ژوب حملے پر بیانات: کیا ٹی ٹی پی اندرونی اختلاف کا شکار ہے؟

مبصرین سمجھتے ہیں کہ ٹی ٹی پی اور جماعت الحرار کے مابین اختلافات پہلی مرتبہ اس طرح کھل کر سامنے آئے ہیں۔ تاہم اس کے ترجمان اس سے انکار کرتے ہیں۔

30 مارچ، 2008 کو خار میں ایک جلسے میں طالبان جنگجو نظر آ رہے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان فوج کے مطابق بلوچستان کے علاقے ژوب میں بدھ کو ایک فوجی اڈے پر شدت پسندوں کے حملے میں نو فوجی اہلکار جان سے گئے جبکہ پانچ حملہ آور جوابی کارروائی میں مارے گئے۔

تحریک جہاد پاکستان نامی ایک شدت پسند تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے بیان میں لکھا کہ تنظیم کے پانچ خودکش حملہ آوروں نے ژوب میں فوجی اڈے پر حملہ کیا اور اس کی تفصیل بعد میں جاری کی جائے گی۔

یہ بیان اس تنظیم کے ترجمان مولانا قاسم نے جاری کیا۔ تاہم اس بیان کے بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ڈیرہ اسماعیل خان کے نام نہاد ’گورنر‘ اسد آفریدی نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں ژوب حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی۔

اس ٹوئٹر اکاؤنٹ کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ تاہم شدت پسند تنظیموں پر نظر رکھنے والے صحافی سمجھتے ہیں کہ یہ اکاؤنٹ اسد آفریدی کا ہی ہے جو اس سے پہلے ٹی ٹی پی کے دھڑے کالعدم جماعت الحرار کے سرکردہ رہنما تھے اور احرار کے بانی خالد خراسانی کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک تھے۔

جماعت الحرار نے بعد میں ٹی ٹی پی سے الحاق کا اعلان کیا تھا اور اسد آفریدی کو ڈیرہ اسماعیل خان کا ’گورنر‘ مقرر کیا گیا۔

اسد آفریدی کے ژوب حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد تحریک جہاد پاکستان نے ٹی ٹی پی کی قیادت کے نام ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا کہ ٹی ٹی پی کے لوگ ’شہرت‘ کے لیے وہ حملے قبول کرتے ہیں، جو انہوں نے نہیں کیے۔

تحریک جہاد پاکستان نے اپنے بیان میں لکھا: ’ہم تمام جہادی تنظیموں کی قدر کرتے ہیں لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے آپ کی ( ٹی ٹی پی) تحریک میں شہرت کے پیاسے لوگ قصداً چاہتے ہیں کہ ہمارے درمیان اختلاف پیدا ہو اور اسی وجہ سے ہماری کارروائی پر ٹی ٹی پی ڈیرہ اسماعیل کے کمانڈر نے بیان جاری کیا جبکہ ان کے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں۔‘

اس بیان کے بعد ٹی ٹی پی کے مرکزی شوریٰ نے بیان جاری کرتے ہوئے اسد آفریدی کو عہدے سے ہٹانے اور ژوب حملے سے اظہار لاتعلقی کا اعلان کیا۔

ٹی ٹی پی نے اپنے بیان میں لکھا: ’غلط بیانی کرتے ہوئے اور برادر جہادی تنظیم کی کارروائی کو ٹی ٹی پی سے منسوب کرنے پر اسد آفریدی کو ڈی آئی خان کے عہدے سے ہٹایا جاتا ہے اور ڈی آئی خان کے ڈپٹی والی (گورنر) ابو یاسر کو ان کی جگہ والی مقرر کیا جاتا ہے۔‘

ٹی ٹی پی کی جانب سے ہٹائے جانے کے بعد اسد آفریدی نے اپنے ردعمل میں ایک مفصل بیان جاری کرتے ہوئے پہلی مرتبہ ٹی ٹی پی کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے لکھا کہ تحریک جہاد نامی ’جعلی‘ تنظیم ان کے اندازے کے مطابق ٹی ٹی پی کی بنائی ہوئی ہے کیونکہ اس سے پہلے بھی ان کی کئی کارروائیاں اس جعلی تنظیم نے قبول کی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ژوب حملے کے بعد انہوں نے ٹی ٹی پی کی قیادت سے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا کہا لیکن جب ان کی طرف سے ذمہ داری قبول نہیں کی گئی، تو انہوں نے بحالت مجبوری اس کی ذمہ داری قبول کی۔

بیان کے مطابق: ’ہمیں اس نئی جعلی اور کاغذی تنظیم (تحریک جہاد پاکستان) کے حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا گیا، اس لیے ہمیں اس نئے پالیسی کا پتہ نہیں اور نہ ہی اس تنظیم کے بنائے جانے کے اغراض و مقاصد کا پتہ ہے۔

’اس تنظیم کے بنائے جانے کا واحد مقصد شاید مذاکراتی ڈرامے کو کامیاب بنانے کی کوشش ہے۔‘

بیان میں اسد آفریدی نے جماعت الحرار کے بانی خالد خراسانی کی افغانستان میں مارے جانے کے حوالے سے کہا کہ ’ٹی ٹی پی کی قیادت نے خالد خراسانی کی موت پر مرکزی شوریٰ نے تحقیقات کے لیے اجلاس نہیں بلایا تھا لیکن اس مسئلے پر اجلاس بلا کر اپنی حیثیت کو متنازع اور ہمیں امتیازی برتاؤ کا احساس دلایا ہے او یہ آپس کے تعلقات کے لیے نیک شگون نہیں۔‘

بیان کے آخر میں بتایا گیا کہ ژوب فوجی اڈے پر حملہ ان کے ساتھیوں نے کیا تھا اور وقت آنے پر اس کے ثبوت شائع کیے جا سکتے ہیں جبکہ عہدے سے ہٹائے جانے کے حوالے سے وہ سوچ و بچار اور ساتھیوں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔

ٹی ٹی پی نے تحریک جہاد پاکستان کے بننے کے بعد اس سے پہلے ہی اظہار لاتعلقی کیا ہے لیکن ساتھ میں یہ بھی کہا کہ وہ تمام ’جہادی‘ تنظیموں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

تحریک جہاد پاکستان کیا ہے؟

جہاد و ٹیررزم تھریٹ مانیٹر نامی ادارے کے مطابق تحریک جہاد پاکستان نے فروری 2023 کو ایک ٹوئٹر ہینڈل پر قیام کا اعلان کیا تھا اور مولانا قاسم کو اس کا ترجمان مقرر کیا گیا۔

قیام کے حوالے سے جاری بیان میں اس تنظیم کی اغراض و مقاصد بھی بیان کیے گئے تھے جن میں شیخ الہند محمود حسن دیوبندی کو اپنا جہادی پیشوا مقرر کیا گیا تھا۔

تھریٹ مانیٹر کے مطابق شیخ الہند 1851 میں پیدا ہوئے اور 1920 میں وفات پا گئے تھے جن کو برطانوی حکومت نے برطانوی سرکار کے خلاف لڑائی کے اعلان کے بعد مالٹا میں قید کیا تھا۔

اس کے بعد اس تنظیم نے ٹوئٹر پر 12 مئی کو فرنٹیئر کور کے بلوچستان کیمپ اور اپریل میں خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں ایک زیر تعمیر کالج پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔

اسی طرح 25 اپریل کو سوات کے علاقے کبل میں انسداد دہشت گردی کی مرکز پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

تاہم پولیس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ یہ حملہ دفتر کے مال خانے میں پڑے بارودی مواد میں بجلی کے شارٹ سرکٹ سے ہوا تھا۔

یہ تنظیم عبداللہ یاغستانی نامی شخص کو اپنا رہنما سمجھتی ہے لیکن اس شخص کے حوالےسے تفصیلات میسر نہیں کہ یہ شخص کون ہے اور کیا اس کا ماضی میں کسی تنظیم سے تعلق رہا ہے یا نہیں۔

ٹی ٹی پی، جماعت الحرار اختلافات

مبصرین سمجھتے ہیں کہ ٹی ٹی پی اور جماعت الحرار کے مابین اختلافات پہلی مرتبہ اس طرح کھل کر سامنے آئے ہیں۔ تاہم اس کے ترجمان اس سے انکار کرتے ہیں۔

اس سے پہلے خالد خراسانی کی موت کے بعد بھی بعض خبریں سامنے آئی تھیں کہ ٹی ٹی پی اور جماعت الحرار کے مابین حکومت کے ساتھ پچھلے سال ناکام مذاکرات کے مسئلے پر اختلافات چل رہے ہیں۔

تاہم اب جماعت الحرار کے سابق کمانڈر اسد آفریدی کی مرکزی شوریٰ پر کھل کر تنقید سے مبصرین سمجھتے ہیں کہ یہ اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں۔

تاہم بعض مبصرین سمجھتے ہیں کہ ایک عہدے دار کو ہٹانے سے تنظیم کمزور نہیں ہوگی لیکن یہ ضرور ہے کہ اس کا اثر ہوگا۔

اسلام آباد میں مقیم سینیئر صحافی اور  شدت پسند تنظیموں کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والے طاہر خان نے بتایا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ایک ’گورنر‘ کے ہٹانے سے یہ تنظیم کمزور ہوگی کیونکہ اب ان کی جگہ دوسرے شخص کو لگا دیا گیا ہے۔

’تاہم یہ ضرور ہے کہ اس قسم کے بیانات کا اثر ضرور ہوتا ہے کیونکہ جب اس قسم کے بیانات ایک شدت پسند تنظیم جو اسلام اور جہاد کی بات کرتی ہے کی طرف سے سامنے آتے ہیں تو یہ لوگوں تک پہنچ جاتی ہے اور زیربحث بن جاتی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’جب ایسے بیانات سامنے آتے ہیں تو لوگ ضرور کہیں گے کہ ان کے مابین اختلافات موجود ہیں اور اس بات کی ثبوت تنظیم کے مختلف بیانات کا سامنے آنا ہے۔‘

طاہر خان نے بتایا کہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ تحریک جہاد پاکستان، جو ایک نئی تنظیم بنی ہے اور اس نے ملک میں بڑے بڑے حملے قبول کیے ہے تو واقعی یہ ایک نئی تنظیم ہے یا نہیں۔

طاہر خان نے بتایا کہ تحریک جہاد پاکستان کی طرف سے انہیں بھی ژوب حملے کے بعد پیغامات بھیجے گئے تھے کہ اگر یہ حملہ ٹی ٹی پی نے کیا ہے، تو وہ ثبوت پیش کریں۔

طاہر خان نے بتایا کہ ’اسد آفریدی کی جانب سے ٹی ٹی پی کے مرکزی قیادت کی موقف کو رد کرنا واضح کرتا ہے کہ اختلاف موجود ہیں۔

’اس سے پہلے ٹی ٹی پی ژوب کے نام نہاد گورنر سربکف مہمند بھی ٹی ٹی پی کی مرکزی قیادت کے بغیر بعض حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے تو اس سے لگتا ہے کہ کچھ معاملات ٹھیک نہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پشاور پولیس لائن حملے کے بعد جماعت الحرار کے سابق کمانڈر اور ٹی ٹی پی مرکزی شوریٰ کے رکن عمر مکرم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی لیکن مرکزی ٹی ٹی پی نے رات کو بعد میں اس حملے سے اظہار لاتعلقی کا اعلان کیا۔

طاہر خان نے بتایا کہ ’بعض معاملات ایسے ہیں جس پر ٹی ٹی پی کی جانب سے واضح موقف سامنے نہیں آتا اور جب واضح موقف نہں آتا تو لوگوں کے ذہنوں میں ایسے معاملات پر سوالات ضرور اٹھیں گے۔‘

عبدالسید سویڈن میں مقیم پاکستان اور افغانستان کے شدت پسند تنظمیوں کے بارے میں تحقیق کرتے ہیں اور اس حوالے سے کئی مقالے لکھ چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ٹی ٹی پی کے ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کے لیے ’گورنر‘ اسد آفریدی کی جانب سے بیان اپنے نوعیت کا اہم واقعہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس بیان سے ٹی ٹی پی کے مابین اختلافات بھی میڈیا کے سامنے آگئے کیونکہ اسد آفریدی ٹی ٹی پی کے سابق دھڑے جماعت الحرار کے نائب سربراہ تھے لیکن جماعت الاحرار کے ٹی ٹی پی میں ضم ہونے کے بعد ان کو اہم عہدے دیے گئے تھے۔

عبدالسید نے بتایا کہ ’جہادی تنظیموں میں اندرونی اختلافات ایک معمول کی بات ہے جو ٹی ٹی پی میں بھی شروع سے آرہے ہیں اور اب ایک عرصے بعد اتنی بڑی سطح پر کھل کر سامنے آئے ہیں۔‘

تاہم سید کے مطابق افغان طالبان کے اثر رسوخ اور ٹی ٹی پی کے ایک منظم مرکزی ڈھانچے ہونے کی وجہ سے ان اختلافات کا ماضی کی طرح باہمی قتل و قتال کا شکل اختیار کرنا جیسا کہ 2013 اور 2014 میں ہوا تھا اب ہونا ممکن نظر نہیں آرہا کیونکہ اس حالیہ واقعے سے قبل بھی کچھ معاملات پر اختلافات ان دھڑوں کے مابین آئے ہیں لیکن بات ایک دوسرے کو قتل کرنے تک نہیں پہنچی ہے۔

تحریک جہاد پاکستان کے حوالے سے عبدالسید نے بتایا کہ یہ ایک ’پراسرار‘ تنظیم ہے اور اب تک اس ساخت، قیادت اور ارکان کے حوالے سے زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

ان اندرونی اختلافات پر حکومت کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم اس کا موقف ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کو فوجی کارروائیوں میں کافی کمزور کر دیا گیا ہے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان