ناسا کا ’میسج ان اے باٹل‘ منصوبہ: آپ کے نام خلا میں بھیجے جائیں گے

’میسج ان اے باٹل‘ منصوبے کے تحت یوروپا کلپر خلائی جہاز پر لوگوں کے نام کندہ کیے جائیں گے اور عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ 2023 کے اختتام سے قبل اپنے نام مفت جمع کروائیں۔

ناسا کی طرف سے 21 ستمبر 2023 کو جاری کی گئی اس ہینڈ آؤٹ تصویر میں سیارہ مشتری اور اس کا چاند یوروپا دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی/ ناسا)

ناسا لوگوں کو موقع فراہم کر رہا ہے کہ وہ اربوں کلومیٹر دور سیارہ مشتری جانے والے اگلے جہاز پر اپنے نام بھیج سکتے ہیں۔

’میسج ان اے باٹل‘ منصوبے کے تحت یوروپا کلپر نامی خلائی جہاز پر لوگوں کے نام کندہ کیے جائیں گے اور عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ 2023 کے اختتام سے قبل اپنے نام مفت جمع کروائیں۔

یوروپا کلپر پر امریکی شاعرہ ایڈا لیمون کی ایک نظم بھی کندہ ہے، جس کا عنوان ہے ’اسرار کی تعریف میں: یوروپا کے لیے ایک نظم۔‘

یہ نظم اس سال کے اوائل میں لائبریری آف کانگریس میں پیش کی گئی تھی جب ناسا کی اس مہم کو پہلی بار متعارف کروایا گیا تھا۔

لیمون کا کہنا تھا کہ ’یہ نظم لکھنا میری زندگی کے سب سے بڑے اعزازات میں سے ایک تھا، لیکن یہ ان مشکل ترین کاموں میں سے ایک تھا جن کی ذمہ داری مجھے اب تک سونپی گئی۔

بالآخر، جس چیز نے اس نظم کو مکمل کیا وہ یہ احساس تھا کہ دوسرے سیاروں، ستاروں اور چاندوں کے متعلق جانتے ہوئے، ہم اپنے عظیم تحفے زمین کے بارے میں بھی جان رہے ہیں۔ باہر کی طرف اشارہ کرنا بھی اندر کی طرف اشارہ کرنا ہے۔‘

یہ مشن اکتوبر 2024 میں لانچ کیا جائے گا اور 2030 میں 2.9 کلومیٹر (1.8 ارب میل) دور مشتری کے مدار میں پہنچ جائے گا۔

اس کا مقصد اس بات کی تحقیقات کرنا ہے کہ آیا یوروپا کی برفیلی تہہ کے نیچے سمندر میں زندگی پائی جاتی ہے یا نہیں۔

تابکاری برداشت کرنے والا خلائی جہاز مشتری کے گرد ایک لوپنگ مدار میں داخل ہو گا اور اپنے جہاز کے آلات کی مدد سے برفیلے چاند کا قریب سے جائزہ لے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سائنس دانوں کو امید ہے کہ یوروپا میں زندگی پیدا ہونے اور افزائش کے لیے تمام اجزا ہیں۔

یوروپا کلپر مشن کے ایک پروجیکٹ سائنس دان رابرٹ پاپالارڈو کا کہنا ہے کہ ’اگر یوروپا میں زندگی ہے تو اس کا یقینی طور پر زمین پر زندگی کی ابتدا سے مکمل طور پر کوئی تعلق نہیں۔

اس کا مطلب یہ ہو گا کہ زندگی کی ابتدا پوری کہکشاں اور اس سے آگے بہت آسان ہونی چاہیے۔‘

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ناسا کسی راکٹ کے ذریعے زمین سے خلا میں پیغامات بھیجے گا۔ اس نے 1970 کی دہائی میں اپنے وائجر ون اور ٹو خلائی جہاز کے ساتھ فونوگراف ریکارڈ بھیجے تھے جن پر سونے کا پانی چڑھا ہوا تھا۔

امریکی خلائی ادارے کا کہنا ہے کہ سنہری ریکارڈ ’ایک قسم کا ٹائم کیپسول ہے جس کا مقصد غیر زمینی اجسام کو ہماری دنیا کی کہانی سنانا ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس