آئی ایم ایف شرائط نہ ماننے کے پاکستان پر کیا اثرات ہوں گے؟

سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا کے مطابق آئی ایم ایف نے باضابطہ طور پر آٹھ سو ارب روپے کے ٹیکسز لگانے کا نہیں کہا ہے۔ فی الحال ان کا مطالبہ ہے کہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو اس سال کے بجٹ میں شامل کیا جائے، لیکن حکومت ایسا کرنے سے قاصر ہے۔

31 اگست 2022 کی اس تصویر میں پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر سکھر میں سیلاب سے متاثرہ افراد  ایک سڑک پر قطار میں کھڑے کھانا لینے کا انتظار کر رہے ہیں (اے ایف پی)

بلال اسلم درآمدات اور مینوفیکچرنگ کے کاروبار سے منسلک ہیں اور انہیں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے بھاری نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے خبر پڑھی کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے حکام نے منی بجٹ سمیت دیگر شرائط پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کا دورہ ملتوی کر دیا ہے۔

ان کا خیال ہے کہ حکومت منی بجٹ لائے گی جس سے بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید بڑھیں گی اور کاروبار کرنا ممکن نہیں رہے گا اور اگر آئی ایم ایف کی شرائط نہ مانی گئیں تو معاشی عدم استحکام بڑھے گا۔

وہ فیکٹری بند کرنے کے حوالے سے سنجیدگی سے سوچنے لگے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی ناکام دکھائی دیتے ہیں۔

’میں ڈار صاحب کو اس وقت کامیاب وزیر خزانہ مانوں گا جب مہنگائی کم ہو گی، درآمدات میں رکاوٹ نہیں ہو گی اور میرا کاروبار ترقی کرے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو میری نظر میں اسحاق ڈار کے دعوؤں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔‘

اس حوالے سے سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ آئی ایم ایف نے باضابطہ طور پر آٹھ سو ارب روپے کے ٹیکسز لگانے کا نہیں کہا ہے۔ فی الحال ان کا مطالبہ ہے کہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو اس سال کے بجٹ میں شامل کیا جائے، لیکن حکومت ایسا کرنے سے قاصر ہے۔

’صورت حال یہ ہے کہ این ڈی ایم اے کے پاس ضلعی سطح پر اعداد و شمار ہی نہیں ہیں کہ کتنا نقصان ہوا ہے اور نہ ہی اس پر رپورٹ تیار ہو سکی ہے۔ این ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر محمد عمر نے قائمہ کمیٹی برائے فنانس میں اعتراف کیا ہے کہ ان کے پاس ضلعی سطح پر نقصانات کے اعداد و شمار نہیں ہیں۔‘

حفیظ پاشا کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے ریویو میں تاخیر آئی ایم ایف کی وجہ سے نہیں بلکہ پاکستانی حکومت کی وجہ سے ہے۔

’آئی ایم ایف کو احساس ہے کہ ملک میں سیلاب سے نقصان ہوا ہے اور اس صورت حال میں ٹیکس اہداف حاصل ہونا مشکل ہیں۔ امید ہے کہ وہ ان حالات میں پاکستان پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالے گا۔‘

دوسری جانب سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر سلیمان شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ آئی ایم ایف کی پانچ بڑی شرائط ہیں، جنہیں پورا کر دیا جائے تو معاملہ آگے بڑھ سکتا ہے۔

’سب سے پہلے پرائمری سرپلس کا حصول ہے۔ دوسری اینٹی کرپشن ٹاسک فورس کا قیام، تیسری سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ، چوتھا تقریباً آٹھ سو ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانا اور پانچویں شرط سیلاب سے ہونے والے نقصان کو موجودہ مالی سال کے بجٹ میں شامل کرنا ہے۔‘

ڈاکٹر سلیمان شاہ کے مطابق: ’یہ کڑوے گھونٹ پاکستان کو پینے پڑیں گے۔ فی الحال معاملہ نااہلی کا ہے۔ سرکاری مشینری متاثرہ علاقوں کے لیے امداد مانگ رہی ہے لیکن یہ نہیں جانتی کہ کس علاقے میں کتنا نقصان ہوا ہے۔ اسی وجہ سے عالمی سطح پر پاکستان کو امداد نہیں مل رہی اور آئی ایم ایف بھی تنگ آ چکا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ فائنل راؤنڈ ہے اور اس میں وہ تمام کام کرنا ہوں گے جو ادھورے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو آئی ایم ایف ریویو نہیں ہو گا اور پاکستان ڈیفالٹ کر جائے گا۔‘

کرنسی ایکسچینج ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جزل سیکرٹری ظفر پراچہ کہتے ہیں کہ کریڈٹ ڈیفالٹ سویپ 75 فیصد سے بڑھ چکا ہے۔ 2006 سے لے کر آج تک ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ نہ ہی بیرونی سرمایہ کاری آ رہی ہے اور نہ ہی مارکیٹ میں ڈالرز موجود ہیں۔

ظفر پراچہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ معاشی صورت حال نازک ہے اور حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اگر آئی ایم ایف سے معاملات جلد طے نہیں ہوں گے تو ڈالر کی قیمت مزید بڑھ سکتی ہے۔

’اسحاق ڈار انتظامی طور پر ڈالر کو زیادہ عرصہ تک قابو نہیں کر سکتے۔ آئی ایم ایف اور حکومتیں سیلاب کے نقصانات کی مد میں کیش نہیں دینا چاہتیں، وہ براہ راست متاثرین کی مدد کرنا چاہتی ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح ماہر معیشت ڈاکٹر فرخ سلیم کہتے ہیں کہ انہوں نے 2010 کے سیلاب کی Damage Need Assessment رپورٹ پر کام کیا تھا، جو کہ بین الاقومی معیار کے عین مطابق تھی، جس کی بنا پر امداد بھی ملی تھیں، لیکن 2022 کے سیلاب میں ابھی تک ایسی کوئی مستند رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے۔ صرف اندازوں پر کام ہو رہا ہے، جو کہ آئی ایم ایف کو قابل قبول نہیں ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ نوواں ریویو انتہائی مشکل ہے۔ پرائمری خسارے کو سرپلس میں بدلنے کے لیے آٹھ سو ارب روپے درکار ہیں۔ یا تو نئے ٹیکسز لگائے جائیں یا نقصان پہنچانے والے اداروں سے جان چھڑوائی جائے۔

’پاکستانی پبلک انٹرپرائزز کا نقصان تقریباً ایک ہزار ارب روپے ہے۔ ان پر کام کر کے حکومت منی بجٹ سے بچ سکتی ہے۔ حکومت کو سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔ بصورت دیگر نئے ٹیکسز لگانے سے معیشت مزید سکڑ جائے گی۔‘

ان کے مطابق پہلے ہی پاکستانی کارپوریٹ سیکٹر پر ٹیکسز دنیا کی نسبت بہت زیادہ ہیں۔ سعودی عرب، چین اور آئی ایم ایف بھی ایک ہی پیج پر ہیں۔ چین نے پہلے بھی قرض اس وقت دیا تھا جب آئی ایم ایف نے گرین سنگل دیا تھا۔

لاہور چمبر آف کامرس انڈسڑی پروگریسو گروپ کے نائب صدر عبدالودود علوی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ تین ہزار کنٹینر بندرگاہ پر پھنسے ہوئے ہیں۔ ایل سی کی ادائیگی کے لیے ڈیڑھ سے دو ماہ انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ ٹیکس اہداف حاصل نہیں ہو رہے۔ اس کی وجہ درآمدات پر پابندی ہے، جس سے برآمدات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

’اگر اس صورت حال میں آئی ایم ایف ریویو نہیں ہوتا تو بزنس کمیونٹی کا کھربوں روپوں کا نقصان ہو جائے گا اور ملک کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔‘

ماہرین اور سٹیک ہولڈرز کی رائے کے پیش نظر یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ ملک کو فوری طور پر بچانے کے لیے آئی ایم ایف کی شرائط ماننا آخری حل ہے اور حکومت اس حقیقت کو جتنا جلدی مان لے ملک کے لیے اتنا ہی بہتر ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ