سعودی عرب کا صدر بائیڈن کی ریاض کے لیے حمایت کا خیر مقدم 

اپنی پہلی خارجہ پالیسی کی تقریر کے دوران صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکہ ’سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت اور اس کے عوام کے دفاع کے لیے امریکی مدد جاری رکھے گا۔‘

صدر بائیڈن نے محکمہ خارجہ میں اپنی پہلی خارجہ پالیس تقریر  جمعرات کو کی (اے ایف پی)ٰ

سعودی عرب نے نئے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے ریاض کو اپنے عوام اور سرزمین کے دفاع میں مدد فراہم کرنے کے عزم کا خیرمقدم کیا ہے۔

صدر جو بائیڈن نے اس عزم کا اظہار محکمہ خارجہ میں اپنی پہلی خارجہ پالیسی کی تقریر کے دوران کیا تھا۔

بائیڈن نے کہا: ’سعودی عرب کو متعدد ممالک میں موجود ایرانی حمایت یافتہ فورسز کی جانب سے میزائل حملوں، ڈرون سٹرائکس اور دیگر خطرات کا سامنا ہے۔ ہم سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت اور اس کے عوام کے دفاع کے لیے امریکی مدد جاری رکھیں گے۔‘

’عرب نیوز‘ کے مطابق یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی عسکریت پسندوں نے سعودی عرب کو بارہا میزائلوں اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا ہے۔

بائیڈن نے کہا کہ مشرق وسطی میں طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے امریکی سفارت کار ٹموتھی لینڈرکنگ کو یمن کے لیے خصوصی مندوب کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔

صدر نے کہا کہ یمن میں جنگ کا ’خاتمہ ہونا چاہیے‘ اور اس مقصد کے لیے لینڈرکنگ اقوام متحدہ اور تنازعے میں شامل تمام فریقوں کے ساتھ مل کر مسٗلے کے سفارتی حل پر زور دیں گے۔

یمن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد کے رکن سعودی عرب نے بھی متعدد بار تنازعے کے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا: ’سعودی عرب امریکہ کے اس عزم کا خیرمقدم کرتا ہے جس کا آج صدر بائیڈن کی تقریر میں اظہار کیا گیا ہے کہ واشنگٹن مملیکت کی سلامتی اور علاقے کے دفاع میں ریاض کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہم  پرامن اور خوشحال خطے کے لیے اپنے مشترکہ وژن کے مطابق یمن میں جامع سیاسی حل کے مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے لینڈرکنگ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔‘

سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے بھی تنازعات کے حل کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے امریکی صدر کے عزم کا خیرمقدم کیا ہے۔

انہوں نے لینڈرکنگ کی تقرری کا بھی خیرمقدم کیا اور کہا کہ ریاض اپنے امریکی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ’انسانی المیے جیسی صورت حال کو ختم کرنے، یمن بحران کا حل تلاش کرنے اور امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کام کرنے کو تیار ہے۔‘

شہزادہ خالد نے یمن کے تنازعے کے پرامن حل کے عہد کی تاکید بھی کی۔

انہوں نے کہا:  ’ایرانی حمایت یافتہ حوثی عسکریت پسندوں نے 2014 میں یمن کی حکومت کا تختہ الٹنے سے پہلے ہی ریاض نے تنازعے کا پائیدار سیاسی حل تلاش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جس میں جی سی سی کے اقدام، کویت مذاکرات اور اقوام متحدہ کی ثالثی میں مذاکرات شامل ہیں۔‘

سعودی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مملیکت بائیڈن کے سعودی عرب کے دفاع میں مدد کے عہد اور یمن تنازع کے سفارتی حل کے لیے واشنگٹن کے عزم کا خیرمقدم کرتی ہے۔

وزارت نے یمن کے بحران کے جامع سیاسی حل کی حمایت میں اپنے مستقل موقف کو دہراتے ہوئے اور اقوام متحدہ کے ایلچی مارٹن کی کوششوں سمیت یمن کے بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کی اہمیت پر زور دینے پر امریکہ کا خیرمقدم کیا۔ 

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے مطالبے کے جواب میں سعودی عرب نے سیاسی حل کو آگے بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں جن میں اپریل میں یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان بھی شامل ہے۔

سعودی وزارت نے مزید کہا: ’مملکت بائیڈن انتظامیہ، یمن کے لیے نئے متعین امریکی ایلچی لینڈرکنگ، اقوام متحدہ، عرب اتحادی ممالک اور تمام یمنی جماعتوں کے ساتھ مل کر یمن کے جامع سیاسی حل کے لیے کام کرنے کے منتظر ہے۔‘

’ریاض یمنی عوام کی پریشانیوں کے خاتمے کے لیے اپنی قابل ذکر کوششوں کو جاری رکھے گا اور اس مقصد کے لیے ہم نے پچھلے کچھ سالوں میں یمن کو 17 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم فراہم کی ہے۔‘

سعودی عرب نے یہ بھی کہا کہ وہ مشرق وسطیٰ کے امن عمل سمیت خطے کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے امریکہ کے ساتھ تعاون کو مستحکم کرنا چاہتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا