چمچوں اور کانٹوں سے فن پارے بنانے والے کراچی کے آرٹسٹ

علی چاند کو چمچوں اور کانٹوں کے ذریعے مختلف چیزیں بنانے کا خیال کرونا کی وبا کے دوران آیا۔

آپ نے مصوروں کو مصوری کرتے اور خاکے بناتے دیکھا ہے لیکن کراچی کے علی چاند کھانے کے چمچوں اور کانٹوں کے ذریعے فن پارے بناتے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے علی چاند نے بتایا کہ وہ بچپن سے ہی مصوری کرتے آئے ہیں اور مختلف قسم کے خاکے بھی بناتے ہیں لیکن چمچوں اور کانٹوں کے ذریعے مختلف چیزیں بنانے کا خیال انہیں کرونا کی وبا کے دوران آیا جب ساری دنیا میں ملازمتیں کم ہوگئیں اور بڑی تعداد میں لوگ بیروزگار ہوئے۔

علی چاند گذشتہ 22 سال سے سٹیج ڈیزائن کا کام کرتے تھے، لیکن کرونا میں جب انہیں کام نہیں ملا تو انہوں نے انٹرنیٹ پر آرٹ کے حوالے سے مختلف چیزیں تلاش کیں اور انہیں چمچے اور کانٹے کے ذریعے آرٹ بنانے کا ایک نیا طریقہ ملا، جو انہوں نے سیکھا اور اپنے فن پارے بنانے شروع کیے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ شروع میں انہیں کافی مشکلات پیش آئیں کیوں کہ چمچوں اور کانٹوں کو ویلڈنگ کرنے کا کام انہیں نہیں آتا تھا تو انہوں نے اپنے دوستوں سے ویلڈنگ کرنا سیکھا اور اب وہ خود اکیلے ہی چیزیں بنا لیتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ اب تک تتلی، ڈولفن، ہاتھی، مور، چھوٹے کیڑے، چیونٹی، پھول، مچھلی، بچھو اور دریائی گھوڑا سمیت کافی چیزیں بنا چکے ہیں۔

علی چاند نے مزید بتایا کہ یہ فن دیگر فنون سے زیادہ مشکل اور زیادہ وقت لینے والا ہے اور اس میں سٹیل کی چیزیں بھی کافی مہنگی لگتی ہیں جس کی وجہ سے لوگ پسند تو زیادہ کرتے ہیں لیکن مارکیٹ میں اس کی فروخت بالکل ہی کم ہے۔

ان کے مطابق: ’دو پیس بنانے میں تقریباً ایک دن لگ جاتا ہے اور اگر دو ہیلپر ساتھ ہوں تو ایک دن میں پانچ پیس بن سکتے ہیں۔‘

علی چاند خواتین کے زیورات بھی چمچوں اور کانٹوں سے بنانے کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’دنیا بھر میں فن اور فنکار کی قدر کی جاتی ہے اور ان کی نئی تخلیق کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے لیکن ہمارے معاشرے میں آرٹ اور آرٹسٹ کی کوئی قدر نہیں کی جاتی، جس کی وجہ سے ابھرنے والے آرٹسٹ مایوس ہو کر اس کام کو آگے نہیں بڑھاتے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی فن