امریکہ میں پاکستانی طلبہ کی تعداد میں اس سال 16 فیصد اضافہ

انڈیا، امریکہ میں تعلیم کے لیے طلبہ کو بھیجنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے جہاں 35 فیصد اضافے کے بعد 2022/23 یہ تعداد تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

امریکہ میں اس سال انڈر گریڈ پروگرام کے لیے منتخب ہونے والے طلبہ کا اسلام آباد میں ایک گروپ فوٹو (یو ایس ایجوکیشنل فاونڈیشن پاکستان)

امریکہ میں پاکستانی طلبہ کی تعداد میں رواں سال 16 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور یہ مجموعی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

یہ بات امریکی محکمہ خارجہ اور انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ایجوکیشن کی جانب سے امریکہ میں زیر تعلیم بین الاقوامی طلبہ کے اعداد و شمار کے حوالے سے سالانہ ’اوپن ڈورز رپورٹ‘ میں بتائی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال یہ تعداد آٹھ ہزار 772 تھی جو کہ بڑھ کر رواں برس 10 ہزار 164 تک پہنچ گئی ہے۔ مجموعی طور پر گذشتہ دو سالوں میں پاکستانی طلبہ کی تعداد میں 33 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکہ پاکستانی طلبہ کے لیے بیرون ملک تعلیم کے اہم ممالک میں سے ایک ہے۔ 

امریکہ میں اس سال غیرملکی طلبہ کی مجموعی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ اضافہ گذشتہ برس سے تقریبا 12 فیصد زیادہ ہے۔ امریکہ جیسے ممالک ان طلبہ سے ناصرف اپنے تعلیمی اداروں کا معیار بہتر بناتے ہیں بلکہ بڑی تعداد میں زرمبادلہ بھی کماتے ہیں۔

غیرملکی طلبہ میں چین اور بھارت سے آئے نوجوانوں کی تعداد مجموعی تعداد کا نصف سے زیادہ یعنی 53 فیصد ہے۔ تاہم، 2017-18 میں چین سے 33 فیصد اور بھارت سے 18 فیصد کے مقابلے میں گذشتہ ایک سال میں چین سے 27 فیصد اور بھارت سے 25 فیصد طالب علموں کے ساتھ ان ممالک کا حصہ تبدیل ہوگیا ہے۔

تاہم، 2017-18 میں چین سے 33 فیصد اور بھارت سے 18 فیصد کے مقابلے میں چین سے 27 فیصد اور بھارت سے 25 فیصد طالب علموں کے ساتھ ہر اصل مقام کے لیے مارکیٹ شیئر تبدیل ہوگیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2022/23 میں چین سب سے زیادہ بھیجنے والا ملک رہا، جس کے دو لاکھ 89 ہزار 526 طلبہ (-0.2٪) امریکہ میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

انڈیا، دوسرا سب سے بڑا ملک بن گیا جس کے 2022/23 میں دو لاکھ 68 ہزار 923 بین الاقوامی طالب علموں کی آمد تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جو 35 فیصد کا اضافہ ہے۔

رواں سال سولہ فیصد اضافے کے ساتھ پاکستان بین الاقوامی سطح پر دنیا کے ان آٹھ ملکوں کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے جہاں بین الاقوامی طلبہ کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مطالعے کے تمام اہم شعبوں میں اضافہ نوٹ کیا گیا ہے کیونکہ طلبہ کے پاس امریکہ میں کئی قسم کے بڑے مضامین میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔

طلبہ کی اکثریت نے ایس ٹی ای ایم شعبوں (55 فیصد) میں تعلیم حاصل کی اور ریاضی اور کمپیوٹر سائنس کے مضامین 2022/23 میں بین الاقوامی طلبہ کے لیے مطالعے کے معروف شعبے کے طور پر بڑھتے رہے۔ صرف دو لاکھ 40 ہزار سے زیادہ بین الاقوامی طلبہ نے ریاضی اور کمپیوٹر سائنس (23 فیصد) اور دو لاکھ دو ہزار سے زیادہ نے انجینئرنگ (19 فیصد) کی تعلیم حاصل کی۔

دیگر مقبول شعبوں میں بزنس اینڈ مینجمنٹ (15 فیصد)، سوشل سائنسز (8 فیصد)، فزیکل اینڈ لائف سائنسز (8 فیصد) اور فائن اینڈ اپلائیڈ آرٹس (5 فیصد) شامل ہیں۔

اپنے ایک بیان میں امریکہ میں سفیر پاکستان مسعود خان کا امریکی جامعات میں پاکستانی طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ رواں سال سولہ فیصد اور گذشتہ دو سالوں میں تینتیس فیصد کا اضافہ انتہائی حوصلہ افزا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت آئندہ تین سالوں میں اس تعداد کو دوگنا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ہر علاقے سے طلبہ اور طالبات کی امریکی جامعات میں موجودگی نہ صرف تعلیمی میدان میں قریبی دوطرفہ تعلقات کی عکاسی کرتی ہے بلکہ یہ رجحان مستقبل میں پاک امریکہ تعلقات میں مزید مضبوطی کا ضامن ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس