وزیراعظم محمد شہباز شریف صدر شی جن پنگ کی دعوت پر ہفتے کو چین کے سرکاری دورے پر روانہ ہوگئے، جہاں وہ تیان جن میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے 25 ویں سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
چین طویل عرصے سے پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ کار اور قریبی سٹریٹیجک اتحادی ہے، جس کی بنیاد اربوں ڈالر کے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) پر ہے۔ دونوں ممالک سی پیک 2.0 کو آگے بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں جس کا محور صنعتی ترقی، زراعت، توانائی اور رابطے ہیں۔
وزیراعظم آفس نے اپنے بیان میں کہا کہ شہباز شریف لاہور سے تیان جن کے لیے روانہ ہوئے۔ ان کے ہمراہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطا للہ تارڑ اور وزیراعظم کے مشیر طارق فاطمی بھی چین گئے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف 30 اگست سے چار ستمبر تک اپنے دورے کے دوران ایس سی او سربراہی اجلاس سے خطاب کریں گے، جس کے دوران وہ ’پاکستان کی خطے میں امن کی کوششوں، علاقائی روابط میں اضافے اور خطے کے عوام کی ترقی کے فروغ کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔‘
وزیراعظم آفس نے مزید کہا کہ ’وزیراعظم خطے میں موجود ممالک پر موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات بشمول بڑھتی ہوئی قدرتی آفات کے نئے چیلنجز پر روشنی ڈالیں گے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شہباز شریف بیجنگ میں صدر شی جن پنگ اور دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ فوجی پریڈ میں بھی شریک ہوں گے جو دنیا کی فسطائیت کے خلاف دوسری عالمی جنگ کے 80 سال مکمل ہونے پر ہو رہی ہے۔
دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف معروف چینی تاجروں اور کاروباری کمپنیوں کے عہدے داروں سے بھی ملاقات کریں جس میں دوطرفہ تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری پر بات چیت کی جائے گی۔
وہ بیجنگ میں پاکستان چین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان قیادت کی سطح پر تبادلے کا حصہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک اپنی ’ہر موسم کی سٹریٹیجک شراکت داری‘ کو مزید گہرا کرنے، ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کے معاملات پر حمایت کے اعادے، سی پیک کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے اور علاقائی و عالمی معاملات پر باقاعدہ رابطہ رکھنے کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔
شہباز شریف نے جون 2024 میں بھی چین کا دورہ کیا تھا، جس میں انہوں نے بیجنگ میں چینی صدر اور وزیراعظم سے ملاقات کی تھی۔ اس موقعے پر انہوں نے شیان میں ثقافتی اور تعلیمی مقامات کا دورہ کیا اور اعلان کیا کہ 1000 پاکستانی طلبہ کو چین میں زرعی تربیت دلوائی جائے گی۔
اس پانچ روزہ دورے میں توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کی سرکردہ چینی کمپنیوں سے ملاقاتیں بھی شامل تھیں کیونکہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں مینوفیکچرنگ اور دیگر مواقع تلاش کرنے کی ترغیب دینے کی کوشش کر رہی تھی۔