پاکستان کے 75 سال: جب چترال نے پاکستان سے الحاق کیا

چترال قلعہ تقسیم ہند سے پہلے آزاد اور شاہی ریاست چترال کا مرکز ہوا کرتا تھا اور یہیں سے پوری ریاست کے امور چلائے جاتے تھے۔

چترال قلعہ تقسیم ہند سے پہلے آزاد اور  شاہی ریاست چترال کا مرکز ہوا کرتا تھا اور اسی قلعے سے پوری ریاست کے امور چلائے جاتے تھے (انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان کے 75 سال پورے ہونے پر انڈپینڈنٹ اردو نے تقسیم ہند کے وقت آزاد ریاستوں پر دستاویزی فلم کی سیریز کا آغاز کیا ہے۔ پہلی کہانی میں جانیے کہ چترال کب اور کیسے پاکستان کا حصہ بنا۔


بلند و بالا پہاڑوں کی گود میں دریائے کنٹر کے کنارے واقع تاریخی چترال قلعہ صدیوں پرانی علاقائی تاریخ کا گواہ ہے، جہاں 74 سال پہلے سابق شاہی ریاست کے حکمران نے تقسیم ہند کے بعد پاکستان سے الحاق کرنے والی پہلی ریاست بننے کا فیصلہ کیا۔

چترال میں 40 کنال کے رقبے پر واقع اس قلعے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے کٹور خاندان کے شاہ دوئم کی حکمرانی میں 1774 میں تعمیر کیا گیا اور تقریباً 140 سال بعد 1911 میں اس پر حکمران شجاع الملک کے دور میں بحالی کا کام کیا گیا۔

قلعے کے وسیع کمپاؤنڈ میں داخل ہوتے ہی ہمارا سامنا پرانے زمانے کی کئی توپوں سے ہوا۔ 

کمپاؤنڈ کے بڑے دروازے کی بائیں جانب کھڑکی نما ایک دوسرا چھوٹا دروازہ ہے۔ ہم نے کھٹکھٹایا تو دروازہ کھول کر سر باہر نکال کر لمبی مونچھوں والے ایک ادھیڑ عمر چوکیدار نے پوچھا: ’کون ہے اور کس سے ملنا ہے؟‘

’ہمارا تعلق میڈیا سے اور مہتر صاحب سے ملنا ہے،‘ میں نے جواب دیا۔ سوال و جواب کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد ہمیں استقبالیہ دفتر میں  لے جایا گیا جہاں پرانے حکمرانوں کی تصاویر دیوار پر نصب تھیں۔

مہتر (چترال کے حکمران) کے سیکرٹری نے فون پر ان سے بات کی اور یوں ہمیں چترال قلعہ دیکھنے اور وہاں عکس بندی کی اجازت ملی۔

چترال قلعہ تقسیم ہند سے پہلے آزاد اور شاہی ریاست چترال کا مرکز ہوا کرتا تھا اور اسی قلعے سے پوری ریاست کے امور چلائے جاتے تھے۔

ہم چونکہ اس ریاست کی تاریخ، تقسیم ہند کے وقت ریاست چترال کے پاکستان کے ساتھ الحاق اور بعد کے چترال کو دیکھنے کی غرض سے گئے تھے، تو سب سے پہلے ہم نے قلعے میں موجود تاریخی جگہوں کو دیکھنے کا فیصلہ کیا۔

سفید کپڑوں میں ملبوس، عینک پہنے، درمیانے قد والے نوجوان مہتر، چترالی شاہی خاندان کے موجودہ جان نشین فتح الملک ناصر نے ہمارا والہانہ استقبال کیا۔

ہم نے فوراً پوچھا: ’بہت توپیں رکھی ہیں، اس کی تاریخ کیا ہے؟‘

ان کا جواب آیا: ’یہ کافی پرانی اور تاریخی توپیں ہیں۔ جب 1919 میں تیسری اینگلو افغان جنگ ہوئی اور ریاست چترال کی فوج نے افغانسان کے کنڑ علاقے میں جگہیں قبضے میں لیں، تو وہاں سے مال غنیمت میں یہ توپیں یہاں لائی گئی تھیں۔‘

توپ خانے پر کنندہ مہر دکھاتے ہوئے فتح الملک ناصر نے بتایا کہ اب بھی آپ کو اس پر افغانستان کی مہر چسپاں نظر آتی ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اس جنگ میں یہاں لائی گئی تھیں اور آج بھی محفوظ حالت میں ہیں۔

ہم نے تعجب سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا کسی زمانے میں چترال افغانستان کا حصہ تھا، تو جواب میں ان کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی اور انہوں نے کہا: ’بالکل بھی نہیں۔ چترال کبھی بھی افغانستان کا حصہ نہیں رہا بلکہ افغانستان کے کچھ حصے جیسے کہ کنڑ ماضی میں چترال کے قبضے میں تھے۔

’چترال مکمل طور پر ایک آزاد ریاست تھی اور اپنی ایک آزاد شناخت رکھتی تھی۔‘

فتح الملک  ناصر کے مطابق بعد میں جب انگریزوں کے دور میں ڈیورنڈ لائن معاہدے پر دستخط ہوئے اور پاکستان اور افغانستان کی حدود الگ کی گئیں، تب سے کنڑ اور دیگر علاقے افغانستان کے حصے میں آئے۔

قلعے میں چلتے چلتے ہم اس تاریخی ہال میں پہنچ گئے جہاں چترال کی تاریخ تصویروں میں محفوظ کی گئی ہے۔

ہال کی طرز تعمیر کافی قدیم تھی اور ان تصاویر کو بہت اچھے انداز میں محفوظ کیا گیا تھا۔ دیواروں پر ریاست چترال کے حکمرانوں کی تصاویر لگی تھیں اور ان کے ساتھ ان مشہور سیاسی رہنماؤں کی تصاویر بھی جو اس قلعے کا دورہ کر چکے ہیں۔

فتح المک ناصر نے بتایا کہ ہال کے ایک حصے میں ریاست چترال کے حکمران بیٹھتے تھے اور خاص مہمانوں سے ملتے تھے۔

یہاں ریاست چترال کے حکمرانوں اور انگریز حکمرانوں سمیت قائد اعظم، علامہ محمد اقبال، کشمیر کے راجہ سمیت مختلف رہنماؤں کی جانب سے بھیجے گئے خطوط فریموں میں لگائے گئے ہیں۔

اسی کمرے میں وہ تاریخی دستاویز بھی موجود تھی جس کے تحت ریاست چترال نے 1948 میں پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا تھا۔

اس خط پر قائد اعظم اور چترال کے اس وقت کے حکمران مظفر الملک کے دستخط ہیں۔

ریاست چترال کی تاریخ

وادی چترال دریائے کنڑ کے، جسے دریائے چترال بھی کہا جاتا ہے، اطراف میں سطح سمندر سے تقریباً پانچ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع خوبصورت وادی ہے جس کو ’گلیشئرز کی وادی‘ اور ’پولو کی وادی‘ بھی کہا جاتا ہے۔ 

پاکستان میں سب سے زیادہ گلیشیئر چترال میں ہیں، جن کی تعداد 600 سے زائد ہے، جبکہ دنیا کے بلند ترین پولو گراؤنڈ میں مشہور زمانہ شندور پولو فیسٹیول بھی یہیں کھیلا جاتا ہے۔

چترال کی سرحد شمال میں افغانستان، مشرق میں پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور جنوب میں ضلع دیر سے ملتی ہے۔ یہ ضلع تقریباً پانچ ہزار سے زائد میل پر محیط ہے، جسے دو اضلاع یعنی اپر اور لوئر چترال میں تقسیم کیا گیا ہے۔

پشاور یونیورسٹی کے ایریا سٹڈی سینٹر کے جرنل میں شائع پروفیسر اسرار الدین کے مقالے کے مطابق چترال کی تاریخ تقریباً 15 سو قبل مسیح پرانی ہے، اور چترال میں ماضی میں کچھ ایسی علاقائی گندم بھی دریافت ہوئی ہے جو ماہرین کے مطابق دنیا کی سب سے پرانی گندم کی قسم ہے۔

مقالے کے مطابق ماضی میں چترال پر فارسی سلطنت نے تقریباً 500 قبل مسیح میں حکمرانی کی تھی اور یہی وجہ ہے کہ اس علاقے کے لوگوں اور ثقافت میں آج بھی فارسی ثقافت کے اثار نمایاں ہے جیسے آگ کو مقدس سمجھنا۔

اسی طرح بدخشان، افغانستان کا صوبہ جو ماضی میں چترال کا حصہ ہوتا تھا، میں آج بھی چترال کے لوگ فارسی بولتے ہیں جبکہ چترال میں زیادہ بولی جانے والی زبان ’خوار‘ میں بہت الفاظ بھی فارسی کے ہیں۔

مقالے کے مطابق اس کے بعد چترال میں ہندو کنشک سلطنت نے دوسری صدی میں حکمرانی کی جس کے حکمران کوشان ہوا کرتے تھے اور یہ حکمران شمالی ہندوستان سمیت پامیر پاس تک پہنچ گئے تھے اور وہاں پر حکمرانی کرتے رہے۔

تاہم تیسری صدی میں کوشان سلطنت ختم ہوگئی اور ’ہن‘ نامی سلطنت نے حکمرانی شروع کی جو پانچویں صدی تک ایران کی سرحد سے لے کر چین کی سرحد تک حکمرانی کرتی رہی۔

ساتویں صدی میں مغربی ترکوں نے ہن سلطنت کے علاقے پر قبضہ کرنا شروع کیا جبکہ چین نے دوسری جانب سے قبضہ شروع کیا۔ لیکن ساتویں صدی کے بعد چین کا کنٹرول ان علاقوں پر کمزور ہوتا گیا اور ان پر کاشغر کا مقام بند کیا گیا جبکہ ہندو کش روڈ کو اس وقت عرب جنرل قتیب نے بند کیا۔

مقالے کے مطابق اس وقت دونوں چین اور عرب جرنیلوں کے مابین امن معاہدے کی بات بھی ہوگئی تھی تاکہ پامیر پاس کو چین کے لیے کھول دیا جائے، تاہم ساتویں صدی میں ثمرقند سمیت دیگر اسلامی ریاستوں نے چین کا راستہ روکا کیونکہ چینی اسلامی فوج کے خلاف بر سر پیکار تھے۔

اس وقت، مقالے کے مطابق، سوات کے ادھیانہ کے چیف، بدخشاں کے حکمران اور چترال کے حکمرانوں نے چین کا ساتھ دیا اور یہی وجہ ہے کہ چینی سلطنت کی جانب سے ان علاقوں کے حکمرانوں کو ’بادشاہ‘ کا لقب دیا گیا۔ اس دور میں چترال کے بادشاہ چوئی تھے، جو بعد میں چین کے خلاف ہوگئے تھے۔

مقالے کے مطابق چونکہ بدخشان کے حکمران اس وقت چینی سلطنت کے حمایت یافتہ تھے تو انہوں نے چینی حکمران کو  پیغام بھیجوا کر فوج بھیجنے کی درخواست کی تاکہ چترال کے حکمران چوئی کو سزا دی جا سکے۔

اسی درخواست پر عمل کرتے ہوئے چینی سلطنت نے فوج بھیج کر 749 میں چترال پر حملہ کر دیا، چترال کے اس وقت کے حکمران کو اقتدار سے بے دخل کردیا اور سوچیا کو اس وقت چترال کا بادشاہ مقرر کیا۔

تاہم یہ قبضہ بہت کم عرصے تک تھا اور مقالے کے مطابق عرب نے چین کے جنرل کو 752 میں شکست دی تھی۔ 

کیلاش کی حکمرانی

مہتر فتح الملک ناصر نے چترال کی تاریخ کے بارے میں بتایا کہ چترال پر 11ویں صدی میں کیلاش قبیلے نے حکمرانی کی ہے اور اس وقت اس علاقے میں کافی عدم استحکام کی فضا قائم ہوگئی۔

ایریا سٹڈی سینٹر کے مقالے کے مطابق اپر چترال کے علاقے کاری اور بارانی گاؤں تک کیلاش کی حکمرانی پہنچ گئی تھی جبکہ لوئر چترال، جو حکمران سو مالک کے قبضے میں تھا، گلگت تک پھیلا ہوا تھا۔

اس کے بعد مقالے کے مطابق تاریخ واضح نہیں ہے کہ 14ویں صدی تک چترال کس کے قبضے میں تھا۔ تاہم اس کے بعد افغانسان کے بدخشاں کے حکمران شاہ نادر رئیس نے اس پورے علاقے پر قبضہ کر لیا اور کیلاش حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کردیا، پورے علاقے کو قبضے میں لے کر ’رئیسیہ ہاؤس‘ کی بنیاد رکھ دی اور اس کے بعد اس علاقے میں اسلام تیزی سے پھیلنا شروع ہوگیا۔

مقالے کے مطابق رئیسیہ سلطنت تین صدیوں تک حکمرانی کرتی رہی، اور بعد میں 16ویں صدی میں کٹور خاندان، جس کی بنیاد محترم شاہ نے رکھی تھی، نے چترال پر قبضہ کرلیا۔

کٹور خاندان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ خاندان تیمور لنگ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور تیمور لنگ کے دادا بابا ایوب نے، جو ایک مذہبی شخصیت تھے، اپر چترال کے ایک علاقے میں رہائش اختیار کی تھی۔

بعد میں رئیسیہ خاندان اور کٹور خاندان کے مابین نہ ختم ہونے والی لڑائیاں شروع ہوگئیں اور 1650 تک رئیسیہ خاندان کو تقریباً ختم کیا گیا اور کٹور خاندان نے چترال پر حکمرانی جاری رکھی۔

کٹور خاندان کے دور حکومت میں چترال کے حدود میں افغانستان کے موجودہ علاقے چغان سرائے اور کافرستان بھی شامل تھے اور بعد میں اس ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا، جس میں ایک حصے پر کٹور خاندان کے محترم شاہ اور دوسرے پر ان کے بھائی خوشوخت حکمرانی کرتے تھے۔

مقالے کے مطابق اس کے بعد پورے چترال کو مزید دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ مستوج سے لے کر یاسین تک کا علاقہ خوشوخت کے قبضے میں جبکہ غذر سے لے کر گلگت تک کا علاقہ باروشا نامی حکمران کے قبضے میں آیا۔ تاہم بعد میں کٹور خاندان اور خوشوخت خاندان کے آپس میں بھی تنازعات شروع ہوگئے۔

کٹور خاندان کی سلطنت 1870تک اس وقت قائم تھی جب افغانستان نے قریبی جگہوں پر قبضہ کرنا شروع کیا اور بدخشان کے حکمران کو جلاوطن کر کے چترال میں پنا ہ لے لی۔

اسی وقت چترال کے اس وقت کے حکمران امان الملک نے کشمیر کے مہا راجہ کے ساتھ اتحاد کیا جس پر برطانوی حکمران ناراض تھے اور مہا راجہ کشمیر کو بتایا بھی تھا کہ وہ برطانوی راج سے اتحاد کرے۔

فتح الملک ناصر نے بتایا کہ امان الملک تک عدم استحکام کی فضا قائم تھی اور امان الملک کے زمانے میں ایک آزاد ریاست تھی یعنی چترال نہ افغانستان اور نہ برطانوی راج کا حصہ تھا۔

1879 میں مہا راجہ کشمیر اور چترال کے مابین ایک معاہدے پر بھی دستخط ہوا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ مہا راجہ کشمیر  چترال کو افغانستان کے قبضے سے بچائیں گے۔ اس معاہدے کو ’ کشمیر چترال ٹریٹی‘ کہا جاتا ہے۔

مقالے کے مطابق مہا راجہ کشمیر نے اس وقت چترال کے لیے آٹھ ہزا روپے کی سبسڈی کا اعلان کیا تھا اور بدلے میں چترال کی جانب سے ان کو گھوڑے فراہم کیے جاتے تھے۔

اسی وجہ سے مقالے کے مطابق امان الملک مضبوط ہوگئے اور انہوں نے گلگت سے لے کر افغانستان کے اسمار علاقے تک ریاست قائم کی۔

1885 میں روس اور برطانیہ کے مابین جنگ کے دوران برطانیہ نے چترال کی جانب ایک نمائندہ بھیج دیا تاکہ حالات معلوم کر سکے اور امان الملک کے ساتھ معاہدے کرے۔

فتح الملک نے ہمیں ہال میں موجود کمرے میں لگایا گیا ایک خط بھی دکھایا جو مہتر مظفر الملک نے مہاراجہ کے نام لکھا گیا تھا، جس میں مہاراجہ کشمیر کو مہتر نے بتایا تھا کہ آپ پاکستان کے ساتھ الحق کریں ورنہ آپ کے خلاف فوجی ایکشن لیا جائے گا۔

امان الملک نے برطانیہ کے ساتھ معاہدہ کیا تاہم امان الملک کے بھائی شیر افضل اس معاہدے کے خلاف تھے کیونکہ مقالے کے مطابق وہ سمجھتے تھے کہ اس معاہدے سے چترال کی آزاد حیثیت ختم ہوجائے گی اور یہی وجہ تھی کہ شیر افضل اپنے ساتھیوں سمیت افغانستان چلے گئے۔

ریاست چترال کی بنیاد

اس کے بعد ریاست چترال کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ 1892 میں امان املک کی وفات کے بعد ان کے بیٹے افضل الملک حکمران بن گئے تاہم ان کو بعد میں امان املک کے بھائی شیر افضل نے قتل کردیا۔

اسی دوران امان املک کے دوسرے بیٹے نظام الملک نے، جو اپر چترال کے گورنر تھے، برطانیہ کی حمایت سے  شیر افضل پر حملہ کیا اور ان کو ملک سے بے دخل کردیا۔

تاہم  بعد میں نظام الملک کو اپنے چھوٹے بھائی امیر الملک نے ریاست دیر  کے جندول کے حکمران عمرا خان کی مدد سے قتل کردیا اور یہ وہ وقت تھا کہ وہاں کے پشتون برطانوی راج کے خلاف ہوگئے اور اس بغاوت کی قیادت نواب جندول عمرا خان کر رہے تھے۔

بعد میں نواب جندول نے چترال پر شیر افضل کی مدد سے قبضہ کرنے کی کوشش بھی کی تھی اور 1895میں چترال قلعے کے اندر برطانوی راج کے اہلکاروں اور مہتر شجاع الملک کو، جو اس وقت 14سال کے تھے، 40 دنوں تک محصور بھی کیا گیا،

تاہم بعد میں برطانیہ نے گلگت فورس کی مدد سے چترال قلعے پر حملہ کیا اور قلعے کو واپس قبضے میں لے لیا اور یوں اسی سال جدید ریاست چترال کی بنیاد رکھی گی۔

برطانیہ کی جانب سے 14 سالہ مہتر کو اقتدار سونپنے کے بعد برطانوی راج نے مہتر کو تمام تر اختیارات نہیں دیے بلکہ ان کے ساتھ اپنے گورنرز تعینات کیے جو سرکاری امور چلاتے تھے۔ 1914 میں موجودہ چترال کے حدود کا تعین کیا گیا۔

فتح املک کے مطابق 1936میں شجاع الملک کی وفات کے بعد ان کے بڑے بیٹے ناصر الملک کو مہتر چترال بنایا گیا۔ چترال شاہی خاندان کے موجودہ جان نشین فتح الملک ناصر نے بتایا کہ ناصر الملک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مغربی تعلیم کے دلدادہ تھے۔

انہوں نے بتایا، ’ناصر الملک چترال کے وہ حکمران تھے، جن کے دور میں چترال میں 1939 میں پہلا سکول کھولا گیا تھا۔‘

تاہم ان کی حکمرانی بہت کم عرصے تک جاری رہی اور بعد میں ان کے بھائی مظفر الملک مہتر چترال بن گئے جن کی حکمرانی 1949تک قائم رہی۔ یہ وہ دور تھا جب ریاست چترال نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا۔

الحاق کیسے اور کیوں ہوا؟

فتح الملک ناصر نے بتایا کہ تقسیم ہند کے وقت تمام آزاد ریاستوں کو آپشن دیا گیا کہ یا تو وہ بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کریں۔ چونکہ چترال فتح کے مطابق پاکستان کے حدود میں تھا اور آبادی بھی مسلمان تھی، تو اس وقت کے مہتر مظفر الملک نے خوشی سے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا۔

فتح الملک سے جب پوچھا گیا کہ کیا الحاق کے وقت کوئی چیلنجز تھے، تو ان کا کہنا تھا کہ اس قت چیلنجز  نہیں تھے کیونکہ مہتر کو پتہ تھا کہ الحاق کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے تاہم الحاق کے بعد کچھ لوگوں کی جانب سے مہتر کے خلاف بغاوت کی گئی تھی اور اس میں ہمارے خاندان کے کچھ لوگ بھی شامل تھے۔

فتح الملک نے بتایا، ’ناصر الملک خود پاکستان موومنٹ کے حمایتی تھے اور مسلم لیگ کے سپورٹر تھے۔ ان کا کوئی بیٹا نہیں تھا۔ ناصر الملک سیاسی طور بہت جدت پسند نہیں تھے لیکن ان کو یقین تھا کہ یا تو بھارت یا پاکستان کے ساتھ ہی رہنا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ الحاق کا معاہدہ چترال میں ہوا یعنی پہلا خط قائد اعظم کو بھیجا گیا۔ بعد میں نومبر میں قائد اعظم نے اس پر دستخط کر کے مہتر کو واپس بھیج دیا۔ ’یہ سارا رابطہ ٹیلی گرام کے ذریعے ہوتا تھا کیونکہ اس وقت ٹیلی گرام کا نظام موجود تھا۔‘

الحاق کن شرائط پر کیا گیا، اس کے جواب میں فتح الملک کا کہنا تھا کہ شرائط وہی تھیں  جو ہماری برطانوی راج کے ساتھ تھیں کہ ریاست چترال کی آزاد حیثیت برقرار رہے  گی اور ریاست کے حکمران کو باقاعدہ پروٹوکول حاصل ہوگی۔ اسی طرح  خارجہ امور کے علاوہ باقی تمام وزارتیں ریاست خود چلائے گی۔

فتح الملک نے کہا: ’الحاق کے بعد کچھ سیاسی چیلنجز ضرور تھے اور بعض لوگ کہتے تھے کہ چترال اب چونکہ پاکستان کا حصہ بن گیا ہے، تو آزاد ریاست والا نظام نہیں چلے گا جس میں ہمارے کچھ خاندان کے لوگ بھی ملوث تھے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق یہ ان کے دادا سیف الرحمن کا دور تھا جب بغاوت ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے دادا خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرتے ہوئے ایبٹ آباد چلے گئے، جہاں انہوں نے جدید انتظامیہ کے حوالے سے ٹریننگ حاصل کی۔ مگر بدقسمتی سے واپسی پر لواری پر ان کا جہاز کریش ہوگیا۔

سیف الرحمن کے انتقال کے بعد 1964 میں فتح الملک کے والد سیف الملک چار سال کی عمر میں مہتر بن گئے۔ ’چونکہ میرے والد کم عمر تھے، تو ریاست کے امور پولیٹیکل ایجنٹ چترال چلاتے تھے۔‘

ریاست چترال کے آخری حکمران اور کٹور خاندان کے سیف الملک 2011 میں انتقال کر گئے اور یوں چترال ریاست کا سورج غروب ہوگیا۔

سیف الملک نے ایچسن کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی تھی اور بعد میں پاکستان فارن سروس میں ملازمت کرتے رہے، وہ 1989 میں ہانگ کانگ میں بطور پاکستان کونسل جنرل ریٹائر ہوئے۔

فتح الملک نے بتایا: ’الحاق کے وقت جو شرائط طے ہوئی تھیں ، ان پر عمل نہیں کیا گیا اور بعد میں 1969 میں چترال ریاست کی آزاد حیثیت ختم کر دی گئی۔‘

ان کا کہنا تھا: ’چترال نے پاکستان کو بہت کچھ دیا ہے تاہم اس وقت کی حکومت اپنے وعدوں سے مکر گئی تھی۔چترال ایک آزاد ملک رہا ہے، تو کم از کم چترال کا ایک خاص مقام ہونا چاہیے یا کم از کم یہاں پر ترقیاتی منصوبے ہونے چاہیں۔‘

الحاق سے چترال کو فائدہ یا نقصان ہوا ہے، اس کے جواب میں فتح الملک نے بتایا کہ نقصان اور فائدہ دونوں ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چترال ایک اہم جگہ پر واقع ہے۔ ’چترال نے پاکستان کو ایک ترقی یافتہ معاشرہ دیا ہے۔ جتنے ہمارے گلیشئیرز ہیں، تو یہ پانی بھی پاکستان کے لیے فائدہ مند ہے۔‘

تاہم فتح الملک نے یہ بھی بتایا تھا کہ الحاق سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ اس وقت ریاست کے وسائل اتنے نہیں تھے جبکہ پاکستان کے وسائل زیادہ تھے، تو لوگوں کی زندگیوں میں کافی تبدیلی آئی

مہتر چترال نے ہمیں وہ دربار بھی دکھایا جہاں مہتر چترال بیٹھ کر فیصلے کرتے تھے اور لوگوں کے مسائل سنتے تھے۔

چترال اب کیسا ہے؟

ہم نے اس ویڈیو کی عکس بندی کے لیے چترال میں تین دن گزارے۔جہاں تک ہم نے مشاہدہ کیا تو لوئر چترال میں روڈ انفراسٹرکچر تو کچھ حد تک ٹھیک ہے تاہم اپر چترال میں سڑکیں بالکل نہ ہونے کے برابر ہیں۔

مستوج بونی روڈ جو لوئر چترال کو اپر چترال سے ملاتی ہے بالکل چلنے کے قابل نہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ روڈ پر لینڈ سلائڈنگ ہے۔

آغا خان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ کے اہلکار ولی محمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ چترال کی 23 فیصد آبادی ایسے علاقے میں رہتی ہے جو سیلابوں کے خطرے سے دوچار ہیں جبکہ پورے چترال کی 40 فیصد آبادی کو سیلاب کا خطرہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گلیشیئرز کے پھٹنے سے سیلابوں کا مسئلہ یہاں نہایت سنگین ہے اور اس مقصد کے لیے ہمارا ادارہ حکومت کے ساتھ مل کر کام رہے ہیں۔

2017 کی مردم شماری کے مطابق چترال کی آبادی چار لاکھ 40 ہزار سے زائد ہے۔ یہاں لڑکوں کی خواندگی کی شرح 80 سے زائد جبکہ لڑکیوں کی شرح تقریباً 58 فیصد ہے۔

چترال میں مجموعی طور پر 12 زبانیں بولی جاتی ہیں، جس میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان خوار ہے۔

چترال میں صحت کے شعبے کی اگر بات کی جائے تو ٹرانسپرنسی انٹرنیشل کی 2018 کی رپورٹ کے مطابق چترال کے پرائمری اور سیکنڈری مراکز صحت میں بجلی کی مناسب سہولت دستیاب نہیں، ہسپتالوں میں ادویات اور ڈاکٹروں کی کمی ہے اور ڈاکٹروں کی غیر حاضری بھی بڑا مسئلہ ہے۔

اسی طرح بجلی نہ ہونے کی وجہ سے چھوٹے مراکز صحت میں مشینیں نہیں چلتی اور مریضوں کو مجبوراً ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال ریفر کیا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ