راولپنڈی: وہ فوجی ہسپتال جو مصنوعی اعضا لگا کر ہنر بھی سکھاتا ہے

راولپنڈی میں واقع اس عسکری ہسپتال میں نہ صرف مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے بلکہ انہیں کارآمد زندگی گزارنے کے لیے ہنر بھی سکھائے جاتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع وزیرستان میں بارودی دھماکے میں ٹانگ کھو دینے والے غلام رسول اب مصنوعی ٹانگ کے سہارے چلتے ہیں اور ری ہیبلیٹیشن سینٹر میں ہی سلائی کا کام بھی سیکھ رہے ہیں تاکہ معاشی ضروریات پوری ہوتی رہیں۔

آرمی انسٹیٹیوٹ آف ری ہیبلیٹیشن سینٹر میں زیرعلاج یہ صرف غلام رسول کی کہانی نہیں بلکہ فوجی کارروائیوں میں اعضا کھو دینے والے ایسے بہت سے اہلکار ہیں، جو یہاں مصنوعی اعضا کے سہارے زندگی گزارتے مختلف ہنر سیکھ رہے ہیں۔

راولپنڈی میں واقع عسکری ادارہ صحت برائے بحالی خصوصی افراد (AFIRM) کا ہم نے دورہ کیا تو اسے دیگر ہسپتالوں سے مختلف پایا۔

لیفٹیننٹ کرنل سائرہ نے بتایا کہ ’یہ مختلف اس لیے ہے کہ یہاں صرف علاج کے علاوہ الیکٹرونک، سلائی کڑھائی اور کمپیوٹر ٹریننگ بھی دی جاتی ہے تاکہ یہ سپاہی جو اب جنگ کے میدان میں لڑ تو نہیں سکتے، سروس ختم ہونے تک اپنی یونٹ میں خدمات سرانجام دیتے رہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ہنر ان کے کام آئے گا تو وہ اپنے خاندان کی معاشی سپورٹ کرنا ممکن بنا سکتے ہیں۔‘

‌لیفٹینیٹ کرنل سائرہ نے بتایا کہ ’عسکری ادارہ صحت برائے بحالی خصوصی افراد بنیادی طور پر جنگ میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کے لیے بنایا گیا تھا جہاں مریضوں کا نہ صرف علاج کیا جاتا ہے بلکہ انہیں معاشرے میں دوبارہ فعال کردار ادا کرنے کے قابل بھی بنایا جاتا ہے۔‌

’یہاں جسمانی اعضا کھو دینے والے فوجی جوانوں کو مصنوعی اعضا کے ساتھ مختلف ورزشیں بھی کروائی جاتی ہیں۔‘

ادارے میں موجود میجر طواب نے بتایا کہ ’مصنوعی اعضا اسی مرکز میں بنائے جاتے ہیں۔ پہلے کچھ اشیا درآمد کی گئیں تھیں اور اسمبلنگ یہاں ہوتی تھی۔ لیکن اب زیادہ تر اعضا مقامی سطح پر ہی تیار کیے جاتے ہیں اور فوج کے ادارے میں ہی تیار ہو رہے ہیں۔‘

انہوں نے لیب میں موجود مصنوعی ہاتھوں، ٹانگوں اور کانوں کے نمونے بھی دکھائے۔‌

ہمیں اس مرکز میں موجود ٹیم نے مزید بتایا کہ ’پہلے کاسٹنگ کر کے ٹانگوں یا ہاتھ بازوؤں کی پیمائش کی جاتی تھی تاکہ اسی ناپ پر مصنوعی اعضا تیار کیے جائیں لیکن اب جدید مشینوں اور لیزر کی مدد سے پیمائش کر کے سانچا تیار کر لیا جاتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ہاتھ کی انگلیاں پہلے باہر سے درآمد کی جاتی تھیں لیکن چونکہ ایشیائی افراد کی رنگت مختلف ہے تو درآمد شدہ انگلیاں یا کان مطابقت نہیں رکھتے تھے لیکن اب سیلیکون سے بنی انگلیاں مرکز میں ہی تیار کی جا رہی ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مرکز کے ڈپٹی کمانڈنٹ بریگیڈیئر ڈاکٹر اکبر حسین نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’یہ مرکز سو بستروں پر مشتمل ہے جبکہ پچاس بستروں کا ہاسٹل ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’سنہ 1980 کی دہائی میں یہ ضرورت محسوس کی گئی تھی کہ فوجی جوان جو جنگی کارروائیوں کے دوران زخمی ہو جاتے ہیں انہیں کسی طرح ری ہیبلیٹیٹ کیا جاسکے تاکہ وہ اپنے اہل خانہ کو سپورٹ کر سکیں اور جسمانی اعضا سے محرومی ان کی کمزروی بھی نہ بنے۔

’سال 1991 میں اس مرکز کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور 2001 میں آؤٹ ڈور آپریشن سروس شروع کی گئی جبکہ 2005 سے باقاعدہ مریضوں کا ہسپتال میں داخلہ بھی شروع کر دیا گیا۔‘

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ’یہ سینٹر صرف فوجی مریضوں کا علاج نہیں کرتا بلکہ سویلینز بھی علاج سے مستفید ہوتے ہیں۔‘

انہوں 2005 کے زلزلے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’اس دوران بہت سے زلزلہ زدگان کا یہاں مکمل علاج ہوا تھا۔‘

سویلین کا خرچہ کہاں سے آتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’چونکہ یہ سینٹر فوجیوں کے لیے بنایا گیا تھا تو ان کا علاج تو مفت ہے اس کے علاوہ دیگر حکومتی محکموں سے لوگ آتے ہیں تو ان کے ادارے علاج کا معاوضہ برداشت کرتے ہیں، جبکہ سویلین کو بھی اپنا خرچہ خود برداشت کرنا پڑتا ہے۔‌‘

ری ہیبلیٹیشن سینٹر میں اب تک ایسا مشکل کیس کون سا تھا تو انہوں نے کہا: ’ایک ایسا زخمی فوجی تھا جس کے تین اعضا جنگی آپریشن میں ختم ہو گئے تھے۔ وہ ایک ٹیسٹ کیس تھا۔‘

سائکالوجسٹ ڈاکٹر ثمینہ نے بتایا کہ ’زخمی فوجیوں کو اکثر جسمانی اعضا کھو دینے کے بعد ڈپریشن بھی ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے ان کی ماہرین کے ساتھ مختلف نشستیں کروائی جاتی ہیں تاکہ ان کی ذہنی صحت نارمل رہ سکے۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی صحت