چین نے طالبان کو ٹرانس ہمالیائی سمٹ کے لیے کیوں مدعو کیا؟

اس بین الاقوامی اجلاس کے دوران ہمالیائی ممالک خطے میں اقتصادی تعلقات، علاقائی روابط اور ماحولیاتی تبدیلیوں پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔

پانچ اکتوبر، 2023 کی اس تصویر میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ٹرانس ہمالیائی اجلاس کے دوران مصافحہ کرتے ہوئے (تصویر: چینی سفارت خانہ کابل/ایکس اکاؤنٹ)

 افغان طالبان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی دو روز سے سرکاری دورے پر چین میں ہیں۔ انہوں نے ٹرانس ہمالیائی سمٹ میں شرکت کے لیے چین کی وزارت خارجہ کی دعوت پر چین کا دورہ کیا۔

اس بین الاقوامی اجلاس کے دوران ہمالیائی ممالک خطے میں اقتصادی تعلقات، علاقائی روابط اور ماحولیاتی تبدیلیوں پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ چینی میڈیا نے متقی کے دورے کو بڑے پیمانے پر کوریج دی ہے۔

چین کے سینئیر سفارت کاروں میں سے ایک اور ملک کے وزیر خارجہ وانگ یی نے متقی کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا کہ چونکہ چین اور افغانستان دونوں ہمالیائی خطے میں واقع ہیں اس لیے وہ جغرافیائی طور پر جڑے ہوئے ہیں اور مشترکہ تاریخی پس منظر رکھتے ہیں۔

وہ اس فورم کے ذریعے ماحولیاتی تحفظ، پائیدار ترقی اور روزگار کی فراہمی مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے تعاون کر سکتے ہیں۔

چین پہلا ملک ہے جس نے اگرچہ باضابطہ طور پر طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا لیکن سینیئر سفیر کابل میں تعینات کیا ہے۔

وانگ یی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چین نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات میں بہتری، آزادی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اس ملک کے عوام کے آزادانہ انتخاب کو بہت اہمیت اور احترام دیا ہے اور کبھی افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کی۔

 امیر خان متقی نے اس ملاقات میں کہا کہ افغانوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت کچھ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ چین کی سلامتی کو درپیش خطرے کو ایک چیلنج سمجھتے ہیں اور افغانستان میں ایسی کسی بھی سرگرمی کی اجازت نہیں دیں گے جس سے چین کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچے۔

اگرچہ ٹرانس ہمالیائی اجلاس میں متقی کی موجودگی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ علاقائی تعاون کے حل کا جائزہ لیں گے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس بین الاقوامی اجلاس میں طالبان کو مدعو کرنے کے چین کے مقاصد ہمالیائی علاقے سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔

چین افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن طور پر لڑنے کے لیے طالبان کے سنجیدہ اقدامات کا انتظار کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ افغانستان کے شمال اور چینی سرحدوں کے قریب واقع دہشت گرد تنظیم ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کو مکمل طور پر تباہ کر دے۔

 اس کے علاوہ جہاں تک ممکن ہو چینی حکومت سے غیر مطمئن اویغوروں کو دونوں ملکوں کی سرحد سے دور رکھیں اور انہیں غیر فعال بنائیں۔

عالمی نقطہ نظر کے لحاظ سے طالبان اور چینی حکومت کے درمیان کوئی مماثلت نہیں ہے۔ چینی اعتدال پسند مذہبی تحریکوں سے بھی نفرت کرتے ہیں لیکن اب انہوں نے دنیا کے سب سے زیادہ بنیاد پرست اور انتہا پسند جہادی گروپوں میں سے ایک کے ساتھ بہت قریبی تعلقات قائم کیے ہیں۔

امریکہ کے ساتھ زبردست مسابقت کی وجہ سے چین دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو طالبان کے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے حوالے سے مثبت سوچ رکھتے ہیں۔

چین طالبان کے اقتدار حاصل کرنے کو خطے میں امریکہ کے کردار اور اثر و رسوخ کو کمزور کرنے کا سبب سمجھتا ہے اور اسے شاہراہ ریشم کے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے مناسب پلیٹ فارم اور خطے میں امریکہ کی موجودگی میں نرم توازن کے حصول کی کوششوں کا نتیجہ مانتا ہے۔

دوسری جانب مشرقی ترکستان تحریک جس کا تعلق چینی حکومت کے مخالف اویغوروں کے ساتھ ہے، کے طالبان کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں۔

لہٰذا طالبان کے کنٹرول میں ہونے کا مطلب یہ ہے کہ چین علیحدگی پسند اویغوروں کو بھی کنٹرول کرے گا۔

کہا جاتا ہے کہ طالبان نے چین سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اویغوروں کو کبھی افغانستان کی سرزمین اس ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور اس معاملے پر انہوں نے اویغور کمانڈروں سے بات چیت کی ہے۔

تاہم انہوں نے چینی حکومت سے یہ بھی کہا ہے کہ انہیں اویغور جنگجوؤں کو اپنی صفوں میں قبول کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس مسئلے نے چین کو طالبان اور اویغوروں کی صورت حال پر مسلسل نظر رکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغانستان کے پاس معدنیات کی قیمتی کانیں ہیں اور چین کو ان کانوں کی اشد ضرورت ہے۔ تین اہم عناصر جو اس وقت چین کی بنیادی ضروریات سمجھے جاتے ہیں یعنی لوہا، تانبا اور لتھیم، وہ افغانستان میں وافر مقدار میں موجود ہیں۔

 چین نے کابل کے جنوب مشرق اور صوبہ لوگر میں آئینک کی بڑی کان سے تانبا نکالنے کا ٹھیکہ حاصل کر لیا ہے۔

چینی کمپنیاں افغانستان میں لتھیم کی کان کنی کے دائرے اور امکانات پر تحقیق کر رہی ہیں اور فولاد کی بڑی کانوں، خاص طور پر صوبہ بامیان میں حاجی گیک کان کی جھلک دیکھ رہی ہیں۔

تاہم چین کے لیے طالبان کے ساتھ تعلقات کا سیاسی پہلو اس کے معاشی پہلو سے زیادہ طاقتور ہے۔

چین کو اویغور علیحدگی پسند بغاوت کی تشویش سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا ملنا چاہیے اور یہ ریلیف اس وقت ممکن ہوگا جب طالبان چینی حکومت کو ضروری ضمانتیں دیں گے۔

اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ طالبان کا چین پر گہرا سیاسی اور معاشی انحصار ہے، وہ چین کی سوچ کو آسان بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ چین اویغوروں کی نقل و حرکت سے پریشان نہیں ہے جیسا کہ میڈیا میں کہا جاتا ہے اور خطے کے ممالک پر اثر انداز ہونے کے پرجوش منصوبے نے چین کو طالبان اور افغانستان کے قریب لا کھڑا کیا ہے۔

 اس کے علاوہ افغانستان میں طاقت کے بڑے خلا کو پُر کرنے کی خاطر چین کو اس ملک میں اپنا اثر و رسوخ مضبوط کرنے کی کوشش کرنے پر مجبور کیا ہے۔ بڑے تناظر میں اویغوروں پر قابو پانا چین کے لیے شاید کوئی مشکل کام نہ ہو۔

اس وقت سنکیانگ میں 10 لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کی برین واشنگ کی جا رہی ہے اور وہ جیل جیسے مقامات پر رہ رہے ہیں، تاہم چین کے خیال میں اویغور ہمیشہ پریشانی کا سبب بن سکتے ہیں، خاص طور پر اگر ان کا کوئی قریبی حامی بھی موجود ہو۔

یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ مضمون پہلے انڈپینڈنٹ فارسی میں شائع ہوا۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر