شیری رحمان کی ٹاس کے ذریعے جیت، قانون کیا کہتا ہے؟

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے الیکشن کے دوران اگر دو ممبران کے ووٹوں کی تعداد برابر ہو تو الیکشن کمیشن کی جانب سے فیصلہ ٹاس کے ذریعے کروانا قانون کے مطابق ہو گا یا نہیں؟

سینیٹ انتخابات میں سندھ اسمبلی کی 11 نشستوں میں سے پاکستان پیپلز پارٹی سات، متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان تحریک انصاف نے دو، دو سیٹوں پر کامیابی حاصل کی (اے ایف پی)

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے الیکشن کے دوران اگر دو ممبران کے ووٹوں کی تعداد برابر ہو تو الیکشن کمیشن کی جانب سے فیصلہ ٹاس کے ذریعے کروانا قانون کے مطابق ہو گا یا نہیں؟

یہ سوال اس لیے پیدا ہوا کیونکہ گذشتہ روز ہونے والے سینیٹ انتخابات میں دو ممبران یعنی شیری رحمان اور فیصل سبزواری کے ووٹوں کی تعداد برابر تھی اور دونوں کے درمیان فیصلہ ٹاس کے ذریعے ہوا۔

اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد نے  کہا کہ ’گذشتہ روز سینیٹ انتخابات کے دوران سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی شیری رحمان اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے فیصل سبزواری کے ووٹوں کی تعداد برابر ہونے کے بعد ٹاس کے ذریعے شیری رحمان جیتی ہیں اور یہ ان کی قانونی جیت ہے۔‘

’سینیٹ الیکشن رولز ایکٹ 2017 میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ اگر سینیٹ الیکشن کے دوران دو امیدواروں کے ووٹوں کی تعداد برابر ہو جائے تو اس صورت میں الیکشن کمیشن دونوں میں ایک کی جیت کا فیصلہ ٹاس کے ذریعے کرے گا اور یہ طریقہ عین قانون کے مطابق ہے، جسے کسی عدالت میں بھی چیلینج نہیں کیا جاسکتا۔‘

واضح رہے کہ بدھ کو ہونے والے سینیٹ انتخابات کے دوران سندھ اسمبلی میں ووٹوں کی گنتی جاری تھی کہ مقامی نجی میڈیا سے خبر سامنے آئی کہ ایم کیو ایم پاکستان کے فیصل سبزواری سندھ اسمبلی سے 22 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں مگر بعد میں پتہ چلا کہ پیپلز پارٹی کی امیدوار شیری رحمان نے بھی 22 ووٹ لیے ہیں اور اس طرح دونوں کے درمیاں ٹائی ہو گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سینیٹ انتخابات میں سندھ اسمبلی کی 11 نشستوں میں سے پاکستان پیپلز پارٹی سات، متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان تحریک انصاف نے دو، دو سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔

ٹاس کا عمل کس طرح کیا جاتا ہے؟ اس پر کنور دلشاد نے بتایا کہ جب بھی سینیٹ انتخابات کے دوران دو امیدواروں کے ووٹوں کا تعداد برابر آ جائے تو الیکشن کمیشن دونوں امیدواروں کو طلب کر کے انہیں مطلع کرتا ہے کہ دونوں کے ووٹ برابر ہیں تو اب فیصلہ صرف ٹاس کے ذریعے ہوگا۔ 

’یہ ایسے ہی ہوتا ہے جیسے کرکٹ میچ سے پہلے ٹاس کرکے یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کونسی ٹیم پہلے بیٹنگ کرے گی۔ سینیٹ الیکشن کے امیداروں کے برابر ووٹ کے بعد جیت کا فیصلہ ٹاس سے کرنے کے لیے پاکستان میں رائج الوقت کوئی بھی سکہ لیا جاتا ہے۔ امیدواروں سے ہیڈ یا ٹیل چننے کو کہا جاتا ہے اور پھر ٹاس کیا جاتا ہے۔‘

کنور دلشاد کے مطابق ٹاس کے بعد ہارنے والے امیدوار کے لیے لازمی ہے کہ وہ ’مخالف امیدوار کی جیت کو تسلیم کرتا ہوں‘ لکھ کر اس پر دستخط کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست