘

سید تجمل حسین شاہ نے مزید کہا کہ ’عمران خان کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ ازسر نو اپنے پرانے وعدوں کا جائزہ لیں اور اسی پر کاربند رہتے ہوئے اپنے ناراض کارکنان کو منا لیں تو وہ اپوزیشن میں رہ کر زیادہ بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔‘


نوٹ: بعض تکنیکی مسائل کی وجہ سے ہماری ویب سائٹ پر کچھ لفظ درست طریقے سے دکھائی نہیں دے رہے۔ ہم اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔  

ادارہ اس کے لیے آپ سے معذرت خواہ ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست