طالبان کیوں ہماری بات سنیں گے، انہیں فتح نظر آرہی ہے: عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے ازبکستان میں ایک سیشن سے خطاب میں کہا کہ ’جب امریکہ کے سب سے زیادہ فوجی افغانستان میں تھے تب طالبان کو مذاکرات کی دعوت دینی چاہیے تھی، اب طالبان کیوں امریکہ کی بات مانیں گے جب افغانستان سے فوجیوں کا انخلا ہورہا ہے۔‘

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ جب امریکہ کے سب سے زیادہ فوجی افغانستان میں تھے تب طالبان کو مذاکرات کی دعوت دینی چاہیے تھی، اب طالبان کیوں امریکہ کی بات مانیں گے جب افغانستان سے فوجیوں کا انخلا ہورہا ہے۔

جمعے کو ازبکستان کے شہر تاشقند کے انٹرنیشنل کانگریس سینٹر میں ’وسطی و جنوبی ایشیا 2021: علاقائی رابطہ، چیلنجز اور مواقع‘ کے افتتاحی سیشن میں شرکت کے لیے وزیراعظم عمران خان آئے تو ان کا استقبال ازبکستان کے صدر شوکت میر ضیایف نے کیا۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’سی پیک، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا فلیگ شپ پروجیکٹ ہے، اس میں بہتر روابط، ریل، روڈ، فائبر آپٹکس، انرجی پائپ لائنز، صنعتوں کی تعمیر اور خصوصی اقتصادی زونز کے ذریعے خطے کو تجارتی طور پر ایک دوسرے کے قریب لانے کے مواقع موجود ہیں۔‘

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم سی پیک کو صرف اپنے ملک تک محدود منصوبہ نہیں سمجھتے، ہمیں امید ہے کہ اسے مزید علاقائی تعاون حاصل ہوگا، باہمی تعاون کی بنیاد پر ہم زیادہ بڑا اور بہتر رابطے کا نظام قائم کر سکیں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس منصوبے سے مکمل فائدہ اٹھانے کے لیے علاقی امن اور استحکام بہت ضروری ہے، اس ضمن میں میں دو بڑے چیلنجز دیکھ رہا ہوں، پہلا افغانستان کی صورت حال ہے اور دوسرا ملکوں کے باہمی تنازعات ہیں جنہوں نے خطے کو دہائیوں سے منقسم رکھا ہوا ہے۔‘

افغانستان کے معاملے پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا: ’افغانستان وسطی اور جنوبی افریقہ کے درمیان قدرتی پُل کی حیثیت رکھتا ہے، علاقائی رابطے کے اس وژن کو حقیقت بنانے کے لیے افغانستان میں امن انتہائی اہم عنصر ہے، ہماری اولین ترجیح افغانستان میں استحکام کا قیام ہے کیوں کہ یہ براہ راست ہمیں متاثر کرتا ہے، پاکستان افغانستان میں امن کے لیے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا اور ساتھ ہی افغانستان کی تعمیر نو اور معاشی ترقی کا بھی خواہاں ہے۔‘

عمران خان نے کہا: ’ہم افغانستان کے تمام پڑوسی ممالک اور علاقائی و بین الاقوامی سٹیک ہولڈرز پر زور دیتے ہیں کہ وہ افغانستان میں مذاکرات کے نتیجے میں مستحکم حکومت کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔‘

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے شرکا سے کہا کہ وہ کچھ ضروری باتیں کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ افغان صدر اشرف غنی نے افغانستان کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے پاکستان سے متعلق کچھ منفی باتیں کیں۔

انہوں نے ہال میں موجود افغان صدر اشرف غنی کو نام سے مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’جو ملک افغان بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ہے وہ پاکستان ہے، پاکستان کو گذشتہ 15 سالوں میں 70 ہزار جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا، پاکستان مزید تنازع نہیں چاہتا، بہت مشکل مراحل سے گزرنے کے بعد ہماری معیشت بحال ہو رہی ہے، میں آپ کو یقین دلاسکتا ہوں کہ کسی اور ملک نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اتنی کوشش نہیں کی جتنی پاکستان نے کی، ہم نے پاکستان میں طالبان کے خلاف فوجی کارروائی کے علاوہ ہر ممکن کوشش کی تاکہ وہ مذاکرات کی میز پر آئیں اور سیاسی تصفیے کا حصہ بنیں۔‘

عمران خان نے کہا: ’افغانستان میں اس وقت جو ہو رہا ہے اس کا الزام پاکستان پر عائد کرنا نا انصافی ہے، میں کابل گیا، اگر میں امن میں دلچسپی نہ رکھتا تو کابل کیوں جاتا؟ اس کا مقصد یہ تھا کہ آپ پاکستان کو امن کے شراکت دار کے طور پر دیکھیں لیکن مجھے مایوسی ہوئی جب افغانستان کی صورتحال کا الزام پاکستان پر لگایا گیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جو کچھ افغانستان میں ہورہا ہے وہ دو دہائیوں سے جاری تنازع اور گہری تقسیم کی وجہ سے ہے اور بد قسمتی سے امریکہ اس مسئلے کو فوجی طاقت کے بل پر حل کرنا چاہتا تھا جو کہ اس کا حل نہیں تھا۔ جب وہاں امریکی اور نیٹو کے فوجی اور جدید اسلحہ موجود تھا تب وقت تھا کہ طالبان سے کہا جاتا کہ آپ مذاکرات کی میز پر آئیں، اب جب آپ نے اپنے انخلا کی تاریخ انہیں دے دی ہے اور بہت ہی تھوڑے امریکی فوجی باقی رہ گئے ہیں تو پھر طالبان کیوں مذاکرات کریں گے؟ وہ کیوں اب ہماری بات سنیں گے جبکہ انہیں اپنی فتح نظر آرہی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہوں نے ازبکستان کے صدر سے گذشتہ روز اس حوالے سے تفصیلی بات کی ہے کہ کس طرح ازبکستان، پاکستان، تاجکستان اور ہم سب ملک کر افغانستان میں امن عمل اور سیاسی تصفیے کے لیے کردار ادا کرسکتے ہیں کیوں کہ یہ ہم سب کے مفاد میں ہے، پہلے ہی پاکستان میں 30 لاکھ افغان مہاجرین موجود ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ مزید مہاجرین بھی آئیں گے لیکن ہمارے پاس اب گنجائش نہیں اور نہ ہی معاشی قوت ہے کہ ہم مہاجرین کی ایک اور کھیپ کو سنبھال سکیں۔ لہٰذا میں آپ کو ایک بار پھر یہ یقین دلاتا ہوں کہ اگر کوئی ملک دنیا کے تمام ممالک سے زیادہ امن کی کوشش کررہا ہے تو وہ پاکستان ہے۔

بعد ازاں وزیراعظم نے دوسرے اہم علاقائی تنازعے مسئلہ کشمیر کے جانب شرکا کی توجہ مبذول کرائی اور کہا: ’اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر حل ہوگیا تو پورا خطہ کھل جائے گا اور آپ اس کے اثرات کا اندازہ کریں، ایک طرف بھارت کی بڑی مارکیٹ ہوگی، دوسری طرف چین ہوگا، پورا خطہ تبدیل ہوجائے گا لیکن بدقسمتی سے غیر حل شدہ تنازعات کی وجہ سے یہ سارے مواقع ضائع ہو رہے ہیں۔‘

آخر میں انہوں نے ازبکستان کے صدر اور ان کی ٹیم کو کامیاب کانفرنس کے انعقاد اور شاندار مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔

افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات

خطاب کے بعد وزیراعظم عمران خان اور افغان صدر اشرف غنی کی ملاقات بھی ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کیا اور پاک افغان تعلقات اور خطے کی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔ ملاقات میں افغانستان کی موجودہ صورتحال پر بھی بات کی گئی۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس موقع پر افغان صدر سے کہا کہ ’پاکستان سے زیادہ کسی نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے کردار ادا نہیں کیا، افغانستان میں دیرپا امن کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری رہیں گے۔‘ 

خیال رہے کہ افغان نائب صدر امر اللہ صالح نے گذشتہ شب اپنی ٹویٹس میں پاکستانی فضائیہ پر الزام عائد کیا تھا کہ اس کی جانب سے افغان فضائیہ کو چمن سپن بولدک بارڈر کراسنگ پر طالبان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی تنبیہ کی گئی ہے۔

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد وہاں طالبان کی جانب سے مختلف اضلاع کا کنٹرول حاصل کرنے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں اور چند روز قبل طالبان نے پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع سپن بولدک چمن بارڈر کراسنگ پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔

افغانستان میں جاری بحران کو پر امن طریقے سے حل کرنے کے پاکستان سمیت مختلف ممالک کوششیں کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں 17 سے 19 جولائی تک شیڈول کانفرنس کی میزبانی کرنے کی تصدیق کی ہے۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں واضح کیا کہ پاکستان افغان امن عمل میں مدد کرنے کے لیے تمام فریقوں سے رابطے میں ہے لیکن ’جہاں تک کانفرنس میں شرکت کا تعلق ہے طالبان کو مدعو نہیں کیا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ طالبان کئی بار پاکستان آ چکے ہیں اور ان سے افغان امن عمل کے تناظر میں تفصیلی مذاکرات ہو چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’امن کانفرنس‘ کا مقصد افغانستان میں تمام فریقوں سے امن عمل کے بارے میں رابطے اور مشورے کرنا ہے۔

دوحہ میں قائم طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے بھی کہا ہے کہ انہوں نے اسلام آباد میں طے ’افغان امن کانفرنس‘ کے بارے میں سنا ہے لیکن انہیں (طالبان کو) مدعو نہیں کیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا