پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ: ’روس کا سستا پیٹرول کون پی گیا؟‘

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک بڑے اضافے پر سوشل میڈیا صارفین نے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

30 جنوری، 2023 کو کراچی کے ایک پیڑول پمپ پر موٹر سائیکل صارف پیٹرول بھروا رہا ہے (اے ایف پی)

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آج (منگل) کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ’بڑے‘ اضافے کا اعلان کیا ہے جس پر سوشل میڈیا صارفین غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

اسحاق ڈار نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم آئی ایم ایف کے پروگرام میں ہیں، سب کو پتہ ہے کہ ہم سٹینڈ بائی معاہدے پر ہیں اور اگر آپ کو یاد ہو تو ماضی کی حکومت میں بھی یہی مسائل ہوئے تھے کہ جاتے جاتے انہوں نے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر کیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا تھا بلکہ جاتے جاتے کم کر دیا۔

’سُو ملکی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اس وقت یہی ضروری ہے کہ جو کم سے کم اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس کا اعلان کیا جائے۔ اس طرح ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 90 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا جا رہا ہے، اس کی نئی قیمت 273 روپے 40 پیسے ہو گی۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’پیٹرول کی قیمت میں  19 روپے 95  پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر کے اس کی قیمت 272 روپے 95 پیسے ہو گی جو کہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گی۔‘

وزیر خزانہ کا کہنا تھا، ’حکومت کی پوری طرح خواہش تھی کہ جو بھی ریلیف عوام کے لیے دیا جا سکتا ہو دینا چاہیے اور آپ نے دیکھا بھی کہ ہم نے ایک ہی مرتبہ میں 30 روپے تک کی بھی کمی کی ڈیزل کی قیمت میں لیکن بین الاقوامی ریٹس حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔‘

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک بڑے اضافے پر سوشل میڈیا صارفین نے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

ٹوئٹر صارف شہباز مروت نے اپنی ٹویٹ میں کہا: ’روس کا سستا پیٹرول پتہ نہیں کون پی گیا۔‘
 

ملک اجمل نامی ٹوئٹر صارف نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’ڈار صاحب نے نگران وزیراعظم نہ بنائے جانے کا بدلہ غریب عوام سے لے لیا۔ جاتے جاتے ایک بار پھر عوام کو مہنگائی، بےروزگاری اور افلاس کے جہنم میں پھینک گئے۔  ملکی معیشت پر آپ کے ڈرون حملے لوگوں سے جینے کا حوصلہ چھین رہے ہیں۔ بس کر دیں خدارا۔۔۔۔‘

تنویر عباس نے لکھا کہ ’مہنگائی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ متوسط اور غریب طبقے کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ بجلی اور تیل کی قیمتوں کو جواز بنا کر عوام کی کھال اتاری جا رہی ہے۔‘

 

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت