اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کے مرکزی شہری خان یونس کا محاصرہ کر لیا

اسرائیلی افواج نے بدھ کو جنوبی غزہ کے مرکزی شہر خان یونس کا محاصرہ کر لیا ہے اور دو ماہ سے جاری حملوں میں اس وقت اطلاعات کے مطابق حماس اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان سڑکوں اور عمارتوں میں لڑائی جاری ہے۔

پانچ دسمبر 2023 کی اس تصویر میں غزہ کی پٹی کے شہر خان یونس میں اسرائیلی فوج اور حماس کے درمیان جاری لڑائی کے دوران شہر سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)

اسرائیلی افواج نے بدھ کو جنوبی غزہ کے مرکزی شہر خان یونس کا محاصرہ کر لیا ہے اور دو ماہ سے جاری حملوں میں اس وقت اطلاعات کے مطابق حماس اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان سڑکوں اور عمارتوں میں لڑائی جاری ہے۔

شدید بمباری کے بعد اس جنگ کا محور اب محصور غزہ کے جنوب کی طرف منتقل ہو گیا ہے۔ دو ماہ سے جاری بمباری کی وجہ سے شمال کا زیادہ تر حصہ ملبے میں تبدیل ہو گیا اور تقریباً 20 لاکھ افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

عینی شاہدین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ منگل کو جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے قریب اسرائیلی ٹینکوں، بکتر بند اہلکاروں اور بلڈوزروں کو دیکھا گیا، جس کی وجہ سے پہلے ہی بے گھر ہونے والے شہری دوبارہ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔

اسرائیلی فوج کے سربراہ ہرزی حلوی نے منگل کو رات گئے کہا: ’ہماری افواج اب جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس کے علاقے کا محاصرہ کر رہی ہیں۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’ہم نے شمالی غزہ کی پٹی میں حماس کے بہت سے مضبوط ٹھکانے فتح کیے ہیں اور اب ہم جنوب میں حماس کے مضبوط ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔‘

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ غزہ میں انڈونیشیا ہسپتال کے قریب ایک فضائی حملے میں حماس کے متعدد کمانڈر مارے گئے ہیں۔

حماس اور ایک اور فلسطینی عسکریت پسند گروپ اسلامک جہاد کے ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کے جنگجو بدھ کی علی الصبح اسرائیلی فوجیوں سے لڑ رہے تھے تاکہ انہیں خان یونس اور آس پاس کے علاقوں میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔

حماس کے زیر انتظام سرکاری میڈیا آفس کے مطابق خان یونس کے مشرق میں ہونے والے شدید حملوں میں درجنوں افراد مارے گئے اور زخمی ہوئے ہیں۔

دریں اثنا حماس کے مطابق وسطی اور شمالی غزہ پٹی کے علاقے اب بھی بمباری کی زد میں ہیں۔


امریکہ کا مغربی کنارے میں تشدد میں ملوث اسرائیلیوں پر ویزا پابندی کا اعلان

واشنگٹن حکام کے مطابق امریکہ نے اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے میں تشدد میں ملوث اسرائیلی افراد پر ویزا پابندی عائد کرنا شروع کر دی ہے۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیل سے یہودی آباد کاروں کے تشدد کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی متعدد اپیلوں کے بعد امریکہ نے منگل کو پابندی کا اطلاق شروع کیا۔

امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے ایک بیان میں کہا کہ ویزا پابندی کی نئی پالیسی میں ان افراد کو نشانہ بنایا گیا، ’جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں امن، سلامتی یا استحکام کو نقصان پہنچانے، تشدد کی کارروائیوں یا دیگر ایسے اقدامات میں ملوث رہے، جن سے شہریوں کی ضروری خدمات اور بنیادی ضروریات تک رسائی معطل ہوئی۔‘

امریکی صدر جو بائیڈن اور دیگر سینیئر امریکی حکام بارہا متنبہ کر چکے ہیں کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد کو روکنے کے لیے اسرائیل کو اقدامات کرنے چاہییں۔

حالیہ مہینوں میں یہودی بستیوں میں توسیع کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے میں حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور پھر سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملوں کے بعد غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے دوران بھی اس علاقے میں تشدد میں ایک بار پھر اضافہ ہوا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے اعلان کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ اینٹنی بلنکن نے گذشتہ ہفتے اپنے دورے کے دوران اسرائیلی حکام پر واضح کیا تھا کہ ’انہیں فلسطینیوں کے خلاف انتہا پسندانہ تشدد کو روکنے اور اس کے ذمہ داروں کو جوابدہ بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی رہنماؤں کو بھی چاہیے کہ مغربی کنارے میں اسرائیلیوں کے خلاف فلسطینی حملوں کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کریں۔

میتھیو ملر نے کہا کہ نئی پالیسی کے تحت پہلی پابندی منگل کو عائد کی جائے گی اور آنے والے دنوں میں مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب کا مزید کہنا تھا: ’ہمیں توقع ہے کہ اس اقدام سے درجنوں افراد اور ممکنہ طور پر ان کے اہل خانہ متاثر ہوں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ موجودہ امریکی ویزا رکھنے والے اور تشدد میں ملوث کسی بھی اسرائیلی کو مطلع کیا جائے گا کہ ان کا ویزا منسوخ کردیا گیا ہے۔

1967 کی مشرق وسطیٰ کی جنگ کے بعد سے اسرائیل نے مغربی کنارے پر قبضہ کر رکھا ہے، جسے فلسطینی ایک آزاد ریاست کے مرکز کے طور پر چاہتے ہیں۔ اسرائیل نے وہاں یہودی بستیاں تعمیر کی ہیں جنہیں زیادہ تر ممالک غیر قانونی سمجھتے ہیں، تاہم اسرائیل اس سے اختلاف کرتا ہے اور زمین کے ساتھ تاریخی اور مذہبی تعلقات کا حوالہ دیتا ہے۔

منگل کو ایک نیوز کانفرنس میں آبادکاروں کی جانب سے تشدد کے بارے میں پوچھے جانے پر اسرائیل کے وزیر دفاع یواو گیلنٹ نے کہا کہ اسرائیلی حکام کے علاوہ کسی کو بھی تشدد کے استعمال کا حق حاصل نہیں۔

انہوں نے کہا: ’اسرائیل میں قانون کی حکمرانی ہے۔ تشدد کا استعمال کرنے کا حق صرف ان لوگوں کو حاصل ہے، جنہیں حکومت کی طرف سے ایسا کرنے اجازت دی گئی ہے۔‘

ملر نے کہا کہ اسرائیل نے مغربی کنارے میں تشدد کے ذمہ دار افراد کو روکنے کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں، جیسا کہ انہیں انتظامی حراست میں رکھنا، لیکن امریکی حکام کا خیال ہے کہ ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ منگل کو اٹھایا گیا واشنگٹن کا اقدام ’اسرائیلی حکومت کو اپنے اقدامات کرنے سے نہیں روکتا اور ہم اس بارے میں ان کے ساتھ واضح رہیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا