جنوبی قفقاز میں ایران اور ترکی کے درمیان کشمکش

غیر ملکی عناصر کے کردار کے بارے میں ایران کا بیانیہ جنوبی قفقاز میں ایرانی پالیسی کی ناکامی کا اعتراف ہے۔ تہران، ترکی اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو محدود کرنے میں ناکام رہا ہے جسے ایران ’قریب کے غیر ممالک‘ کہتا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان تین ستمبر 2023 کو تہران میں اپنے ترک ہم منصب ہاکان فیدان کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں (اے ایف پی)

ایران کو اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات میں مسائل کا سامنا ہے۔ افغانستان میں طالبان حکام اور آذربائیجان کے ساتھ اس کے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کی علاقائی سفارت کاری کا ملک کے شمال میں واقع ممالک کے ساتھ اچھے ہمسایوں والے تعلقات پر براہ راست اثر نہیں پڑا۔

 ہم نے حالیہ برسوں میں ایران کی شمالی سرحدوں پر عدم استحکام بھی دیکھا ہے۔ شمالی سرحدیں جنہیں 1994 میں پہلی نگورنو کاراباخ کی پہلی جنگ کے بعد 2020 تک استحکام کا جزیرہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک کشیدہ علاقہ ہے جس نے ایران کے سرحدی علاقوں کے استحکام کو براہ راست خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ایران میں مرکزی طاقت کے لیے استحکام کا یہ دور بہت اہم تھا کیوں کہ مغربی سرحدیں خلیج فارس کی جنگ اور عراق پر امریکی فوجی حملے (1991 اور 2003) کے نتائج سے نبرد آزما تھیں۔ اسی عرصے کے دوران مشرقی سرحدیں بھی دو صورتوں میں غیر مستحکم ہوئیں۔ 1996 میں طالبان اقتدار میں آئے اور اس کے بعد 2001 میں امریکہ نے افغانستان میں فوجی مداخلت کی۔

تہران کے نقطہ نظر سے  2020 کے بعد  جنوبی قفقاز میں پیدا ہونے والی سلامتی کی سنگین صورت حال ترکی جیسے علاقائی حریفوں یا اسرائیل جیسے دشمن کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور آذربائیجان کے ساتھ ان کے اتحاد کی وجہ سے ہے۔ بیرونی ممالک کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں موجودہ بیانیہ اس مسئلے کی وضاحت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے کیوں کہ اس خطے میں ترکی کی طرف سے نئے چیلنج کے باوجود جنوبی قفقاز کے بارے میں ایران کی علاقائی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

درحقیقت اس علاقے پر روس اور ایران کا اثر و رسوخ  رہا ہے۔ سلطنت عثمانیہ اور جدید ترکی 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے سے قبل اس خطے پر اپنا کنٹرول قائم کرنے میں ناکام رہے۔

اس لیے غیر ملکی عناصر کے کردار کے بارے میں ایران کا بیانیہ جنوبی قفقاز میں ایرانی پالیسی کی ناکامی کا اعتراف ہے۔ تہران، ترکی اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو محدود کرنے میں ناکام رہا ہے جسے ایران ’قریب کے غیر ممالک‘ کہتا ہے۔ آذربائیجان اور ایران کے درمیان جنوبی قفقاز میں تنازعے کی وجہ سے ایران کے شمالی صوبوں میں 2020 سے عدم استحکام کا خطرہ ہے۔

یہی مسئلہ اس بات کا تعین کرتا ہے کہ ایران کے شمالی علاقوں میں پاسداران انقلاب کی فوجی کارروائیوں میں اضافہ کیوں ہوا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی حکومت کی ترجیح ملک کی علاقائی سالمیت کا تحفظ  اور باکو کو اسرائیل کے ساتھ تعاون اور آذربائیجان کے ساتھ ترکی کے فوجی تعاون کے بارے میں پیغام دینا ہے۔

اس کے علاوہ ایران کے نقطہ نظر سے، 2020 کے بعد سے، پین ترک ازم کا خوف ایران اور آذربائیجان کے درمیان تعلقات کی خرابی میں فیصلہ کن عنصر رہا ہے۔ ایران میں داخلی تنازعات میں اقلیتوں کا مسئلہ سیاسی نظام کی بقا اور ایران کے شمال مغربی صوبے میں آذری اقلیت کی موجودگی کے مسئلے کا مرکز ہے۔

 کرد خاتون مہسا امینی کی موت کے بعد 2022 کے موسم خزاں میں ہونے والے مظاہروں میں ایران کے ترک زبان بولنے والے علاقوں کے لوگوں کی شرکت نے ایران کے خوف کو مزید بڑھا دیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ملک گیر مظاہروں اور عوامی عدم اطمینان کی موجودگی میں ایرانی حکام کو خدشہ ہے کہ سرحدی علاقے ملک میں عدم استحکام کا سبب بن سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ  2020 کے بعد سے اور جیو پولیٹیکل فریم ورک میں تبدیلیوں کے بعد ایران نے آرمینیا کی حمایت کرنے سے انکار کردیا ہے اور علاقائی سالمیت کی بحالی کے باکو کے جائز حق کو تسلیم کیا ہے۔ نگورنو کاراباخ کی آرمینیائی افواج نے آذربائیجان کی علاقائی سلامتی کی خلاف ورزی کی تھی۔ لہٰذا نومبر 2020 کی جنگ بندی کے نتیجے میں ایران کی شمالی سرحد پر ترکی اور آذربائیجان مستقل اتحادی بن گئے جب کہ ایران آرمینیا سرحد سکڑ گئی۔

مزید برآں انقرہ نے آذربائیجان کے فوجی سٹریٹجک شراکت دار کے طور پر آرمینیا کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔ لہذا دوسری کاراباخ جنگ نے ترکی کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے سمیت اسرائیل - آذربائیجان تعلقات میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس نئے جیو پولیٹیکل امتزاج نے ایران اور جمہوریہ آذربائیجان کے تعلقات کو تیزی سے خراب کیا۔ اگرچہ اقتصادی میدان میں تبادلے فوجی کشیدگی میں اضافے کے خطرے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

ایرانی فوجی حکمت عملی کے ماہرین جمہوریہ آذربائیجان کی حکومت کے خلاف ایران کی روایتی جنگ کو آنے والے برسوں کے ممکنہ منظرنامے میں سے ایک سمجھتے ہیں۔ آنے والے سالوں کے بارے میں ایران کے سرکاری میڈیا میں جو کچھ کہا جاتا ہے وہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان نئے تصادم کی صورت میں آرمینیا کی مزید حمایت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مغربی ذرائع کے مطابق اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایران سرحدی علاقوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ڈرونز کا استعمال کیوں کرتا ہے اور آرمینیا کو بھی دے چکا ہے حالاں کہ آرمینیا کی حکومت نے اس کی تردید کی ہے۔

دوسری کاراباخ جنگ میں آذربائیجان کی فتح نے سٹریٹجک ماحول کو ناگزیر طور پر تبدیل کر دیا ہے اور اب ایران کو ناسازگار حالات کا سامنا ہے۔ اب جب کہ ایران جنوبی قفقاز میں ثالثی کرنے میں ناکام رہا ہے تو امکان ہے کہ وہ آذربائیجان کے ساتھ اپنے سفارتی اور تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کرے گا  جس کے پاس اب رسد کا راستہ ہے اور زنگزور راہداری کے مکمل ہونے کی امید ہے۔

دوسری طرف  اب جب کہ 2022 میں یوکرین جنگ کے بعد روس کا اثر و رسوخ کم ہورہا ہے، آرمینیا ایک مفید شراکت دار کے طور پر نئے امکانات کا سبب بن گیا۔ لیکن ایران کو شاید اس بے مثال موقعے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیوں کہ جنوبی قفقاز میں روسی اثر و رسوخ میں کمی کے بعد یہ ملک ایک ایسی طاقت نہیں بن سکا جو ایک ایسے خطے میں ’آزاد‘ پالیسی رکھتا ہو جسے تہران ’قریب کے غیر ممالک‘ سمجھتا ہے۔ روس کی موجودگی کے کمزور پڑنے اور جنوبی قفقاز کے علاقے میں ترکی کی موجودگی میں اضافے کے بعد بالآخر ایک نئی جغرافیائی و سیاسی صورت حال پیدا ہوگی جو اس خطے میں ایران کے اثرورسوخ میں کمی کا سبب بنے گی۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر