حال کے فیصلے تاریخ کے ترازو میں تولنے کا ہنر صرف وہی جانتے ہیں جو دور اندیش ہوتے ہیں۔ فیصلے کیسے تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں اگر اس کا اندازہ بروقت ہو جائے تو تاریخ ان فیصلوں کے سامنے سر تسلیم خم کرتی ہے ورنہ لمحوں کی خطا صدیوں کی سزا بن جاتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ڈیووس میں ایک الگ ہی محفل جمائی جس کے مدعوئین نے غزہ امن بورڈ کے معاہدے پر دستخط کیے۔ صدر ٹرمپ نے اس موقعے پر محفل میں موجود ’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘ کا خصوصی طور پر پوچھا اور آنکھوں کے اشارے سے اپنی پسندیدگی کا ایک بار پھر اظہار کیا۔
عالمی رہنماؤں اور خصوصاً ٹرمپ جیسی شخصیت کا ہر ردعمل اور بدن بولی معنی رکھتی ہے، گویا صدر ٹرمپ کا مرکز نگاہ واضح تھا۔
(یہ صدر ٹرمپ کا اقوامِ متحدہ سے بالا ہی بالا خودساختہ اقدام ہے، اور ملک اس میں شامل ہوئے ہیں انہیں بھی ٹھیک ٹھیک معلوم نہیں کہ اس میں دراصل ہو گا کیا۔)
صدر ٹرمپ کی اس محفل سے اسرائیل غیر حاضر رہا جس کا فائدہ دیگر مسلم ممالک کو ہوا یا نہیں البتہ پاکستان اندرون خانہ ایک بڑے تنازعے سے بچ گیا۔ امریکی جریدے ’ایکسیوس‘ کے مطابق اسرائیلی صدر جو ڈیووس میں موجود تھے، انہیں اس تقریب میں شرکت کرنے سے خود نتن یاہو نے منع کیا اور اس بارے میں وائٹ ہاؤس اور نتن یاہو میں کافی لے دے بھی ہوئی تاہم وائٹ ہاؤس نے رفح راہداری کھلوانے کے لیے اس تنازعے کو ہوا نہ دی جس کے لیے جیرلڈ کُشنر اور سٹیو وٹکوف اسرائیل پہنچ رہے تھے۔
ذرا تصور کیجیے کہ اگر وزیراعظم شہباز شریف اور اسرائیلی صدر ٹرمپ کے عقب سے جھانک رہے ہوتے تو پاکستان میں کیا صورت حال ہوتی۔
اطلاعات یہ بھی ہیں کہ اسرائیل ترکی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی فوج بھی غزہ میں نہیں دیکھنا چاہتا (تاہم اسرائیل نے باضابطہ طور پر اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا)، یہی وجہ ہے کہ تاحال پاکستان کا کردار غزہ سے باہر تصور کیا جا رہا ہے۔
پاکستان چند فیصلے کر چکا ہے، حیران کن اور تاریخی۔۔۔ اب تاریخ ان فیصلوں کو کیسے دیکھے گی اسے حال کی نظر سے دیکھنا ہو گا۔ درست ہوتا اگر اس معاملے پر پارلیمان کو اعتماد میں لیا جاتا یا کم از کم سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو اعتماد میں لے کر فیصلے کیے جاتے تاہم اس کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔
غزہ امن بورڈ کا حصہ بننے کا فیصلہ وقت کا تقاضہ ہے یا انکار کی کوئی گنجائش نہیں، عالمی میز پر جگہ بنانا مقصود یا اور کوئی راستہ عدم موجود۔۔۔ بہرحال وہ فیصلہ لے لیا گیا جس پر پاکستان کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے یا تو خاموشی سادھ رکھی ہے، یا پھر ہلکے پھلکے احتجاج کے ساتھ فی الحال قبول کر لیا ہے۔ کسی بھی جماعت بشمول جمعیت علمائے اسلام، تحریک تحفظ آئین جس میں تحریک انصاف بھی شامل ہے، نے سوائے پارلیمنٹ اور کابینہ کو اعتماد میں نہ لیے جانے کے شکوے اور لفظی جنگ کے کوئی باضابطہ اعتراض نہیں اٹھایا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان کن شرائط پر غزہ امن بورڈ کا حصہ بنا ہے یہ سوال غور طلب ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے امن بورڈ کے قیام کے بعد آن ریکارڈ یہ بات کہی ہے کہ پاکستان حماس سمیت کسی بھی مسلح تنظیم کو غیر مسلح کرنے میں اپنا کردار ادا نہیں کرے گا۔
ساتھ ہی ساتھ پاکستان کے اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے چند صحافیوں سے ملاقات میں یہ واضح کیا کہ پاکستان نے اپنی پوزیشن، اپنے ارادے، اور پاکستان کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں کر سکتا، یہ سب واضح کر رکھا ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان کسی صورت کسی ایسے عمل کا حصہ نہیں بن سکتا جو اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے خلاف ہو۔
پاکستان کے عسکری اور حکومتی ذرائع یہ واضح کر رہے ہیں کہ پاکستان فلسطینی عوام کی امنگوں کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کرے گا کیونکہ فلسطین کے حل کے ساتھ ہی کشمیر کا مسئلہ بھی جڑا ہے اور پاکستان کی کسی بھی مصلحت پسندانہ پالیسی کی صورت میں مسئلہ کشمیر پر پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔
مقتدرہ اور حکومت اس نتیجے پر ہیں کہ پاکستان القدس الشریف کو فلسطین کی آزاد ریاست کے دارالخلافہ کے طور پر تسلیم کرنے کا حامی رہا ہے اور آج بھی یہی مطالبہ کرتا ہے۔
غزہ امن بورڈ کے مستقبل پر ابھی سے بہت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اسرائیل اس امن بورڈ کے ساتھ کس حد تک تعاون کرے گا اور اپنی تسلط پسندانہ ارداوں کو کتنا روک پائے گا؟ تعمیر نو میں پاکستان اور اسرائیل ایک ہی بورڈ کا حصہ بنیں گے تو پاکستان کا کردار کیا ہو گا؟ ابھی بہت سے مراحل ہیں اور بورڈ سے نکلنے کے بہت سے مواقع بھی۔ مگر سوال یہ ہے کہ پاکستان کس حد تک جا سکے گا اور دوسری صورت میں نتائج کیا ہوں گے؟
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔