انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایک اہم ملاقات میں کہا ہے کہ نئی دہلی بیجنگ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
اس موقعے پر دونوں ممالک نے برسوں سے جاری سرحدی کشیدگی سے پیدا ہونے والے اختلافات کو ایک طرف رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے دو روزہ اجلاس میں شرکت کے لیے وزیر اعظم مودی سات سال بعد پہلی بار چین کا دورہ کر رہے ہیں۔
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، روسی صدر ولادی میر پوتن، وسطی، جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے دیگر رہنما بھی ایس سی او کے اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں جس سے عالمی جنوب کی یکجہتی کا اظہار ہوتا ہے۔
سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو کلپ کے مطابق مودی نے سربراہ اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقات میں صدر شی کو بتایا کہ ’ہم باہمی احترام، اعتماد اور حساسیت کی بنیاد پر اپنے تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔‘
PM @narendramodi held talks with President Xi Jinping in Tianjin. pic.twitter.com/fZKHpgqz8U
— PMO India (@PMOIndia) August 31, 2025
انڈین وزیر اعظم اور چینی صدر کے درمیان یہ ملاقات واشنگٹن کی جانب سے انڈین مصنوعات پر 50 فیصد سخت ٹیرف عائد کرنے کے پانچ دن بعد ہوئی۔ یہ ٹیرف نئی دہلی کی روسی تیل کی خریداری کے باعث لگایا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر شی اور وزیر اعظم مودی مغربی دباؤ کے خلاف ایک متفقہ موقف پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مودی نے کہا کہ دونوں ملکوں کی متنازع ہمالیائی سرحد پر ’امن اور استحکام‘ کا ماحول پیدا ہو گیا ہے، جو 2020 میں خونریز جھڑپوں کے بعد طویل فوجی کشیدگی کا مرکز رہی اور جس نے ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ان سٹریٹجک حریفوں کے درمیان زیادہ تر شعبوں میں تعاون منجمد کر دیا۔
نریندر مودی کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی انتظام کے حوالے سے معاہدہ طے پا گیا تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
چین کے سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق صدر شی نے کہا کہ ’ہمیں سرحدی مسئلے کو چین اور انڈیا کے مجموعی تعلقات پر اثر انداز نہیں ہونے دینا چاہیے۔‘
چینی صدر نے مزید کہا کہ اگر دونوں فریق ایک دوسرے کو حریف کی بجائے شراکت دار کے طور پر دیکھنے پر توجہ دیں تو چین اور انڈیا کے تعلقات ’مستحکم اور دور رس‘ ثابت ہو سکتے ہیں۔
دونوں رہنماؤں کی گذشتہ سال روس میں ایک اہم ملاقات ہوئی جب انہوں نے سرحد پر گشت کے معاہدے پر اتفاق کیا جس سے تعلقات میں محتاط حد تک پگھلاؤ شروع ہوا۔ اس عمل میں گذشتہ ہفتے تیزی آئی کیوں کہ انڈین حکومت واشنگٹن کی جانب سے ٹیرف کی نئی دھمکیوں کے خلاف تحفظ کی کوشش کر رہا ہے۔
مودی نے تاریخ کا ذکر کیے بغیر مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان 2020 سے معطل براہ راست پروازیں ’بحال کی جا رہی ہیں۔‘
چین نے اس ماہ اپنے وزیر خارجہ وانگ ژی کے انڈیا کے اہم دورے کے دوران کمیاب معدنیات، کھادوں اور سرنگ بنانے والی مشینوں پر برآمدی پابندیاں ختم کرنے پر اتفاق کیا۔
چین کے انڈیا میں سفیر شو فی ہونگ نے اس ماہ کہا کہ چین انڈیا پر واشنگٹن کے سخت ٹیرف کا مخالف ہے اور ’انڈیا کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا۔‘
واشنگٹن نے دہائیوں تک بڑی محنت سے نئی دہلی کے ساتھ تعلقات استوار کیے اس امید پر کہ وہ خطے میں بیجنگ کے خلاف توازن قائم کرنے میں کردار ادا کرے گا۔
تاہم گذشتہ مہینوں میں چین نے انڈین یاتریوں کو تبت میں بدھ مت کے مقامات پر جانے کی اجازت دی اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر سیاحتی ویزا پابندیاں ختم کر دیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بنگلورو کے تھنک ٹینک تکششیلا انسٹی ٹیوشن میں چین انڈیا تعلقات کے ماہر منوج کیولرامانی نے کہا کہ ’انڈیا اور چین ایک ایسے عمل میں مصروف ہیں جو غالباً طویل اور مشکل ہوگا اور جس میں تعلقات میں ایک نیا توازن طے کرنا شامل ہے۔‘
تاہم تعلقات میں دیگر طویل مدتی رکاوٹیں بدستور موجود ہیں۔
چین انڈیا کا سب سے بڑا دو طرفہ تجارتی شراکت دار ہے لیکن طویل عرصے سے جاری تجارتی خسارہ، جو انڈین حکام کے لیے مستقل مایوسی کا باعث ہے، اس سال ریکارڈ 99.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
اسی دوران تبت میں چین کے میگا ڈیم کے منصوبے نے بڑے پیمانے پر پانی کا رخ موڑنے کے خدشات کو جنم دیا۔ انڈین حکومتی اندازوں کے مطابق مجوزہ ڈیم سے خشک موسم میں دریائے برہم پتر کے پانی کے بہاؤ میں 85 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔
انڈیا تبت کے باغی رہنما دلائی لاما کی میزبانی میں بھی مصروف جو تبتی بدھ مت کے جلا وطن روحانی پیشوا ہیں اور بیجنگ انہیں خطرناک علیحدگی پسند اثر سمجھتا ہے۔ انڈیا کا حریف پاکستان بھی چین کی مضبوط معاشی، سفارتی اور فوجی حمایت سے فائدہ اٹھاتا ہے۔