’ہم ایک دوسرے کے چہرے دیکھے بغیر کام کرتے رہے‘

نیو یارک کے ایک ہسپتال میں کام کرنے والی پاکستانی ڈاکٹر مریم باقر کا کہنا ہے کہ وبا کے دوران ملک بھر سے کئی سو ڈکٹر، نرس اور دیگر عملہ آیا جس میں سب ایک دوسرے کی بڑھ کر مدد کر رہے ہیں لیکن ماسک کی وجہ سے کسی نے کسی کا چہرہ نہیں دیکھا۔

کرونا (کورونا) وائرس کی وبا نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا لیکن سب سے زیادہ تہلکا اس نے اٹلی کے بعد امریکہ میں مچایا جہاں ملک کے تقریباً آدھے سے زیادہ متاثرین صرف نیو یارک کی ریاست میں پائے گئے۔

نیو یارک شہر کےعلاقے بروکیلن میں ایک پاکستانی ڈاکٹر مریم باقر، جو میمونِڈیز میڈیکل سینٹر میں انٹرنل میڈیسن کی سینیئر ریزیڈنٹ فزیشن ہیں، نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ان پر اچانک مریضوں کا بوجھ بڑھ گیا اور انہوں نے کیسے اس کا سامنا کیا۔

ان کا کہنا تھا: ’کرونا کے دور سے پہلے جب ہماری ڈیوٹی ختم ہوتی تھی تو ہم یہاں وہاں گھومنے چلے جاتے تھے۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ شفٹس لمبی ہوگئی ہیں اور ہمارا کام اور بڑھ گیا ہے۔ اب جب میری شفٹ ختم ہوتی ہے تو میں پہلے اپنے آپ کو اچھی طرح جراثیم سے پاک کرتی ہوں۔ جتنا انسانی طور پر ممکن ہے خود کو اور اپنی ایک ایک چیز کو کلورہیکسڈین سے صاف کرتی ہوں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’شروع کے دنوں میں تو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔ نیچے ایمرجنسی میں 50 لوگوں کی جگہ ہوتی تھی اور 500 لوگ جمع ہوتے تھے۔ نہ بستر ہیں نہ مشینین ہیں۔ اس کی وجہ سے راتوں رات ہم پر بوجھ بڑھ گیا۔ ہماری شفٹیں لمبی ہوگئیں۔ ہماری چھٹیاں ختم ہو گئیں۔ اس سے کافی سٹریس بڑھ گیا۔‘

ڈاکٹر مریم نیو یارک میں اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہیں۔ ان کے گھر والے پاکستان میں ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر مریم نے بتایا کہ ہسپتال کے سٹریس سے نمٹنے میں ان کے شوہر نے ان کا بہت ساتھ دیا۔ ان کے گھر والے بھی ان کی صحت کے حوالے سے پریشان رہتے ہیں۔

’امی پہلے میرے سوشل میڈیا کے استعمال سے پریشان تھیں۔ اب جب میں اگر پوسٹ نہیں کرتی تو وہ مزید پریشان ہو جاتی ہیں کہ کہیں مجھے کچھ ہو نہ گیا ہو۔‘

مریم نے بتایا کہ ڈاکٹروں کو اس بات کے لیے ٹرین کیا جاتا ہے کہ مریض سے زندگی اور موت کی بات کیسے کرتے ہیں لیکن کرونا وائرس کی وبا کے پہلے ہفتے میں شاید ایک موت دیکھ لیتے تھے۔ وبا کے بعد دن میں بیس بیس لوگ مرنا شروع ہوگئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اس وبا میں سب سے زیادہ جو ذہنی طور پر پریشان کن بات تھی وہ یہ کہ انفیکشن پالیسی کی وجہ سے مریضوں گھر والے اپنے پیاروں سے ملنے نہیں آ سکتے تھے۔ کئی دفعہ ایسا بھی ہوتا تھا کہ جو لوگ کرونا کی وجہ سے ہسپتال لائے جاتے ہیں اکثر ان کے گھر والے بھی کرونا کا شکار ہوتے ہیں اور قرنطینہ میں ہوتے ہیں۔ میں نے کتنے لوگوں کی موت ہوتے دیکھی ہے جن کے آخری لمحات میں ان کے پاس ان کا کوئی پیار کرنے والا نہیں تھا۔ میں اپنے فون سے ویڈیو کال کر کے مریض کے گھر والوں کو آخری بار ان کی شکل دکھاتی تھی۔‘

’اس مجبوری سے مریضوں کا اور ان کے گھروالوں کا دل تو ٹوٹا لیکن ڈاکٹروں کے دل پر کیا گزرتی ہے وہی جانتے ہیں۔‘

ڈاکٹر مریم نے بتایا کہ وہ اس ہسپتال میں تین سال سے کام کر رہی ہیں اور وہاں کون کون کام کرتا ہے انہیں پتہ ہے لیکن وبا کے دوران پورے ملک سے کئی سو ڈاکٹر اور نرسز اور دیگر عملہ آیا جو ایک دوسرے کی بڑھ کر مدد کر رہے ہیں لیکن کسی کو معلوم ہی نہیں کہ جس نے اس کی مدد کی وہ دکھتا کیسا ہے کیونکہ سب نے ماسک پہنے ہوئے ہیں۔

’ہم ایک دوسرے کے چہرے دیکھے بغیر جانے بغیر ایک دوسری کی ہمت بنے رہے۔‘

ڈاکٹر مریم نے بتایا کہ جسمانی طور پر تمام طبی عملہ پرسنل پروٹیکٹو اکوئپمنٹ کو پہن کر کیسے تنگی برداشت کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اکثر ان کی شفٹ جو 12 گھنٹوں کی ہوتی تھی اب 14 گھنٹے ہوجاتی ہے اور اس پوری شفٹ میں ان کو منہ پر این 95 ماسک پہنے رہنا پڑتا ہے۔

’اس ماسک میں تار ہوتی ہے جو آپ کے منہ کو پورے طرح سے بند کر دیتی ہے۔ اس تار سے ناک پر بہت دباؤ پڑتا ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ پوری شفٹ اسی ماسک کو پہن کر مکمل کرنی ہوتی ہے اور پورے 12 سے 14 گھنٹے یہ درد برداشت کرنا ہوتا ہے۔ ’اس کے علاوہ اس ماسک کی وجہ سے آپ مسلسل اپنی کاربن ڈائی آکسائڈ میں سانس لے رہے ہیں۔ ہمیں کھلی ہوا نہیں مل رہی۔ اس کی وجہ سے کام کرتے کرتے ڈاکٹر اور نرسز سر میں درد کی شکایت کرتے ہیں۔‘

ڈاکٹر مریم نے بتایا کہ کرونا کی وبا کی وجہ سے پہلی دفعہ ان کو ہسپتال میں اپنی جان کا خطرہ محسوس ہوا حالانکہ انہوں نے بہت سی ایسی بیماریوں کا علاج کیا ہے جو جان لیوا ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا: ’ہم میں سے کسی نے نہیں سوچا تھا کہ اس وائرس سے اتنی جانیں جائیں گی۔ ہمیں ابھی تک کرونا وائرس کے بارے میں پوری معلومات نہیں ہے اور نہ ہی اس کی ویکسین ایجاد ہوئی ہے اس لیے احتیاط ابھی بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی وبا کہ شروع کے دنوں میں تھی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا