منقسم کشمیری سوشل میڈیا کے ذریعے جڑ رہے ہیں

سوشل میڈیا نے سرحد پار کشمیری خاندانوں کے بیچ پائی جانے والی لکیر تو مٹا دی ہے مگر اصل لائن آف کنٹرول والی لکیر کب بےمعنی ہو گی؟

ایک کشمیری دکاندار تین جون 2022 کو سری نگر میں اپنی دکان کے باہر (اے ایف پی)

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے کلک کیجیے

 

ڈیجٹیل ٹیکنالوجی نے مختلف ممالک کے بیچ سرحدوں کو بغیر کسی جنگ یا تکرار کے مسمار کر دیا ہے۔

اسی ٹیکنالوجی کا فائدہ سرحد پار رہنے والے وہ خاندان بھی اٹھا رہے ہیں جو برصغیر کے بٹوارے کے وقت ایک دوسرے سے بچھڑ گئے تھے بالخصوص جموں و کشمیر کے منقسم وہ لاکھوں خاندان جو آج کل سوشل میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑ رہے ہیں اور ملاقات یا مباحثوں سے قربت کے لمحات حاصل کرنے لگے ہیں۔

ڈیجٹیل ٹیکنالوجی کا کمال ہے کہ اس نے ویزا یا سفری اجازت کو بے معنی قرار دے دیا ہے۔

2008 میں جب لائن آف کنٹرول کے اسلام آباد پر سرحد کھول کر دونوں کشمیروں کے بیچ میں تجارت شروع کی گئی تھی تو کشمیریوں نے پہلی بار سکھ کا سانس لیا تھا، مگر اس وقت بھی عام لوگوں کو اپنے بچھڑے خاندانوں سے ملنے کی اجازت نہیں ملی۔

میں نے اس وقت بی بی سی کی وساطت سے سیٹلائٹ فون کے ذریعے دس سے زائد خاندانوں کو 50 برسوں کے بعد پہلی بار ملایا تھا۔ ہزاروں بچھڑے خاندانوں کو ملانا ناممکن تھا مگر سوشل میڈیا نے اب یہ کام اتنا آسان کر دیا ہے کہ بیشتر خاندان ایک دوسرے سے نہ صرف جڑ گئے ہیں بلکہ دونوں طرف کے سیاسی حالات کا ادراک بھی رکھنے لگے ہیں۔

آج کل ایسا کوئی دن ہی گزرتا ہے کہ جب پاکستان اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے لوگ سوشل میڈیا کی سپیسز میں نہیں ہوتے اور زندگی کے ہر موضوع کو آپس میں نہیں کنگھالتے۔

گو کہ سوشل میڈیا نے ان منقسم خاندانوں کو بات چیت کی حد تک ایک دوسرے سے ملایا اور 70 برسوں کی دوری کو مٹا دیا، مگر دیکھا گیا ہے کہ ان سپیسز میں اکثر سیاسی لوگ اپنا ایجنڈا لے کر آتے ہیں۔ بعض مرتبہ تلخ کلامی یا نظریاتی اختلافات کے باعث ان سپیسز کو بند بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیریوں کے مقابلے میں وادی کے لوگوں کی تعداد سوشل میڈیا پر کم نظر آتی ہے جس کی وجہ کشمیری روزنامے کے ایک ایڈیٹر نے بتائی کہ ’بھارتی حکومت کلب ہاؤس اور ٹوئٹر سپیسز کو ریکارڈ کرا کے بعد میں ان لوگوں کی شناخت کر کے انہیں ہراساں کرتی ہے جس کے درجنوں معاملات منظر عام پر آ چکے ہیں، تقریباً ایک درجن نوجوانوں کو پوسٹ شیئر کرنے پر گرفتار بھی کیا گیا۔‘

یورپ اور بیرون ملک رہنے والے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے چند سرکردہ سیاسی کارکن ان سپیسز کا خاصا اہتمام کرنے لگے ہیں جو ہندوستان اور پاکستان سے مکمل آزادی کی حمایت کرتے ہیں۔ وہ اپنے بیانیے کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش میں بھارت کے بعض لوگوں کی حمایت بھی حاصل کرچکے ہیں جن میں چند کشمیری پنڈت شامل ہیں۔

سپیسز میں شامل سنتوش کشمیری کہتے ہیں کہ ’دونوں کشمیر کے عوام کو اپنی راہ خود متعین کرنی ہو گی کیونکہ دونوں ممالک نے کشمیر کو جنگ و جدل کا اکھاڑہ بنایا ہے، سوشل میڈیا کشمیریوں کو یکجا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، بجائے ایک دوسرے پر قبضہ کرنے سے بہتر ہے کہ کشمیریوں کو اپنا مسلۂ حل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔‘

ان کے ردعمل میں مظفر آباد کے سماجی کارکن راجہ بشارت کہتے ہیں کہ ’برطانیہ میں آباد بعض سیاسی کارکن اب بھارت کی زبان بولنے لگے ہیں۔ وہ نریندر مودی اور امت شاہ کی طرح ’آزاد کشمیر‘ کو ’پاکستانی مقبوضہ کشمیر‘ کہتے ہیں اور سپیسز میں موجود افراد کو ایسا کہنے پر مجبور کرتے ہیں جس سے ان کے ہینڈلرز کا پتہ چلتا ہے۔‘

برطانیہ میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے تقریباً پانچ لاکھ افراد رہتے ہیں جو بیشتر پاکستان سے الحاق کے حامی ہیں مگر دونوں ممالک، ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے کے خلاف بعض افراد کو استعمال کر کے پروپیگنڈا بھی کرواتے رہتے ہیں۔ اس کی بے شمار مثالیں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر، گلگت بلتستان میں ملتی ہیں جہاں بیرون مملک آباد بعض افراد کا نام یورپی یونین کے ڈس انفولیب میں شامل کیا گیا تھا۔

وادی سے بی جے پی کے چند کشمیری کارکن ہندوستان سے مکمل ضم اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو واپس جموں و کشمیر سے ملانے کی مہم چلا رہے ہیں جنہیں اکثر ان سپیسز میں ہزیمت سے گزرنا پڑتا ہے۔

آزادی یا پاکستان نواز کشمیری سپیسز میں اپنا نام بدل کر شامل ہوتے ہیں تاکہ وہ گرفتاری یا ہراساں ہونے سے بچ جائیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بھارت کی چند ریاستوں میں ایسے چند کشمیریوں کو پولیس نے گھیر لیا جو ان سپیسز میں بھارت مخالف یا بی جے پی مخالف بات کرنے کے مرتکب قرار دیے گئے ہیں۔

کوٹلی کے ایک سرکردہ سیاسی کارکن نے ایک سپیس میں کہا کہ ’پاکستان کے حکام بھی ایسے افراد کو گھیرنے یا دبانے کی کوشش میں ہوتی ہیں جو مکمل آزادی کی بات کرتے ہیں۔‘

تارکین وطن کشمیری سوشل میڈیا کے ذریعے تاریخ سے لے کر مسئلہ کشمیر اور اس کے حل کے بارے میں تجزیہ نگاروں، دانشوروں اور مختلف نظریہ فکر کے لوگوں کو دعوت دے کر ان کی آرا سے عوام کو واقف کرانے لگے ہیں جس کا ذکر مین سٹریم میڈیا پر تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

حال ہی میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر حکومت کے سرکردہ رہنماؤں، حریت کے رہنماؤں، مصنفوں سمیت بھارتی جاسوس ادارے کے سابق سربراہ کو بھی کشمیر کے مسئلے پر بات کرنے کی دعوت دی گئی تھی جس میں آر پار کشمیریوں نے بلاجھجھک کے تاریخ کے تناظر میں مختلف نظریات کی تشریح کی۔

وادی سے تعلق رکھنے والے بعض تاجروں نے شکایت کی کہ ان کی سپیسز کو ریکارڈ کر کے ان سے پھر تفتیش کی جاتی ہے۔ اسی سبب انہوں نے غیر سیاسی موضوعات پر اپنی بات کرنے کی صلاح دی۔

جموں و کشمیر کی ایک کروڑ 20 لاکھ آبادی میں اس وقت تقریباً 90 لاکھ افراد کے پاس موبائل فون ہے جن میں 70 لاکھ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔ دو درجن سے زائد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز موجود ہیں، البتہ 90 فیصد صارف فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام کا استعمال کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر سپیسز میں آنے کے بعد اکثر نوجوان اپنا اکاونٹ ڈیلیٹ کرتے رہتے ہیں تاکہ پولیس کی جانب سے فون چیک ہونے کے دوران اس کا پتہ نہ لگ سکے۔

وادی کے ایک سابق پولیس افسر نے مجھے بتایا کہ ’سوشل میڈیا پر موجودگی کے باعث کئی بندوق برداروں کے خفیہ اڈے کا پتہ چلایا جاتا ہے جہاں پھر سیکورٹی فورسز کا گھیراو ہوکر انہیں ہلاک کیا جاتا ہے۔‘

سوشل میڈیا نے سرحد پار کشمیری خاندانوں کے بیچ پائے جانے والی لکیر کو تو مٹا دیا ہے مگر زمین پر پائی جانے والی لائن آف کنٹرول والی لکیر کو کیا کبھی بے معنی بنایا جائے گا یہ شاید دو کروڑ عوام کا وہ خواب ہے جس کو موجودہ حالات میں شرمندہ تعبیر کرنا ناممکن لگ رہا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر