’افغان فورسز نے ہتھیاروں سمیت 193 چوکیاں چھوڑ دیں‘

قندھار کے صوبائی گورنر حیات اللہ حیات اور ایک مقامی رکن پارلیمان نے صورت حال کی تصدیق کی جب کہ دوسری جانب کابل میں وزارت دفاع ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے اصرار کیا کہ سرکاری فوجیں ان علاقوں میں پیش قدمی کر رہی ہیں۔

(فائل فوٹو: اے ایف پی)

افغان سکیورٹی فورسز حالیہ ہفتوں کے دوران شورش زدہ صوبے قندھار میں تقریبا 200 چوکیاں چھوڑنے کے لیے مجبور ہو گئی ہیں جب کہ بعض چوکیوں پر وہ ہتھیار بھی چھوڑ کر فرار ہو گئے جہاں طالبان نے قبضہ کر لیا۔

قندھار کے صوبائی گورنر حیات اللہ حیات اور ایک مقامی رکن پارلیمان نے اے ایف پی کو صورت حال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فوجی کمانڈروں سے نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر جواب طلبی کی گئی ہے۔

دوسری جانب کابل میں وزارت دفاع نے ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے اصرار کیا کہ سرکاری فوجیں ان علاقوں میں پیش قدمی کر رہی ہیں۔

متحارب فریقین کے مابین امن مذاکرات کے باوجود اکتوبر سے ہی صوبہ قندھار میں سرکاری فوج اور طالبان کے درمیان باقاعدگی سے تصادم جاری ہے۔

قندھار کے صوبائی گورنر حیات اللہ حیات نے اے ایف پی کو بتایا: ’افغان سکیورٹی فورسز زہرائی، میوند، ارغنداب اور پنجوئی ضلعوں میں 193 چوکیوں سے پسپائی اختیار کر چکی ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’زیادہ تر سکیورٹی چیفس اور افسران جنہوں نے اپنے فرائض سے غفلت برتی تھی، انہیں برخاست کردیا گیا ہے اور عدلیہ کے حوالے کردیا گیا ہے۔‘

قندھار سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان ہاشم الخوزئی اور مقامی پولیس افسر نے اے ایف پی کو ان تفصیلات کی تصدیق کی ہے۔

الخوزئی نے کہا: ’سکیورٹی فورسز اپنے ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخیرے کو بھی چھوڑ کر چوکیوں سے فرار ہو گئیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ضلع زہرائی کے پولیس افسر جان محمد نے بتایا کہ چوکیاں چھوڑنے والے بیشتر اہلکار فوجی تھے۔ وہ ایک گولی چلائے بغیر وہاں سے فرار ہو گئے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’فوجیوں کی جانب سے چھوڑا گیا اسلحہ اب طالبان کے ہاتھ لگ گیا ہے جنہیں وہ اب ہمارے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔‘

گورنر حیات نے کہا کہ پولیس اور فوجی دستوں کی کمی علاوہ اداروں کے درمیان تعاون کے فقدان اس صورت حال کی وجہ بنی۔

قندھار طالبان کا ہمیشہ سے مضبوط گڑھ رہا ہے جہاں سے اس تحریک نے جنم لیا تھا۔

فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے کے بعد سے طالبان زیادہ تر شہروں پر بڑے حملے کرنے سے گریز کر رہے ہیں لیکن انہوں نے دیہی علاقوں میں افغان فورسز کے خلاف حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ستمبر سے قطری دارالحکومت دوحہ میں شروع ہونے والے انٹرا مذاکرات فی الحال تعطل کا شکار ہیں جن کا پانچ جنوری سے دوبارہ آغاز ہو گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا