پاکستانی حکام سے منظوری میں تاخیر، ورلڈ بینک کا بیس کروڑ ڈالر امدادی منصوبہ تعطل کا شکار

ورلڈ بینک کے اس منصوبے کی منسوخی پاکستان کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو سکتی ہے جہاں کرونا کی دوسری لہر سر اٹھا رہی ہے اور اب لگاتار دوسرے دن کرونا کیسز کی تعداد تین ہزار سے زائد رہی ہے۔

(اے ایف پی)

ورلڈ بینک نے پاکستان کو کرونا سے مقابلے کے لیے دی جانے والے دو سو ملین ڈالر کی امداد موقوف کر دی ہے۔

پینڈیمک رسپانس افیکٹیونیس پروجیکٹ (پی آر ای پی) نامی اس منصوبے کے تحت پاکستان کو 200 ملین ڈالر کی امداد کی منظوری کے لیے پاکستانی حکام کی جانب سے 'بہت تاخیر' کی گئی، لیکن ورلڈ بینک کے مطابق یہ تاحال یہ رقم روکی نہیں گئی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق ورلڈ بینک نے اس امداد کی منظوری اپریل 2020 میں پاکستان کو کرونا وبا سے مقابلے کے لیے موثر اقدامات اٹھانے اور ملکی نظام صحت کو بہتر بنانے کے لیے دی تھی لیکن آٹھ مہینے گزرنے کے باوجود پاکستان کی صوبائی اور وفاقی حکومتیں اس منصوبے کا پی سی ون یعنی پروجیکٹ سائیکل ون کی منظوری نہیں دے سکیں جس کی وجہ سے ابھی تک اس منصوبے کا آغاز نہیں ہو سکا۔

عالمی بینک کے بیان کے مطابق اس منصوبے پر عمل درآمد میں بڑی تاخیر پی سی ون کی وجہ سے ہو ری ہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے مجوزہ منصوبوں کی منظوری میں تاخیر کی وجہ سے اس منصوبے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ اس منصوبے کے تحت ایک ذیلی ادارے کی تنظیم نو کی جا رہی ہے۔

عالمی ادارے نے پاکستان کی اس حوالے سے عمل درآمد کی کیٹگری کو بھی 'تسلی بخش' سے 'غیر تسلی بخش' کر دیا ہے۔

بینک کے ایک نمائندے نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا ادارہ ابھی تک پاکستانی حکومت کی منظوری کا انتظار کر  رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عالمی بینک کے اسلام آباد دفتر میں موجود بیرونی معاملات کی آفیسر مریم الطاف کا کہنا ہے کہ 'اس پروگرام کے تحت نظام صحت کے حوالے سے لیے جانے والے اقدامات کی ابھی تک حکومتی منظوری نہیں مل سکی۔ اس پروجیکٹ کی رقم کو روکا نہیں جا رہا۔ ابھی تک ورلڈ بینک بیس کروڑ ڈالر میں سے سے تقریبا اسی لاکھ ڈالر تقسیم کر چکا ہے۔

ورلڈ بینک کے اس منصوبے کی منسوخی پاکستان کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو سکتی ہے جہاں کرونا کی دوسری لہر سر اٹھا رہی ہے اور اب لگاتار دوسرے دن کرونا کیسز کی تعداد تین ہزار سے زائد رہی ہے۔

اس منصوبے کے تحت ورلڈ بینک نے نجی اور سرکاری ہسپتالوں میں قرنطینہ کے لیے جگہ مختص کرنی تھی نیز طبی سامان، وینٹی لیٹرز اور حفاظتی لباس کی فراہمی یقینی بنانی تھی۔

اس پروجیکٹ کے لیے رقم انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ ایسوسی ایشن (آئی ڈی اے) نے فراہم کی ہے جبکہ ورلڈ بینک نے بھی ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کی ادائیگی میں رعایت کے لیے دس کروڑ ڈالر کی فاسٹ ٹریک مدد شروع کی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت