’انڈس کوئین‘: وہ جہاز جس پر کبھی بہاولپور کے لوگ سفر کرتے تھے

138 سال تک نواب آف بہاولپور کے مہمانوں کی سیر و تفریح، شکار اور مقامی افراد کے لیے ریسکیو 1122 کی طرز پر امدای خدمات اور سفری سہولیات فراہم کرنے کے بعد 1995 سے یہ جہاز ناکارہ کھڑا ہے۔

ریاست بہاولپور کے نواب صادق چہارم نے 1857 میں برطانیہ سے اپنے بحری بیڑے کے لیے بڑی کشتیاں منگوائیں، جن میں سے ایک جہاز فتح بہادر، دوسرا دی پرنس اور تیسرا انڈس کوئین تھا۔

تاہم انڈس کوئین نامی یہ جہاز 138 سال تک نواب آف بہاولپور کے مہمانوں کی سیر و تفریح، شکار اور مقامی افراد کے لیے ریسکیو 1122 کی طرز پر امدای خدمات اور سفری سہولیات فراہم کرنے کے بعد 1995 سے ناکارہ کھڑا ہے۔

سرائیکی وسیب کے معروف محقق اور سماجی رہنما مجاہد جتوئی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انڈس کوئین وسیب روہی (سرائیکی بیلٹ) میں پانچ دریاؤں کے سنگم کے مقام پر ریاست بہاولپور کی طرف سے عوام کے لیے ایک شاندار تحفہ تھا۔

’ریاست بہاولپور کا شمار امیر اور خوش حال ریاستوں میں ہوتا تھا اور انڈس کوئین فیری ملتان سے دریائے سندھ میں سمندر تک چلتی تھی۔ پھر دریائے سندھ پر بیراجوں اور دیگر منصوبوں کی وجہ سے اس کا سفر محدود ہو گیا اور قیام پاکستان کے بعد اسے حکومت کے حوالے کر دیا گیا۔‘

مجاہد جتوئی کے مطابق یہ بہت خوبصورت اور کشادہ جہاز نما کشتی تھی، جس میں مردوں اور خواتین کے لیے علیحدہ جگہیں مخصوص ہوتی تھیں، جبکہ اس کی کینٹین میں لذیذ کھانوں کا اہتمام کیا جاتا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا: ’جب یہ جہاز چلتا تھا تو اس کے ساتھ حفاظت کی خاطر دو کشتیاں بھی چلتی تھیں جن میں لائف جیکٹس بھی موجود ہوتی تھیں۔‘

مجاہد جتوئی کے مطابق دریا کے دونوں کناروں پر اس کشتی کے سٹیشنز پر مسافر خانے بھی بنائے گئے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’انڈس کوئین‘ کو 60 سال تک چلانے والے اللہ دتہ موہانہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا: ’میرا تعلق ملاح خاندان سے ہے اور میں نے اپنی جوانی میں ہی اس جہاز پر نوکری شروع کی تھی۔ یہ جہاز بہت آب و تاب کے ساتھ دریائے سندھ میں چلتا تھا، جو مقامی افراد کے لیے آمد و رفت کا بہترین ذریعہ تھا۔

’ڈیزل پر چلنے والے اس جہاز میں بڑے انجن لگے ہوئے تھے۔ یہ ہر روز صبح 10 بجے کوٹ مٹھن سے روانہ ہوتا اور دوپہر دو بجے تک چاچڑان پہنچتا۔‘

انہوں نے بتایا کہ جہاز میں 400 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش تھی اور ان دنوں ٹرین اور سڑک کے راستے میں وقت زیادہ لگنے کے باعث لوگوں کا زیادہ رجحان اسی جہاز کی طرف تھا۔

اللہ دتہ نے مزید بتایا: ’اب اگر کبھی اس جہاز کے قریب سے گزرتا ہوں تو ماضی کی یادیں فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہیں۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔‘

معروف محقق سلمان رشید نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ جہاز 1930 کی دہائی کے آخر میں بہاولپور کے امیر صادق محمد خان عباسی پنجم نے دریائے ستلج میں چلایا اور اسے ’ستلج کوئین‘  بھی کہا جاتا تھا۔  

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ