چین میں آیا پھیکا رمضان

چین میں اگر کوئی روزے رکھنا چاہے یا اپنی زندگی اسلامی اصولوں کے مطابق گزارنا چاہے تو اس کی راہ میں سوائے خود اس کے کوئی اور نہ ہوتا ہے اور نہ آسکتا ہے۔

ایک چینی مسلمان خاتون بیجنگ میں افطاری کا سامان رکھ رہی ہے (اے ایف پی فائل فوٹو) 

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے کلک کیجیے

 

چین میں غالباً یہ میرا آخری رمضان ہے۔ چین آنے سے قبل میں نے جو رمضان کی رونقیں پاکستان میں دیکھی تھیں وہ یہاں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملیں۔

روزہ رکھنا آسان تھا۔ اکیلی تھی۔ جب چاہتی سوتی تھی، جب چاہتی جاگتی تھی۔ کچھ بھی کھانا ہو بنا لیا یا پھر منگوا لیا۔

لیکن میں نے ایسا رمضان پہلے کبھی نہیں گزارا تھا۔ آزادی تھی پر رمضان کے ہونے کا احساس نہیں تھا۔ سحری اور افطاری کے وقت کی ہلچل نہیں تھی۔

سحری کے وقت سائرن کی آواز نہیں تھی۔ اذان کی کمی تو خیر چین آنے کے ہفتے بعد ہی محسوس ہونا شروع ہوگئی تھی۔

فون پر کچھ ایپس ڈاؤن لوڈ کر لی تھیں۔ ان پر نمازوں کے اوقات اور سحری و افطاری کے اوقات آ جاتے تھے۔ ان کے مطابق ہر کام کر لیتی تھی۔

کچھ دوست بنے تو ان کے ساتھ کھانا پینا شروع کر دیا۔ اس سے ذرا سا رمضان کا احساس ہو جاتا تھا۔

پاکستان سمیت دیگر مسلم اکثریتی ممالک میں رمضان میں ریستوران افطار سے کچھ دیر قبل کھلتے ہیں اور سحری تک کھلے رہتے ہیں۔ یہاں ریستوران چاہے بیجنگ میں ہوں یا مسلم اکثریتی شہر لانجو میں، ان کے اوقات پہلے جیسے ہی رہتے ہیں۔

چینی دوپہر کا کھانا 11 بجے اور رات کا کھانا پانچ بجے کھاتے ہیں۔ چینی ریستوران صبح 10 بجے کھلتے ہیں اور رات نو بجے کے بعد بند ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

یہاں سحری تو خود کرنی پڑتی ہے کہ اس وقت سب کچھ بند پڑا ہوا ہوتا ہے۔ افطاری اگر باہر کرنا چاہیں تو خود ہی افطار کے وقت اپنے پسندیدہ ریستوران چلے جاتے ہیں اور کھانا آرڈر کر دیتے ہیں۔

اچھی بات یہ ہے کہ عام چینی دوسروں کا احترام کرنا جانتے ہیں۔ اگر کسی کو مدد کی ضرورت ہو اور وہ اس کی مدد کر سکتے ہوں تو ضرور کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چین میں گزرا میرا پہلا رمضان قدرے مشکل تھا۔ یونیورسٹی ہاسٹل کا باورچی خانہ رات 11 بجے بند ہو جاتا تھا۔ افطاری تو بنا لیتے تھے۔ سحری کا کیا کرتے۔

کھانا تو بنا ہوتا تھا لیکن اسے گرم کرنے کے لیے باورچی خانے کی ضرورت تھی۔ کچھ مسلمان طالب علموں نے مل کر ہاسٹل انتظامیہ سے بات کی تو انہوں نے ہمارے لیے رات کو سحری کے اوقات میں باورچی خانہ کھولنا شروع کر دیا۔

اس کے بعد ہر سال وہ رمضان سے قبل خود ہی مسلمان طالب علموں کو بلا کر بتا دیتے ہیں کہ وہ ان کے لیے رمضان میں رات کو باورچی خانہ کھولا کریں گے۔

وہ اس کا استعمال مکمل خاموشی سے کریں تاکہ ہاسٹل میں موجود دیگر طالب علم ان کی وجہ سے پریشان نہ ہوں اور اپنے کام کے دوران وہاں صفائی کا خاص خیال رکھیں تاکہ صفائی کرنے والوں پر ان کی وجہ سے کام کا اضافی بوجھ نہ پڑے۔

مسجد کی بات کریں تو چین کے ہر علاقے میں مساجد موجود ہیں۔ جو وہاں جانا چاہیں جا سکتے ہیں۔ حلال ریستوران اتنے ہیں کہ انہیں ڈھونڈنے کی بھی ضرورت پیش نہیں آتی۔

جو خود کھانا بنانا چاہیں وہ اپنی قریبی مارکیٹ سے حلال گوشت اور حلال مصنوعات خرید سکتے ہیں۔ اپنے ملک میں ملنے والی کوئی مخصوص شے خریدنی ہو تو اس کے لیے علی بابا کے آن لائن پلیٹ فارم ’تاؤ باؤ‘ پر چلے جائیں۔ وہاں دنیا میں فروخت کی جانے والی پر چیز مل جاتی ہے۔

یعنی چین میں اگر کوئی روزے رکھنا چاہے یا اپنی زندگی اسلامی اصولوں کے مطابق گزارنا چاہے تو اس کی راہ میں سوائے خود اس کے کوئی اور نہ ہوتا ہے اور نہ آ سکتا ہے۔

لیکن جس دن اس نے اسلامی اصولوں کے تحت زندگی گزارنے کی خواہش اپنے علاوہ کسی اور کے لیے بھی کر لی اور اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے کوششیں بھی شروع کر دیں، اس دن سے اس پر چین میں زندگی تنگ پڑنا شروع ہو جائے گی۔

چینی نوجوان مذہب سے خاصے دور معلوم ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی میں مذہب بس نام کی حد تک موجود ہے۔ چینی مسجدوں میں جانا ہو تو وہاں ڈھونڈے سے بھی کوئی نوجوان نظر نہیں آتا۔

چینیوں کے لیے رمضان صرف کھانے پینے کے اوقات میں تبدیلی کا نام ہے۔ جو لوگ روزہ رکھتے ہیں وہ اپنا دو وقت کا کھانا صبح سحری اور شام کو افطاری کے اوقات میں کھا لیتے ہیں۔

ہماری طرح سحری میں دہی اور افطاری میں پکوڑے سموسے جیسی کوئی چیز ان کے ہاں نظر نہیں آتی۔

ہاں، تربوز ان کی افطار کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔ بیجنگ کی سب سے بڑی اور قدیم ترین مسجد جسے ’نیو جی مسجد‘ کہا جاتا ہے، ہر سال رمضان میں مسلمانوں کے لیے افطاری کا انتظام کرتی ہے۔

اس افطاری میں روزہ داروں کو چینی چائے کے ساتھ کھجوریں، چینی مٹھائیاں، اور تربوز کی قاشیں کھانے کے لیے پیش کی جاتی ہیں۔

کھانے میں وہی نوڈلز اور چاول۔ شمالی چین میں نوڈلز پسند کیے جاتے ہیں جبکہ جنوبی چین میں زیادہ تر چاول کھائے جاتے ہیں۔

چینی قانون کے مطابق چین کے تمام شہری اپنے مذہب کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے کے لیے آزاد ہیں۔

چینی حکومت کی طرف سے مذہب پر کچھ پابندیاں محسوس ہوتی ہیں لیکن جیسے چینی دیگر معاملات میں چینی حکومت کی طرف سے عائد پابندیوں کا توڑ نکال لیتے ہیں، اس طرح اس معاملے میں بھی اگر چاہیں تو کوئی نہ کوئی حل ڈھونڈ ہی سکتے ہیں۔

باقی معاملہ خدا اور اس کے بندوں کے درمیان رہ جاتا ہے۔ اسے وہیں رہنے دیتے ہیں۔

رمضان مبارک۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ