انڈیا: کسانوں کے مارچ کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق انڈیا کی ایک ارب 40 کروڑ کی آبادی میں دو تہائی حصے کی گزربسر زراعت پر ہے۔ زراعت ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔

29 نومبر، 2022 کو امرتسر میں قرض معافی، پنشن، فصل بیمہ اور کم از کم امدادی قیمت کی قانونی ضمانت کے مطالبے پر مرکزی اور ریاستی حکومت کے خلاف احتجاج کے دوران کسان (نریندر نانو/ اے ایف پی)

انڈین پولیس نے فصلوں کی کم از کم قیمت کا مطالبہ کرنے والے ہزاروں کسانوں کا پارلیمنٹ کی عمارت کی طرف مارچ روکنے کے لیے پیر کو رکاوٹیں کھڑی کر کے عوامی اجتماعات پر پابندی لگا دی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دارالحکومت نئی دہلی اور ہمسایہ ریاست ہریانہ کے درمیان سرحد پر ٹریکٹروں کے طویل قافلے جمع ہو چکے ہیں۔ پولیس نے خارداروں تاروں، بیریئرز اور سیمنٹ کے بلاک رکھ اہم شاہراہوں کو بند کر دیا ہے۔

کسانوں نے ’دہلی چلو‘ مارچ کی کال دے رکھی ہے۔ انڈین کاشت کاروں نے 2021 میں بھی ایسا ہی احتجاج کیا تھا۔ کاشت کار یوم جمہوریہ کے موقعے پر رکاوٹیں توڑتے ہوئے شہر میں داخل ہو گئے تھے۔

انڈیا میں کسانوں کو ان کی بڑی تعداد کی بدولت سیاسی غلبہ حاصل ہے۔ ممکنہ طور پر اپریل میں شروع ہونے والے قومی انتخابات سے پہلے کاشت کاروں کے پھر سے احتجاج کا خطرہ ہے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق انڈیا کی ایک ارب 40 کروڑ کی آبادی میں دو تہائی حصے کی گزربسر زراعت پر ہے۔ زراعت ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔

کسانوں کی قومی تنظیم کے رہنما سورن سنگھ پندھیر نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’اگر حکومت نے ہمارے مطالبات پورے نہ کیے تو ملک بھر کے کسان منگل سے دہلی کی طرف مارچ کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

فصل کی کم از کم قیمت مقرر کرنے سمیت کسانوں کے دیگر مطالبات میں پنشن اور قرضوں کی معافی شامل ہے۔

دہلی میں پولیس نے پانچ سے زیادہ افراد ایک جگہ اکٹھے ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

نومبر 2020 میں زرعی اصلاحات بلوں کے خلاف کسانوں کا احتجاج ایک سال سے زیادہ عرصہ جاری رہا جو 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج تھا۔

اس کے بعد ہزاروں کسانوں نے عارضی کیمپ قائم کیے جن میں احتجاج کے دوران کم از کم سات سو لوگوں کی جان گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

احتجاج شروع ہونے کے ایک سال بعد نومبر 2021 میں مودی سرکار نے پارلیمنٹ کے ذریعے تین متنازع قوانین کو منسوخ کروا دیے جن کے بارے میں کسانوں کا دعویٰ تھا کہ ان سے نجی کمپنیوں کو ملک کے زرعی شعبے کو کنٹرول کرنے کا موقع ملے گا۔

توقع کی جارہی ہے کہ حکومت کے وزرا بات چیت کے لیے پیر کو کسان رہنماؤں سے ملاقات کر رہے ہیں۔

ہر سال ہزاروں انڈین کسان غربت، قرضوں اورماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں غیر یقینی موسمی اثرات سے متاثر ہونے والی فصلوں کی وجہ سے خودکشی کر لیتے ہیں۔

کسانوں کی بڑی تنظیم سمیکتا کسان مورچہ (ایس کے ایم) نے احتجاج کو روکنے کے لیے پولیس کی کارروائی پر ’شدید عدم اطمینان اور غصے‘ کا اظہار کیا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ وہ منگل کو مجوزہ مارچ میں حصہ نہیں لے رہی۔

اس کی بجائے تنظیم نے اپنے مطالبات پر زور دینے کے لیے جمعے کو ہڑتال کا اعلان کیا۔

ایس کے ایم نے ایک بیان میں کہا کہ ’عوام کے احتجاج کو دبانے کی کوششیں رائیگاں جائیں گی۔‘

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا