ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے چرند و پرند کا تحفظ کیسے ممکن؟

محکمہ جنگلی حیات سندھ نے جنگلی حیات کے عالمی دن کی مناسبت سے رواں سال کے لیے پرند شماری کی رپورٹ جاری کر دی۔

14 دسمبر، 2017 کی اس تصویر میں اسلام آباد کی راول جھیل پر پرواز کرتے پرندے(اے ایف پی)

محکمہ جنگلی حیات سندھ نے جنگلی حیات کے عالمی دن کی مناسبت سے رواں سال کے لیے پرند شماری کی رپورٹ جاری کر دی جس کے مطابق اس سال صرف سندھ کی 29 جھیلوں پر چھ لاکھ 49 ہزار سے زیادہ مسافر پرندے آئے۔

محکمے کی جاری کردہ اس رپورٹ کو ’سالانہ مرغابیوں یا واٹر فال سینسس‘ کا نام دیا گیا ہے۔

محکمہ جنگلی حیات کا یہ سروے جنوری اور فروری میں کیا گیا اور صوبے کی 200 سے زائد جھیلوں میں صرف 29 جھیلوں پر کیے جانے والے اس سروے میں چھ لاکھ 49 ہزار 122  مہمان پرندے دیکھے گئے۔

محکمہ جنگلی حیات نے اندازہ لگایا ہے کہ پورے صوبے میں آنے والے پرندوں کی تعداد 12 لاکھ سے زائد ہے۔

اس سروے کو اقوام متحدہ کے جنگلی حیات کے عالمی دن کی مناسبت سے جاری کیا گیا۔

اقوام متحدہ جنگلی حیات، خاص طور پر نقل مکانی کرنے والی مرغابیوں کو درپیش مسائل کے متعلق عالمی سطح پر شعور بیدار کرنے کے ہر سال تین مارچ کو ’عالمی جنگلی حیات‘ کا دن مناتا ہے۔

اس سال اس عالمی دن کو ’انسان اور کرہ ارض کو جوڑنا: ڈیجیٹل ایجادات سے جنگلی حیات کا تحفظ کی راہ تلاش کرنا‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔

محکمہ جنگلی حیات سندھ کے صوبائی کنزرویٹر جاوید احمد مہر نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’جدید ڈیجیٹل ایجادات اور سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس سے جانوروں اور پرندوں کا تحفظ بہت بہتر طریقے سے ہو رہا ہے۔‘

جاوید احمد مہرکے مطابق ’ڈیجیٹل ایجادات سے قبل اگر کوئی شکاری کسی جگہ جانور یا پرندے یا شکار کرتا تھا یا پکڑتا تھا تو کسی کو خبر ہی نہیں ہوتی تھی۔ مگر اب ہر کسی کے پاس موبائل فون ہے اور اگر کسی جانور کا شکار ہوتا ہے محکمے کو چند گھنٹوں میں واٹس ایپ پر ویڈیو موصول ہوجاتی ہے۔‘

'ان کا مزید کہنا تھا کہ ’محکمہ اس پر بروقت کارروائی کرکے ملزمان کو گرفتار کرتا ہے اور ان بھاری جرمانے کے ساتھ انہیں قید بھی ہوتی ہے اور ان سزاؤں کو ہم جب اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر لوگوں کے علم میں لاتے ہیں ہیں تو دیگر لوگوں کو شعور ملتا ہے کہ شکار کرنے پر جرمانے کے ساتھ قید بھی ہو سکتی ہے۔‘

نومبر 2021 میں کراچی کے ملیر ٹاؤں کے میمن گوٹھ میں مقامی نوجوان ناظم جوکھیو نے ملیر میں تلور کا شکار کرنے والوں کو فیس بک لائیو کے دوران روکا۔ بعد میں انہوں ایک لائیو پوسٹ میں خدشہ ظاہر کیا کہ شکاریوں کو اس طرح روکنے پر انہیں قتل کیا جاسکتا ہے۔

چند روز بعد ان کی تشدد زدہ لاش ملی۔ اس مقدمے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی جام اویس گہرام اور رکن قومی اسمبلی جام عبدالکریم کو نامزد کیا گیا اور جام اویس گہرام کو گرفتار بھی کیا گیا۔ یہ سب ڈیجیٹل میڈیا کے استعمال اور اس پر چلنے والی مہم کے نتیجے میں ہوا۔

قانونی کارروائی کے بعد ملزمان کو ناظم جوکھیو کی بیوہ سے صلح کرنی پڑی۔

جاوید احمد مہر کے مطابق: ’عام طور پر سرکاری محکموں میں ڈیجیٹل ایجادات اور پلیٹ فارم کے استعمال پر ممانعت ہوتی ہے۔

’مگر محکمہ جنگلی حیات سندھ کے نئے قانون میں ڈجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا کے استعمال کی نہ صرف اجازت دیتا ہے، بلکہ ان کی سٹاف کو ڈیجیٹل کی تربیت لینے پر زور دیتا ہے۔‘

محکمہ جنگلی حیات نے تقریباً 15 سال قبل سبز کچھوے  کے تحفظ کے کراچی کے ٹرٹل بیچ پر آنے والے دو سبز کچھوؤں کی سمندر میں نقل و حرکت رکارڈ کرنے کے لیے ’چاندنی ون‘ اور ’چاندنی ٹو‘ کے نام سے دو جدید ڈیجیٹل سیٹلائیٹ ٹرانسمیٹر لگائے تھے۔

بعد میں ان جدید ڈجیٹل سیٹلائیٹ ٹرانسمیٹر پر ان دونوں سبز کچھووں کو ایران کے ساحلوں پر دیکھا گیا۔

محکمہ جنگلی حیات سندھ کا پرند شماری کا تازہ سروے کے دوران ٹھٹہ ضلع کی کینجھر جھیل، ہالیجی جھیل اور منچھر جھیل، لاڑکانہ ضلع کی حمل جھیل، تھرپارکر ضلع کے رن آف کچھ، قمبر ضلع کی لنگھ جھیل اور بدین ضلع کے نریڑی لگون سمیت مختلف جھیلوں اور آب گاہوں پر آنے والے مہمان پرندوں کا شمار کیا گیا۔

سندھ صوبہ حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے پاکستان کے دیگر خطوں کی نسبت انتہائی امیر سمجھا جاتا ہے۔ 

جیوگرافی کے لحاظ سے سندھ میں صحرا، سرکتی ریت والا سفید صحرا یا وائیٹ ڈزرٹ، کھیرتھر والے پہاڑی سلسلے، سمندر، دریا کے ساتھ 200 سے زائد چھوٹی بڑی جھیلیں ہیں۔

ان جھیلوں اور آبی ذخیروں کے باعث سندھ جنگلی حیات کے حیاتی تنوع کے لحاظ سے ایک منفرد خطہ ہے۔

ایران کے شہر رامسر میں ’کنونشن آن ویٹ لینڈ‘ یعنی آب گاہوں کے تحفظ کا عالمی معاہدہ جو دو فروری، 1971 کو طے پانے کے بعد 1975 میں نافذ ہوا، کے تحت پاکستان میں عالمی اہمیت رکھنے والی 19 آب گاہوں کو ’رامسر سائٹ‘ قرار دیا گیا ہے، جن میں نو صرف سندھ صوبے میں ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان میں کینجھر جھیل، ہالیجی جھیل، انڈس ڈیلٹا، انڈس ڈولفن ریزرو، دیہہ اکڑو، ڈرگ جھیل، جبو لگون، نرڑی لگون اور رن آف کچھ شامل ہیں جبکہ رامسر سائٹ حب ڈیم کا آدھا حصہ سندھ  اور آدھا بلوچستان میں ہے۔

اس سال ہونے والے سروے میں جنگلی حیات کی ٹیم کو گذشتہ سال کی نسبت اس سال آنے والے مہمان پرندے روایتی ٹھکانوں کے علاوہ کئی نئےعلاقوں میں اپنا عارضی بسیرا  کرتے ملے۔

سب سے زائد پرندے بدین کی نریڑی جھیل میں ملے۔ جہاں جنگلی حیات ٹیم نے ایک لاکھ 68 ہزار 964 گنے۔

بدین ہی کے قریب رن آف کچھ کے مقام پر ایک لاکھ 17 ہزار 790 رن پور ڈیم ننگر پارکر کے مقام پر 36 ہزار 196 مہمان پرندے ملے۔

موجودہ سال کےحاصل شدہ اعداد و شمار کے مطابق کچھ ایسے نئے مہمان پرندے دیکھے گئے جن کی آمد کے شواہد پہلے موجود نہیں ہیں۔

ان میں دھاری دار سر قاز یا بار ہیڈیڈ گُوز جو محکمہ جنگلی حیات کے مطابق تاریخ میں پہلی بار ریکارڈ ہوا۔

دھاری دار سر قاز ایک زرد مائل خاکستری درمیانی جسامت والا قاز ہے جو ایشیا اور یورپ میں پایا جاتا ہے۔ یہ پاکستان میں نقل مکانی کر کے آتا ہے۔

یہ قاز دنیا کے سب سے زیادہ بلندی پر اڑنے والے پرندوں میں سے ایک ہے جو وسطی ایشیا سے ماؤنٹ ایورسٹ کے اوپر سے اڑ کر انڈیا اور پاکستان آتے ہیں۔

محکمہ جنگلی حیات کے حالیہ سروے کے دوران کاٹن ٹیل، سیاہ سارس یا بلیک سٹورک، انڈین سپاٹ بلڈ ڈک، راج ہنس یا لیسر فلیمنگو کے علاوہ 11 مختلف اقسام کے دیگر پرندے صوبے کی پانیوں میں نظر آئے۔

سروے ڈیٹا کے مطابق ان پرندوں کی نو اقسام ایسی تھیں جو بڑی مدت کے بعد دیکھنے میں آئے۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات