جب سوز خوانی سے بارش برس پڑی

زندے صاحب نے رباعی کا پہلا مصرعہ پڑھا تو انہوں نے سر اٹھا کر بے ساختہ داد دی۔ دیکھنے والے بڑے حیران ہوئے کہ آج انہیں کیا ہوا ہے۔ دوسری طرف وہ ہر چیز سے بے خبر تھے، وہ بس شامیانے سے باہر آسمان کی طرف بار بار دیکھتے تھے اور بے خود، داد دیتے جاتے تھے۔

(سوشل میڈیا)

لکھنئو ہے، غازی الدین حیدر کا زمانہ ہے، درجہ کمال کے ایک گانے والے ہیں، نام حیدری خان ہے، مشہور ہیں سڑی حیدری خان کے نام سے۔

فن کی تپش یا مزاج کی تلخی اور فراموشی، کچھ بھی وجہ ہو، لوگوں میں سڑی حیدری خان کے نام سے مشہور ہیں۔ محرم ہوتا ہے تو سڑی حیدری خاں سوز خوانی بھی کرتے ہیں اور ان کی شہرت اتنی ہے کہ بادشاہ غازی حیدر بھی انہیں سننے کے لیے بے چین ہیں لیکن کیسے بادشاہ ہیں کہ انہیں کوئی سبب نہیں مل رہا جو حیدری خاں کو سن پائیں۔

ایک دن شاہی سواری نکلی، دریا کنارے پہنچی، اچانک چند لوگوں نے بتایا کہ صاحب عالم، حیدری خاں وہ سامنے جاتے نظر آ رہے ہیں۔ بادشاہ نے کہا پیش کیا جائے، ہرکاروں نے حیدری خاں کو گھیرا اور پیش کر دیا۔

حیدری خاں کو علم نہ تھا کہ یہ بادشاہ ہیں۔ غازی حیدر نے پوچھا کہ حیدری خاں ہمیں تم نے کبھی اپنا گانا نہیں سنایا، حیدری خاں کہتے ہیں ہمیں آپ کا گھر نہیں معلوم، ورنہ سنا دیتے۔ بادشاہ ہنس پڑے، ساتھ لے گئے۔ کہا سنائیے، انہوں نے ایسی محفل گرمائی کہ وجد طاری ہو گیا سب پر۔ اب حیدری خاں رک گئے۔ غازی الدین حیدر کہتے ہیں کہ گائیے، سڑی حیدری خاں پوچھتے ہیں کہ آپ نے یہ جو تمباکو حقے میں ڈلوایا ہے، یہ بہت عمدہ ہے، کہاں سے منگوایا؟

بادشاہ کو ناگوار گزرا، ادھر ادھر دیکھا، بتایا گیا کہ حضور اسی مزاج کی وجہ سے انہیں سڑی کہتے ہیں، سنک میں  ہیں اپنی، تو خیر، کچھ وقت بعد انہوں نے گانا دوبارہ شروع کر دیا۔

اب کے بادشاہ نے کہا کہ ہمیں خوش تو کر دیا حیدری خاں تم نے گا کر، اب اپنے فن سے تم نے ہمیں اب رلایا نہیں تو ہم تمہیں دریا میں ڈبو دیں گے۔ سڑی حیدری خاں کو اب اندازہ ہونے لگ گیا کہ استاد، سامنے بادشاہ ہی بیٹھے ہیں جو ایسی بات کہہ رہے ہیں۔

اللہ کا نام لے کر شروع کیا اور کچھ ہی دیر میں ایسا ماحول بن گیا کہ جو محفل پہلے جھوم رہی تھی اب ایک رنج کی فضا وہاں طاری ہو گئی، بادشاہ کے بھی آنسو نکل آئے۔

پوچھا حیدری خاں کیا مانگتے ہو، کہنے لگے التجا ہے کہ دوبارہ نہ مجھے بلوائیے گا اور نہ مجھے سننے کی خواہش کیجیے گا۔

پوچھا کیوں، عرض کیا کہ سرکار آپ بادشاہ آدمی ہیں، مجھے مروا تو دیں گے، دوسرا حیدری خاں کبھی پیدا نہ ہو گا، آپ مرے تو فوراً دوسرا بادشاہ تخت سنبھالنے کو تیار ہوگا۔

بادشاہ نے اس جواب پہ منہ پھیر لیا اور یہ موقعے سے فائدہ اٹھا کے دربار سے نکل آئے۔

تو ایسے ایسے ماہر فن تھے جو سوز خوانی کی طرف متوجہ ہوئے اور جن کے شاگردوں کی مثال بھی تان سین سے ملا کر دی جاتی تھی۔٭

یہ واقعہ روایت کیا سید اسرار حسین خان نے اپنی کتاب 'قدیم ہنر و ہنر مندان اودھ' میں، ان سے روایت کی عقیل عباس جعفری نے اپنی کتاب 'سوز خوانی کا فن' میں اور ان سے فقیر حسنین جمال روایت کرتا ہے۔

جن دوستوں کو سوز خوانی کے بارے میں علم نہیں پہلے ان کے لیے تھوڑی سی وضاحت ہو جائے۔

محرم آتے ہی آپ کچھ دوستوں کی گاڑیوں اور گھروں میں نوحے سنتے ہوں گے۔ یہ ایسی چیز ہے جو ہمارے یہاں زیادہ مشہور ہوئی۔ اس کی وجہ شاید نوحوں میں ایک خاص بیٹ کا پایا جانا ہے جسے ماتم کہتے ہیں۔ وہ ریکارڈنگ ہو یا لائیو کیے جانے والا ماتم یا کسی ساز کی دھمک، اس کی وجہ سے نوحہ اپنی لے پر رہتا ہے۔

دو مزید فن ایسے ہیں جو نوحے کی بنیاد میں شامل ہیں۔ مرثیہ خوانی اور سوز خوانی۔

غم کی صورت میں کہا جانے والا کلام اتنا ہی پرانا ہے جتنی انسانی تاریخ۔ آپ دنیا کی اکثر زبانوں کا پرانا لٹریچر اٹھائیے، ہر جگہ المیہ کلام پڑھنے کو ملے گا۔ عربی میں اسے مرثیہ کہا گیا اور اسلام سے پہلے بھی اس زبان میں آپ کو مرثیے ملتے ہیں جو زیادہ تر ذاتی نوعیت کے دکھوں پر مشتمل تھے۔ بعد میں یہ لفظ ایک واقعے سے جڑ گیا اور مرثیہ فارسی سے ہوتا ہوا اردو میں آ گیا۔

مرثیہ قدیم زمانوں میں جب پڑھا جاتا تھا تو اسے گا کر نہیں پڑھتے تھے۔ جیسے مشاعروں میں شاعر سادہ لہجے میں اپنا کلام پڑھتے ہیں، ویسے پڑھا جاتا تھا۔ وہ تحت اللفظ کہلاتا تھا۔

وہی مرثیہ جب کسی دھن پر بغیر ساز کے پڑھا گیا تو اسے سوز کہا گیا۔ سوز خوانی کی مثال ویسے ہے جیسے ہم کوئی بھی مقدس کلام لحن میں پڑھتے ہیں لیکن ساتھ کسی قسم کی موسیقی نہیں ہوتی۔

یہاں ایک باریک معاملہ ہے۔ سوز خوانی کے لیے دھن کا انتخاب باقاعدہ راگوں سے ہی کیا جاتا ہے۔ راگ ہے، اس پر بول پڑھنے ہیں لیکن موسیقی نہیں ہے۔ اسی لیے شروع میں سڑی حیدری کی مثال دی کہ اس پائے کے گویوں نے برصغیر میں اس فن کا آغاز کیا۔

سُروں کا ایسا مجموعہ جو سننے والوں پر اپنا مخصوص تاثر چھوڑ جائے، وہ راگ کہلاتا ہے۔ راگوں کی قسمیں عام طور پہ نو سمجھی جاتی ہیں۔ رومینٹک، خوشگوار، غصیلی، جوش دلانے والی، تفریح یا مزاح لیے، حیرت ظاہر کرتی ہوئی، پرسکون، مایوسی کی حامل یا پھر غمگین قسم۔ 

ہماری موسیقی میں ویسے بھی غم کا ماحول زیادہ تھا، دھنیں اداس کرنے والی تھیں، ٹھمری اور دادرے یا چند مستثنیات کے علاوہ گھنٹے بعد جا کے ساز تھوڑا تیز ہوتے تھے۔ تو سوز خوانی کے لیے انہیں میں سے چند غمگین راگوں کی دھنیں منتخب کی جاتی ہیں۔

بگڑا شاعر مرثیہ گو، یہ محاورہ سب نے سنا ہے لیکن استاد بڑے غلام علی خان کی یہ بات کس نے سنی کہ سوز خوانی ہماری گائیکی سے زیادہ مشکل فن ہے؟٭ 

کیس یہ تھا کہ میوزک میں جتنے بھی استاد تھے وہ غزل، گیت یا فلمی موسیقی سے دور بھاگتے تھے۔ ان کے نزدیک یہ کمرشل کام تھا اور ایک استاد کے مقام سے وہ اسے گرا ہوا سمجھتے تھے۔ بڑے غلام علی کو ہی مغل اعظم کے لیے گانے کی پیشکش ہوئی تو انہوں نے اس لیے پچیس ہزار معاوضہ مانگ لیا تاکہ فلمساز دوڑ جائیں اور انہیں گانے کی آزمائش میں نہ پھنسنا پڑے لیکن اسی وقت کے آصف نے اس معاوضے پر انہیں بک کیا اور گوا دیا فلم میں، یہ وہ ٹائم تھا جب لتا اور رفیع جیسے گلوکار ہزار پانچ سو پہ گاتے تھے! 

تو اب جو فنکار گیت گانے سے مفرور ہے، غزل نہیں گاتا، مطلب فن کی کمی نہیں بلکہ پریکٹس نہیں ہے، طبیعت ہی نہیں بنتی، تو وہ بغیر ساز کے سوز خوانی کی بندشیں کیسے نبھائے گا؟ 

ساز نہ ہونے کی وجہ سے عام طور پہ ایک گروہ کی صورت میں سوز خوانی کی جاتی ہے جس میں لے اٹھانے والے دائیں بائیں موجود لوگ 'بازو' کہلاتے ہیں۔ وہ سوز پڑھنے والے کو ردھم مہیا کرتے ہیں۔ سوز خواں اکیلے بھی پڑھتے ہیں لیکن ان کی تعداد نسبتاً کم ہے۔ مجلس سے پہلے کا آدھا گھنٹہ عام طور پہ سوز خوانی کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔

اس فن کے ساتھ بھی وہی ہوا جو کلاسیکی موسیقی کے ساتھ ہوا تھا۔ شروعات لکھنو کے درباروں میں ہوئی کہ جہاں محرم کے دنوں میں گانے بجانے پر پابندی ہوتی تھی۔ تقریباً تین سو صدی پہلے اس پابندی کا یہ حل نکالا گیا کہ غمگین راگوں پہ بغیر موسیقی مرثیوں کی بندشیں پڑھی جائیں اور صفر کی بیس تاریخ تک یہی سلسلہ رہتا۔ سلسلہ پھیلتا گیا لیکن ریاستیں سکڑتی گئیں۔ تقسیم کے بعد نہ وہ بادشاہ اور نواب رہے جو ماہرین فن کی قدر کرتے اور نہ وہ کان رہے جو اس علم کی باریکیاں سمجھتے تھے، ویسے بھی شاہی معاملات تک عام بندے کی پہنچ ہی کتنی ہوتی ہو گی۔ تو کلاسیکل موسیقی کی طرح سوز خوانی کا سلسلہ بھی اس طرح مشہور نہیں رہا لیکن بہرحال مخصوص حلقوں میں آگے بڑھتا گیا۔

اب آ جائیں اس ستارے پر ٭ جسے سٹیرک کہتے ہیں۔ یہ اوپر جہاں جہاں موجود ہے وہاں اسی کتاب سے حوالہ لیا گیا ہے جس کا نام 'سوز خوانی کا فن' اوپر مذکور ہے۔ ابھی چند دن پہلے شائع ہوئی ہے اور اب تک اس موضوع پر واحد کتاب ہے جس میں سوز خوانی کی تاریخ سے لے کر اصول، قواعد، مروجہ راگ، مشہور کلام کہنے والوں کی تفصیل، حیدر آباد، لکھنو، دکن اور پھر پاکستان میں سوز خوانی کے مراکز، تمام متعلقہ اہم کتابوں کی تفصیل سمیت سبھی کچھ ایسا موجود ہے جو کوئی تاریخ کا طالب علم پڑھنا چاہے گا۔

جی جی، بعض سوال جو دماغ میں اٹھ رہے ہوں گے ان کے جواب بھی اسی میں ڈھونڈ لیجیے گا، اب بس جاتے جاتے سوز خوانی کے حوالے سے ایک اور دلچسپ واقعہ سنتے جائیں جو اسی میں لکھا ہے۔

استاد منجھو صاحب مرحوم کے بعد ان کے شاگرد جناب زندے رضا کو سالانہ مجلس میں سوز خوانی کے واسطے مدعو کیا گیا۔ گرمی تھی، امام باڑے کے شامیانہ لگے صحن میں سننے والوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک صاحب سننے والوں میں ایسے بیٹھے تھے جو اپنے وقت میں موسیقی کے بہت بڑے ماہر ہوا کرتے تھے لیکن اب انہوں نے توبہ کر لی تھی۔ گنگناتے بھی نہیں تھے اور نہ کبھی کسی سوز خواں کو داد دیتے تھے۔ بس سر جھکائے مجلس میں بیٹھے سنتے رہتے تھے۔

زندے صاحب نے رباعی کا پہلا مصرعہ پڑھا تو انہوں نے سر اٹھا کر بے ساختہ داد دی۔ دیکھنے والے بڑے حیران ہوئے کہ آج انہیں کیا ہوا ہے۔ دوسری طرف وہ ہر چیز سے بے خبر تھے، وہ بس شامیانے سے باہر آسمان کی طرف بار بار دیکھتے تھے اور بے خود، داد دیتے جاتے تھے۔

رباعی کا چوتھا مصرعہ زندے صاحب نے پڑھا اور بارش شروع ہو گئی۔ اب وہ حضرت ساتھ والوں سے کہنے لگے کہ اے کم بختو، تمہیں کچھ معلوم نہیں، اتنے عمدہ سُر لگ رہے تھے آج کہ میں حیران تھا اب تک بارش کیوں نہیں شروع ہوئی؟

پس تحریر: بیان کردہ واقعات کتاب سے ہیں لیکن باز گوئی فقیر کے الفاط میں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ