امید ہے آئی ایم ایف سے رواں ماہ معاملات طے پا جائیں گے: شہباز شریف

ترکی کے شہر انقرہ میں ایک انٹرویو میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’ہم اب بھی خاصے پر امید ہیں کہ آئی ایم ایف پروگرام طے پا جائے گا۔‘

شہباز شریف ترکی کے تیسری بار منتخب ہونے والے صدر رجب طیب اردوغان کی حلف برداری کے لیے انقرہ میں موجود تھے (فائل فوٹو: وزیراعظم آفس)

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے پیر کو کہا ہے کہ پاکستان ’خاصہ پر امید‘ ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے رواں ماہ معاملات طے پا جائیں گے۔

فروری کے اوائل سے پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ 1.1 ارب ڈالر کے اجرا کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کی جانب سے 2019 میں 6.5 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج پر دستخط کیے گئے تھے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے ترکی کی انادولو نیوز ایجنسی کو انقرہ میں ایک انٹرویو میں بتایا: ’ہم اب بھی خاصے پرامید ہیں کہ آئی ایم ایف پروگرام طے پا جائے گا۔ آئی ایم ایف کے نویں جائزے میں ساری شرائط و ضوابط پوری ہوں گی اور امید ہے کہ اس ماہ کوئی اچھی خبر سننے کو ملے گی۔‘

شہباز شریف ترکی کے تیسری بار منتخب ہونے والے صدر رجب طیب اردوغان کی حلف برداری کے لیے انقرہ میں موجود تھے۔

پاکستان وزیراعظم نے مئی کے آخر میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے منجمد رقم کو بحال کرنے میں مدد کی درخواست کی تھی، تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’پاکستان کے پاس بیک اپ پلان موجود ہے‘۔

شہباز شریف نے انادولو نیوز ایجنسی کو دیے انٹرویو میں کہا ہے کہ ’ہم نے تمام شرائط پوری کر لی ہیں۔ میں دہراتا ہوں، آئی ایم ایف کی ہر ایک ضرورت کو پیشگی اقدامات کے طور پر پورا کیا گیا ہے۔ اس بار آئی ایم ایف کا تقاضہ تھا کہ ان اقدامات کو بورڈ کی منظوری سے پہلے پورا کیا جائے، اس لیے ہم نے ان سے ملاقات کی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو ماضی میں کئی چیلنجز کا سامنا رہا ہے لیکن اگر ضرورت پڑنے پر ’ہم کمر کس کر دوبارہ ابھریں گے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان اپریل 2022 میں ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا کیونکہ اس وقت کی حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی اور معیشت تباہی کا شکار تھی۔

’پھر ہمارے پاس اگست 2022 میں تباہ کن سیلاب آیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں بین الاقوامی صورت حال کی وجہ سے تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کا سامنا رہا ہے۔‘

ملک کے حالیہ سیاسی مسائل اور عمران خان سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم کو ’شدید کرپشن، خراب گورننس، اور وہیلنگ ڈیلنگ‘ (بدعنوانی سے سیاسی فائدہ اٹھانے) جیسے الزامات کا سامنا ہے اور قانون کو اس سے نمٹنا پڑا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ ’وہ (عمران خان) ایک مدت سے، اپنے لوگوں اور اپنے غنڈوں کے ایک گروہ کی ذہنی سازی کر رہے تھے، کہ ان گرفتاری کی صورت میں جب کال دیں تو پرتشدد ردعمل ظاہر کیا جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’عمران خان نے پاکستان کے خلاف انتہائی سنگین اقدام کی منصوبہ بندی کی۔ انہوں نے اپنے لوگوں کو اکسایا اور اس کے بالاتردید شواہد موجود ہیں۔

’جن لوگوں نے شہری تنصیبات پر حملہ کیا ان کے خلاف سویلین قانون کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا اور جن لوگوں نے فوجی تنصیبات پر حملہ کیا اور اداروں کی بے حرمتی کی ان کے خلاف فوجی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔‘

انہوں نے وضاحت کی کہ ’یہ ایکٹ 1951 سے نافذ ہے جو فوجی اہلکاروں کے علاوہ ایسے عام شہریوں پر مقدمہ چلانے کی اجازت دیتا ہے جن کا بعض مجرمانہ کارروائیوں سے ’براہ راست یا بالواسطہ تعلق‘ ہے۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ ’اس ایکٹ کے تحت، ایک بار جج سزا سنانے دے، تو مجرم کے پاس دو بار اپیل کرنے کا موقع ہوتا ہے- ایک ہائی کورٹ میں اور پھر سپریم کورٹ آف پاکستان میں۔‘

ملکی حالات پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’اس پورے عمل کا مقصد‘ انصاف کو یقینی بنانا ہے ’تاکہ پاکستان میں دوبارہ ایسا کبھی نہ ہو۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت