’ٹرمپ اسلام مخالف نہیں، ان کا پہلا دورہ ہی سعودی عرب کا تھا‘

پاکستانی نژاد امریکی ساجد تارڑ  ان چند پاکستانیوں میں سے ایک ہیں جو کھل کر 2020 کے انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے سابق مشیر ساجد تارڑ (تصویر: ساجد تارڑ)

35 سال سے امریک میں مقیم پاکستانی نژاد امریکی، صدر ٹرمپ کے سابق مشیر اور ان کی الیکشن مہم میں شامل ساجد تارڑ ان چند پاکستانیوں میں سے ایک ہیں جو کھل کر 2020 کے انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کر رہے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو نے ساجد تارڑ سے رابطہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت اور ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں۔

ساجد تارڑ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی پروفائل پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا: ’پوری دنیا میں روایتی سیاست دانوں کے خلاف ایک تحریک چلی تھی جس کے بعد ٹرمپ جیتے، بریگزٹ ہوا، مودی صاحب آئے، اور عمران خان صاحب آئے۔ یہ لوگوں کی روایتی سیاست دانوں سے بیزاری کی علامت اور خاندانی سیاست اور کرپشن سے لیس سیاست کے خلاف فیصلہ تھا۔‘

ساجد تارڑ کے مطابق: ’روایتی سیاست میں صحت، نظام مواصلات اور تعلیم کے موضوعات پر تقاریر کرکے کرپشن کی جاتی ہے مگر لوگ اب اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ آج بھی اپنے آپ کو ’آؤٹ سائیڈر‘ کہتے ہیں جبکہ جو بائیڈن 47 سال سے اقتدار میں ہیں۔ وہ تھک چکے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ وہ جو بائیڈن کی مخالفت اس لیے کرتے ہیں کہ سابق صدر اوباما کے نائب کی حیثیت سے پاکستان کے لیے ان کی پالیسیاں منفی تھیں۔

’پاکستان میں سب سے زیادہ ڈرون حملے جو بائیڈن اور براک اوباما نے کیے ہیں۔ بھارت کو سب سے پہلے پارٹنر اوباما اور بائیڈن نے قرار دیا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ 73 سال پرانا ہے اور اب پاکستانیوں کو انتخابی مہم میں یہ لولی پاپ دے رہے ہیں۔ جب یہ پہلے آٹھ سال اقتدار میں تھے تو تب انہیں یاد نہیں آیا۔‘

پاکستانی نژاد امریکیوں کی جانب سے صدر ٹرمپ کی مخالفت پر تبصرہ کرتے ہوئے ساجد تارڑ نے کہا کہ ’وہ (پاکستانی نژاد امریکی) کتنا عرصہ اپنے بچوں کو میری یوانا سے بچا کر رکھیں گے؟ کتنا عرصہ پاکستانی ہم جنس شادیوں سے بچا کر رکھیں گے؟ کیوں کہ یہ سب انہی (جو بائیڈن) کے ایجنڈے کی پیروی کر رہے ہیں۔ ہم ایک کنزرویٹو ملک سے آئے تھے، کنزرویٹو خیالات کے ساتھ اور اب یہاں یہ سوشلزم کے نعرے لگا رہے ہیں۔‘

امریکہ میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے حوالے سے ساجد تارڑ نے کہا: ’ڈونلڈ ٹرمپ پر اسلاموفوبیا کو پروان چڑھانے کا الزام لگایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کا آغاز ’مسلم بین‘ (چند مسلمان ممالک کے شہریوں کی امریکہ میں آمد پر پابندی) سے ہوا، مگر ان ممالک کی فہرست صدر اوباما نے تیار کی تھی۔‘

واضح رہے کہ واشنگٹن پوسٹ کے فیکٹ چیک کے مطابق صدر اوباما نے ممالک کی جگہ افراد پر پابندی لگانے پر زور دیا تھا جبکہ صدر ٹرمپ نے افراد کی جگہ تمام قومیتوں پر پابندی لگا دی تھی۔

ساجد تارڑ نے کہا: ’اسلام دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے اور کیسے انہیں ٹیبل سے اٹھا دیا جا سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ مسائل پیدا کرنے والوں کے خلاف ہیں جیسا کہ داعش، طالبان اور القاعدہ اور جن کے خلاف میں بھی ہوں۔‘

’میں سمجھتا ہوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ہمیں بچائیں گے، میں انہیں مسیحا سمجھتا ہوں اور دوسرے کہتے ہیں کہ وہ اسلام مخالف ہیں۔ ٹرمپ کیسے اسلام مخالف ہو سکتے ہیں جب ان کا پہلا دورہ ہی سعودی عرب سے شروع ہوا تھا۔‘

صدر ٹرمپ کے متنازع بیانات کا دفاع کرتے ہوئے ساجد تارڑ نے کہا: ’صدر اوباما کے ساتھ بہترین یونیورسٹیوں سے پڑھے ہوئے25، 25  معاون ہوتے تھے جو انہیں بتاتے تھے کہ کیا بولنا ہے اور کیا نہیں، جبکہ صدر ٹرمپ صبح اٹھتے ہیں اور ٹویٹ کر دیتے ہیں، وہ سٹیبلشمنٹ اور  سیاسی درستگی (پولیٹیکل کریکٹنس) کے مخالف ہیں۔‘

میڈیا پر پولز اور مباحثوں میں جو بائیڈن کی جیت کے حوالے سے تجزیوں پر تنقید کرتے ہوئے ساجد تارڑ نے کہا: ’جو بائیڈن کے بیٹے کی کرپشن کی کہانیاں بہت زیادہ ہیں مگر سی این این سننے کو تیار نہیں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق 96 فیصد میڈیا کوریج ان کے خلاف ہے اس لیے ہر جگہ جو بائیڈن کی جیت کی خبریں مل رہی ہیں، مگر آج سی این این کی ہیڈلائن ہے کہ ٹرمپ اور بائیڈن دونوں کے پاس جیت کے راستے موجود ہیں اور اگر سی این این یہ کہہ رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے ہار تسلیم کر لی ہے۔‘

صدر ٹرمپ کی جیت کے امکانات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’اس وقت بیلٹ پر 47 مہینے کی ڈلیوری کا مقابلہ 47 سال کی کرپشن سے ہے۔ ‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ساجد تارڑ کے مطابق ریاست پینسلوینیا کا اس الیکشن میں نہایت اہم کردار ہے اور کہا جا رہا ہے کہ جو امیدوار یہ ریاست جیت گیا، وہ انتخاب جیت جائے گا۔ 

انہوں نے مزید بتایا: ’پینسلوینیا گذشتہ ایک ہفتے سے جل رہا ہے، لوگ لوٹ مار کر رہے ہیں، کئی پولیس والے ہسپتال میں پڑے ہوئے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے آپ کو اس طرح کی لوٹ مار کے خلاف جبکہ جو بائیڈن کو لوٹ مار کے حق میں پیش کیا ہے۔ اس ریاست میں کان کنی ایک اہم ذریعہ معاش ہے اور جو بائیڈن نے اس پر پابندی لگانے کا کہا ہے۔‘

واضح رہے کہ ساجد تارڑ کے بیان کے برعکس جو بائیڈن نے مخصوص قسم کی کان کنی پر پابندی لگانے کا کہا ہے، ہر قسم کی کان کنی پر نہیں۔

امریکہ میں مقیم ایک پاکستانی صحافی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں ان عوامل پر روشنی ڈالی، جن کی وجہ سے پاکستانی ٹرمپ کو سپورٹ کرتے ہیں یا ان کے خلاف ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ٹرمپ کی داخلی پالیسی کے حوالے سے پاکستانیوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے، جس میں اسلامو فوبیا میں اضافہ، میڈیکل ایڈ اور مسلمان ممالک کے افراد کی امریکہ آمد پر پابندی شامل ہیں۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجی پالیسی سے اکثر پاکستانی خوش ہیں، جن کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی سب سے  اچھی بات یہ ہے کہ انہوں نے کوئی نئی جنگ شروع نہیں کی بلکہ پرانی جنگیں ختم کیں اور کشمیر کے مسئلے کے حل پر بات کی۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ