ایڈز کا عالمی دن: بلوچستان میں 23 سو سے زائد مریض، چھ اضلاع ہائی رسک

بلوچستان ایڈز کنٹرول پروگرام کے ڈپٹی مینیجر ڈاکٹر میر خالد قمبرانی کے مطابق صوبے میں ’اس سال ایڈز کے مریضوں کی تعداد متوقع طور پر سات ہزار ہو سکتی ہے، لیکن رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 23 سو 58 ہے، جن میں 1751 مرد، 472 خواتین، 99 بچے اور 36 ٹرانس جینڈرز ہیں۔‘

بلوچستان ایڈز کنٹرول پروگرام کے ڈپٹی مینیجر ڈاکٹر میر خالد قمبرانی کوئٹہ پریس کلب میں ایڈز کے عالمی دن کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے (اعظم الفت/ انڈپینڈنٹ اردو)

آج (یکم دسمبر کو) دنیا بھر میں ایڈز کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد اس لاعلاج مرض کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔ یہ دن ان لوگوں کی یاد میں بھی منایا جاتا ہے، جو ایڈز کی وجہ سے وفات پا چکے ہیں۔

’ریڈ ربن‘ عالمی سطح پر ان لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی علامت ہے، جو ایڈز میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ عالمی سطح پر ہر سال ایڈز ڈے کے لیے ایک تھیم رکھی جاتی ہے اور 2023 کی تھیم ’کمیونیٹیز کو رہنمائی کا موقع دیں‘ (Let Communities Lead) ہے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بھی ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

اسی حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے بلوچستان ایڈز کنٹرول پروگرام کے ڈپٹی مینیجر ڈاکٹر میر خالد قمبرانی سے گفتگو کی اور ان سے اس مرض میں اضافے اور صوبے کے ہائی رسک اضلاع کے بارے میں جاننا چاہا۔

ڈاکٹر میر خالد قمبرانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اس سال بلوچستان ایڈز کنٹرول پروگرام کی جانب سے کیے گئے ٹیسٹوں کے نتیجے میں صوبے میں ایڈز میں مبتلا 23 سو 58 مریض سامنے آئے جبکہ گذشتہ سال یہ تعداد دو ہزار 16 تھی۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’بلوچستان میں اس سال ایڈز کے مریضوں کی تعداد متوقع طور پر سات ہزار  ہو سکتی ہے، لیکن رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 23 سو 58 ہے، جن میں سے 1751 مرد، 472 خواتین، 99 بچے اور 36 ٹرانس جینڈرز شامل ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر میر خالد قمبرانی کے مطابق: ’اسی طرح رواں سال کوئٹہ میں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 1937 ہے۔ تربت میں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 339ہے، جن میں سے 287 مرد، 41 خواتین اور 11 بچے ہیں۔ حب میں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 44 ہے، جن میں سے 35 مرد، چھ خواتین، ایک بچہ اور دو ٹرانس جینڈر شامل ہیں۔

’اسی طرح نصیرآباد میں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد آٹھ ہے، جن میں سے تین مرد، تین خواتین اور دو بچے ہیں جبکہ لورالائی میں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 30 ہے، جن میں سے 22 مرد، چھ خواتین اور دو بچے ہیں۔‘

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’بلوچستان میں ایڈز کے حوالے سے چھ اضلاع کو ہائی رسک قرار دیا گیا ہے، جن میں کوئٹہ، گوادر، تربت، ژوب و شیرانی اور نصیر آباد شامل ہیں، جہاں پر ایڈز کے مریضوں کی تعداد زیادہ ہے۔‘ اس کے علاوہ ’کان کنوں کے علاقوں میں بھی ایڈز کا موجب بننے والا وائرس بہت زیادہ ہے۔‘

 ڈاکٹر میر خالد قمبرانی نے مزید کہا کہ ’بلوچستان میں لوگوں میں شعور و آگہی کی شدید کمی ہے۔ وہ ایڈز کے ٹیسٹ کرنے سے خوف زدہ ہیں اور معاشرے میں سامنے آنے کا ڈر محسوس کرتے ہیں۔ ایک عام آدمی کو بھی ایچ آئی وی ایڈز کا ٹیسٹ ضرور کروانا چاہیے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام نے تمام اضلاع میں ہسپتالوں میں مفت ٹیسٹ کی سہولت فراہم کی ہے اور ان تمام اضلاع میں سکریننگ کٹس موجود ہیں۔

صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام نے گذشتہ سال ڈیرہ مراد جمالی، لورالائی اور حب میں تین نئے سینٹرز قائم کیے ہیں جبکہ پہلے سے دو سینٹرز کوئٹہ اور تربت میں موجود تہے۔ بلوچستان میں اب ان سینٹروں کی تعداد بڑھ کر پانچ ہوچکی ہے۔

اس سال ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کے ایچ آئی وی سکریننگ ٹیسٹس کیے گئے۔ بلوچستان کے تمام اضلاع اور سینٹرل جیلوں میں یہ ٹیسٹ ہوچکے ہیں۔ ایڈز کنٹرول پروگرام کی جانب سے تمام سینٹروں میں ایڈز کے مریضوں کے لیے مفت علاج معالجے کی سہولت بھی میسر ہے، جہاں مہنگی ادویات بھی مفت فراہم کی جاتی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت