عالمی دہشت گرد قرار دیے جانے والے نور ولی محسود کون ہیں؟

اقوام متحدہ نے مفتی نور ولی کا نام القاعدہ اور نام نہاد داعش پر نظر رکھنے والی سیکورٹی کونسل کی کمیٹی کی اس فہرست میں شامل کر دیا ہے جس میں شدت پسندی سے منسلک ان افراد کے نام ہیں جن پر عالمی پابندیاں عائد ہیں۔

نور ولی محسود  (ٹی ٹی پی مواد)

اقوام متحدہ نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سابق امیر مفتی نور ولی محسود پر عالمی پابندیاں عائد کر دیں ہیں جن میں ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد، نقل و حرکت پر پابندی سمیت ان کو کسی قسم کے اسلحے کی فراہمی پر پابندی عائد ہو گی۔

اقوام متحدہ کے سیکورٹی کونسل کی جانب جمعرات کو جاری ایک اعلامیے کے مطابق سکیورٹی کونسل کی قرارداد کے تحت مفتی نور ولی، جو ابو منصور عاصم کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، کا نام القاعدہ اور نام نہاد داعش پر نظر رکھنے والی سکیورٹی کونسل کی کمیٹی کی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے جس میں شدت پسندی سے منسلک ان افراد کے نام ہیں جن پر عالمی پابندیاں عائد ہیں۔

اعلامیے مطابق مفتی نور ولی پر پابندیاں اس لیے عائد کی گئی ہیں کیونکہ وہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہے جن میں پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملے بھی شامل ہے۔

امریکہ پہلے ہی گذشتہ سال مفتی نور ولی کا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر چکا ہے۔

مفتی نور ولی کون ہیں؟

بیالیس سالہ مفتی نور ولی کا تعلق قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان سے ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز پر شائع ایک مقالمے کے مطابق مفتی نور ولی  ایک ’مذہبی سکالر اور لکھاری‘ ہیں جنہوں نے مذہبی تعلیمات فیصل آباد کے جامعیہ امدادیہ، جامعہ حتیمیہ اور جامعہ فاروقیہ سے حاصل کی۔

مفتی نور ولی گجرانوالہ کے جامعہ نصرت العلوم اور کراچی کے جامعہ احسن العلوم اور جامعہ یاسین القران میں بھی پڑھ چکے ہیں۔

انہوں نے 1999 میں مدرسے سے فارغ ہو کر جنوبی وزیرستان کے مدرسہ امدادالعلوم میں دو سال بطور استاد پڑھایا۔

مفتی نور ولی کا ٹی ٹی پی کے سابق امیر بیت اللہ محسود کے خاص کمانڈروں میں شمار ہوتا تھا اور ڈپٹی کمانڈر بھی رہ چکے ہیں جس کے بعد وہ ٹی ٹی پی کی بنائی گئی عدالت کے جج (قاضی) بھی رہے جو مختلف معاملات میں کیس سنتے اور فیصلے سناتے تھے۔

نور ولی کو 2013 میں ٹی ٹی پی کراچی کا امیر منتخب کیا گیا جو وہ دو سال تک رہے۔ اس کے بعد وہ ٹی ٹی پی سے الگ ہونے والے محسود گروپ کے امیر خالد سعید سجنا کے ساتھ بطور نائب کام کرتے رہے۔

سال 2018 میں ملا فضل اللہ کی ہلاکت کے بعد مفتی نور ولی کو ٹی ٹی پی شوریٰ نے امیر منتخب کر دیا۔

مفتی نور ولی کو ٹی ٹی پی سرکل میں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ وہ ایک عالم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ نور ولی نے ٹی ٹی پی کے بننے سے لے کر ان کی  کارروائیوں کے حوالے سے ’انقلاب محسود‘ کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی جس میں انہوں نے ٹی ٹی پی کی بنیاد رکھنے اور اس کے بعد کے صورت حال کے حوالے سے تاریخ بیان کی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مفتی نور ولی نے اپنی اس کتاب میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو پر حملے کی تصدیق بھی کی تھی۔ اس کتاب میں بے نظیر بھٹو پر حملے کی منصوبہ بندی کی مکمل تفصیل موجود ہے۔ اس کے علاوہ بھی نور ولی مختلف دینی اور زیادہ تر جہاد کے حوالے سے کتابیں لکھ چکے ہیں۔

اپنی کتاب ’انقلاب محسود‘ میں نور ولی نے لکھا ہے کہ ’حقیقی جہاد‘ افغانستان میں امریکی فورسز کے خلاف ہے اور پاکستان کے قبائلی علاقوں کو اسی ’جہاد ‘ کے لیے بطور بیس کیمپ استعمال  کیا جا رہا ہے۔

نور ولی افغانستان میں 90 کی دہائی میں نام نہاد افغان جہاد میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔ 11 ستمبر کے حملوں کے بعد افغانستان پر امریکی حملے کے نتیجے میں طالبان کی حکومت ختم ہونے کے بعد انہوں نے وزیرستان آکر یہاں طالبان میں شمولیت اختیار کی۔

صحافی رسول داوڑ نے انڈپینڈںٹ اردو کو بتایا کہ نور ولی بیت اللہ اور حکیم اللہ محسود کے دور سے ٹی ٹی پی کے لیے کام کر رہے ہیں اور پاکستانی ریاست کے خلاف جنگ کر رہے ہیں تاکہ اپنے مقاصد حاصل کر سکیں۔

خیال رہے کہ رسول داوڑ کا پشاور کے ان صحافیوں میں شمار ہوتا ہے جو ٹی ٹی پی کے مختلف سینیئر رہنماؤں کے  انٹریو کر چکے ہے۔

انہوں نے کہا کہ نور ولی کی شخصیت باقی طالبان رہنماؤں سے تھوڑی مختلف ہے کیونکہ یہ جنگ میں کم اور تحریر میں زیادہ مصروف رہتے  ہیں اور جب شدت پسندی عروج پر تھی تو اس وقت بھی یہ ٹی ٹی پی کی مختلف کارروائیوں کے حوالے سے ایک ڈائری لکھا کرتے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان