شندور میلے سے واپسی پر پھنسے سیاح بحفاطت نکل آئے

اٹھارہ گھنٹے سیلابی ریلے کی وجہ سے راستے میں پھنسے رہنے والے کچھ مسافروں نے اپنی گاڑیوں میں جب کہ دیگر، جن کے پاس ٹینٹ تھے، انہوں نے خیمے لگا کر رات گزاری۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع اپر چترال میں شندور فیسٹیول کے  سیاح 18گھنٹے ہرچین علاقے کے پاس سیلابی ریلے کی وجہ سے پھنسے رہنے کے بعد بالآخر پیر چار جولائی کی صبح نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

متاثرہ مسافروں کے مطابق انہوں نے ’اپنی مدد آپ کے تحت خود کو نکالا، اور اپر، لوئر چترال کی انتظامیہ کی جانب سے مدد نہ ملنے پر ان کے خلاف نعرے بھی لگوائے۔‘

پھنسے ہوئے لوگوں میں ایک چترال پریس کلب کے صدر ظہیرالدین بھی تھے، جنہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کوبتایا کہ صبح ساڑھے آٹھ بجے کے قریب پانی کا بہاؤ کم ہوچکا تھا، اور نالے میں کیچڑ کا ملبہ رہ گیا تھا، جس کو مسافروں نے خود صاف کیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ شندور فیسٹیول کی کوریج کے لیے وہاں گئے تھے، اور واپسی پر اپنی ٹیم کے ہمراہ دیگر سینکڑوں لوگوں کے ساتھ ہرچین گاؤں کے پاس پھنس گئے۔

’میلہ ڈیڑھ بجے ختم ہوا، جب کہ سیلابی ریلا ایک بجے آیا تھا۔ یہ انتظامیہ کی غفلت تھی کہ انہوں نے بروقت لوگوں کو آگاہ نہیں کیا، اور نہ ہی لوگوں کی مدد کرنے کے لیے وہاں کوئی سامان یا مشینری بھیجی تھی۔ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت سیلابی ریلے کے ساتھ جمع ہونے والے کیچڑ کو ہٹا کر راستہ صاف کیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ظہیر الدین کے مطابق ’سکیورٹی حکام نے یہ ضرور کیا کہ جو وی آئی پیز اور سرکاری افسران  تھے، سول گاڑیوں کو ایک جانب کرکے پہلے ان کے لیے راستہ بنایا اور پھر باقی لوگوں کو جانے کا اشارہ کیا۔‘

اس بابت انڈپینڈنٹ اردو نے اپر چترال کے ڈپٹی کمشنر منظور آفریدی اور لوئر چترال کے ڈپٹی کمشنر انوارالحق سے رابطہ کرنے کے متعدد بار کوشش کی، لیکن کوئی کامیابی نہ مل سکی۔

دوسری جانب، صحافی ظہیرالدین نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کچھ مسافروں نے اپنی گاڑیوں میں جب کہ بعض جن کے پاس ٹینٹ تھے انہوں نے تمبو لگا کر رات گزاری۔

’ہر کسی کے پاس ٹینٹ نہیں تھے لیکن رات کے وقت موسم خوشگوار تھا۔ ہرچین ایک خوبصورت گاؤں ہے، جہاں پانی کے چشمے بہتے ہیں ، اور کچھ 70 کے قریب گھر بھی ہیں وہاں۔ بعض خواتین کو مقامی لوگوں نے گھروں میں جگہ دی، اور مسافروں کو اپنی استطاعت کے مطابق کھانا بھی دیا۔‘

ظہیرالدین نے کہا کہ دراصل ہرچین کے پاس ایک خشک نالہ ہے، جہاں اکثر اوقات دن کے وقت جب گلیشئیر پگھلنا شروع ہوجاتا ہے، تو شام کے وقت اسی خشک نالے سے اس کا ریلا گزرتا ہے۔

خیبر پختونخوا کے ادارہ  سیاحت وثقافت کے میڈیا ترجمان سعد اویس نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مسئلہ اس وقت بنا جب پہلا ریلا گزرنے کے بعد دوسرا سیلابی ریلا بھی آیا۔

’نہ صرف یہ کہ سیلابی ریلے کی وجہ سے رکاوٹ آگئی تھی، بلکہ یہ ایک سنگل شاہراہ تھی، جس پر گاڑیوں کا رش جب بڑھ گیا، تو اس سے بھی مسئلہ ہوا، اور مسافر دوپہر ڈھائی بجے سے پیر کی صبح تک خوار ہوتے رہے۔‘

سعد اویس کے مطابق دن کے وقت گلیشئیر پگھلنا شروع ہوتے ہیں تو دوپہر کے بعد کسی بھی وقت ریلے کے بہاؤ کا امکان ہوتا ہے۔’جس کا بہاؤ رات کے وقت کم ہونا شروع ہوجاتا ہے، اور فجر تک راستہ صاف ہوجاتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان