ایران نے اسرائیل پر حملے سے کیا مقاصد حاصل کیے؟

ایرانی حملے نے اسرائیل کو بڑا نقصان نہ پہنچایا ہو مگر اس سے ایرانی کے چند بیش قیمت دفاعی مقاصد حاصل لیے ہیں جو مستقبل میں اس کے کام آ سکتے ہیں۔

14 اپریل 2024 کو اے ایف پی ٹی وی سے لی گئی اس ویڈیو میں اسرائیل پر ایرانی حملے کے دوران بیت المقدس کے آسمان کا منظر (اے ایف پی) 

ایران کے اسرائیل پر حملے کے بعد بھی بحث ابھی تک جاری ہے کہ اس حملے کا مقصد کیا تھا اور تہران نے اس سے کیا حاصل کیا کیوں کہ بظاہر تین سو سے زیادہ میزائل اور ڈورن داغے جانے کے باوجود اسرائیل کو کوئی قابلِ ذکر جانی یا انفراسٹرکچر کا نقصان نہیں پہنچا۔

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے گذشتہ روز کہا کہ اسرائیل کے خلاف ’جوابی کارروائی‘ ختم ہو گئی ہے اور اب ایران اس وقت تک کوئی نیا آپریشن شروع نہیں کرے گا جب تک اس پر حملہ نہیں کیا جاتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس کارروائی میں صیہونی حکومت کے انٹیلی جنس مرکز کو نشانہ بنایا گیا جو گذشتہ چھ ماہ کے دوران تمام کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا گیا تھا، جس میں دمشق میں ایران کے سفارت خانے کے خلاف حالیہ کارروائی بھی شامل ہے۔‘

ایرانی وزیر نے کہا کہ ’ہماری مسلح افواج نے کسی معاشی یا آبادی کے مراکز کو نشانہ نہیں بنایا، یہاں تک کہ فوجی اڈے پر حملے میں بھی ضروری درستگی کو مدنظر رکھا گیا تھا۔‘

دوسری جانب اسرائیل نے بھی امریکی حمایت نہ ملنے پر جواب دینے کے لیے ’مناسب وقت‘ کی تڑی لگا کر آپشن کھلا چھوڑ دیا ہے۔

لیکن مبصرین امید کر رہے ہیں کہ بات پہلے راونڈ سے آگے نہ بڑھے۔

اسرائیلی خرچہ

ادھر اس کارروائی پر ایران کا کتنا خرچ ہوا، یہ تو معلوم نہیں لیکن اسرائیلی میڈیا نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ اسرائیل نے ایرانی حملے کو روکنے کے لیے تقریباً ایک ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔

اسرائیلی چینل 12 نے اطلاع دی کہ حملے کے دوران تمام اسرائیلی جنگی طیارے فضا میں ہی رہے اور بمباری میں تباہی کے خوف سے ہوائی اڈوں پر نہیں آئے۔ لہٰذا ایران حملے نے اسرائیل کا کوئی جانی نقصان کیا ہو یا نہیں کم از کم اسے خوفزدہ ضرور کیا اور ساتھ میں ایک ارب ڈالر خرچ بھی کروا دیے۔

سٹریٹیجک؟

مشرق وسطیٰ پر گہری نظر رکھنے والے آواز تنظیم کے ڈائریکٹر فادی قرآن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں امریکہ کی سٹینفرڈ یونیورسٹی میں عسکری حکمت علمی پر اپنی ایک کلاس کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے معلم نے طلبہ سے پوچھا کہ اگر امریکہ عراق پر ایک نئے سٹیلتھ جیٹ طیارے سے حملہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے جو اس سے پہلے استعمال نہیں کیا گیا اور جو تمام ریڈارز کو مات دے دیتا ہے اور یہ حملہ کامیاب رہتا ہے تو کیا یہ سٹریٹیجک تھا؟‘

کلاس میں بہت سے لوگوں نے ہاتھ اٹھا کر کہا کہ ’ہاں، اس نے اپنا مقصد حاصل کر لیا۔‘ لیکن پروفیسر نے کہا: ’ہو سکتا ہے کہ ایسا نہ ہوا ہو۔‘ کیوں؟

ان کا اصرار تھا کہ یہ سٹریٹیجک نہیں تھا کیونکہ آپ کے مخالفین آپ کی صلاحیتوں کو جان گئے اور بہت جلد وہ اس کا توڑ نکال لیں گے۔ ان کے خیال میں اگر یہ حملہ روایتی ہتھیاروں سے کیا جا سکتا ہے، تو بہتر ہے کہ آپ اپنے بہترین ہتھیاروں کو اس وقت تک خفیہ رکھیں جب تک کہ آپ کو ان کی ضرورت نہ ہو۔

فادی قرآن کا تجزیہ یہ ہے کہ ایران کے حملے کے پیمانے، اس نے جن مقامات کو نشانہ بنایا اور ہتھیاروں کا استعمال کیا، اس نے اسرائیل کو مجبور کیا کہ وہ خطے میں امریکہ اور اس کے پاس موجود تمام میزائل شکن ٹیکنالوجیز کو بروکار لائے۔

ایرانیوں نے کوئی ایسا ہتھیار استعمال نہیں کیا جس کے بارے میں اسرائیل کو علم نہ ہو، اس نے صرف ان کی بہت زیادہ مقدار استعمال کی۔ فادی جیسے ماہرین کا خیال ہے کہ ایرانیوں کے پاس اب تقریباً مکمل نقشہ موجود ہے کہ اسرائیل کا میزائل دفاعی نظام کیسے کام کرتا ہے اور ساتھ ہی اردن اور خلیج عرب میں امریکہ کی تنصیبات کہاں کہاں ہیں۔ اب اب اسے اس سے نمٹنے کے لیے زیادہ وقت شاید نہ لگے۔

اہم بات یہ ہے کہ ایران اب اس حملے سے حاصل ہونے والی تمام خفیہ معلومات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایران نے ایک اور مقصد یہ بھی حاصل کیا کہ 1973 کی جنگِ یوم کپور کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ملک نے اسرائیل پر براہِ راست حملہ کیا ہے، ورنہ اس سے پہلے زیادہ تر حزب اللہ اور حماس جیسے عسکریت پسند گروہ ہی یہ کام کرتے رہے ہیں۔ 

اس سے اسرائیل کی فوجی بالادستی کا وہ تصور بھی ختم ہو گیا ہے کہ خطے کے کسی ملک کی اتنی جرات نہیں کہ وہ کھل کر اسرائیل کے سامنے آ سکے۔ اس سے یقیناً اسرائیلی عوام کے عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہو گا۔

اس کے علاوہ یہ حملہ اسرائیل کو ایک سخت پیغام بھی ہے کہ اگر اس نے مستقبل میں ایران پر یا ایرانی مفادات پر حملہ کیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

کوئی بھی یہ اگر سمجھتا ہے کہ یہ محض ڈراما تھا، وہ اس کے سیاق و سباق کو سمجھنے سے محروم ہے۔ فوجیں حکمت عملی  کا مقابلہ تکنیک سے کرتی ہیں۔ دنیا کے لیے ایک شو قائم کرنے ایک اہم عنصر رہتا ہے لیکن ’دشمن‘ کے بارے میں انٹیلی جنس جمع کرنا زیادہ اہم ہوتا ہے۔

نتن یاہو اور اسرائیلی حکومت فوری گرما گرم جنگ کو ترجیح دیتے ہیں جہاں وہ امریکہ کو بھی گھسیٹ سکیں، جبکہ ایران ایک طویل جنگ کو ترجیح دیتا ہے جو اسرائیل کو اس کی ڈیٹرنس صلاحیتوں سے محروم کر دے۔

تہران کے حملے کا بظاہر مقصد زیادہ سے زیادہ تماشہ اور کم سے کم ہلاکتیں تھا کیونکہ اسرائیل پر تقریبا 1000 میل کی دوری سے حملہ کرنا انتہائی مشکل تھا۔ قاتل ڈرونز کے روانا ہونے سے اسرائیل کو کئی گھنٹے پیشگی اطلاع مل گئی تھی۔

 حملہ علامتی تھا۔ ایران اور اس کے غیر ریاستی اتحادیوں میں سے ایک ہمسایہ ملک سے فائرنگ کرنے کی بجائے، یہ اسرائیل پر ایرانی سرزمین سے براہ راست پہلا حملہ تھا۔

حملے کے آغاز کے فورا بعد اقوام متحدہ میں ایران کے مستقبل مندوب کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر فوری پوسٹ اس بات کی وضاحت تھی کہ ایران اس سے زیادہ آگے نہیں بڑھ رہا۔

خوشی کا موقع

اس حملے سے اس نے ایرانی عوام اور اس کے دیگر ممالک میں حامیوں کو یقیناً خوشی کا ایک موقف فرام کیا۔ ایرانی قیادت اسرائیل پر حملہ کرنے پر مجبور تھی۔ اس نے شام، لبنان، یمن یا عراق میں پراکسی کے ذریعے نہیں بلکہ اپنی سرزمین سے آپریشن شروع کر کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔

معاشی طور پر عالمی پابندیوں اور بدحالی سے مجبور ایران کسی طویل جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس آپریشن کے بارے میں نسبتاً اعلیٰ درجے کی امریکی انٹیلی جنس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ایران مغربی رہنماؤں کے ساتھ بیک چینلنگ میں ملوث تھا۔ ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان نے کہا کہ انہوں نے ہمسایہ ممالک بشمول امریکہ کے بڑے اتحادیوں کو 72 گھنٹے کا نوٹس دیا تھا۔

ایران نے یہ حکمت علمی جنوری 2020 میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنا کر قتل کرنے کے بعد بھی استعمال کی تھی۔ تہران نے الاسد ایئربیس سمیت عراق میں امریکی فوجی ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر بیلسٹک میزائل برسانے سے قبل امریکی فوجیوں کو 10 گھنٹے کی پیشگی وارننگ دی تھی۔ اس حملے میں بھی کوئی امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ امریکہ نے اس وقت بھی جوابی کارروائی نہیں کی جس سے علاقے میں طویل جنگ کا خطرہ ٹل گیا تھا۔

لیکن اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے بارے میں کچھ یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔ اسرائیل کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی ایران کو مزید سخت موقف اختیار کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ مغربی تجزیہ کاروں کو خدشہ ہے کہ ایسی صورت حال تہران کو جوہری ہتھیاروں کی جانب دھکیل سکتی ہے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا