ہمیں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنا ہوگی: اسرائیل کی دھمکی

اسرائیل نے ایران کو گذشتہ ہفتے بحر ہند میں ایک آئل ٹینکر پر حملے کے جواب کی دھمکی دی ہے جس کے بعد ایران نے بھی اسرائیل کو کسی ’احمقانہ‘ قدم اٹھانے سے خبردار کیا ہے۔

اسرائیل کے وزیر اعظم اور وزیر دفاع ایران کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرا کر جوابی کارروائی کی دھمکی دے چکے ہیں (اے ایف پی/ فائل)

بحر ہند میں گذشتہ ہفتے ایک بحری جہاز پر مبینہ ایرانی حملے کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے فوجی کارروائی کی دھمکی کے بعد ایران نے بھی اسرائیل کو کسی ایسے اقدام کے خلاف جوابی کارروائی سے خبردار کیا ہے۔  

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی وزرات داخلہ کے ترجمان سید خطیب زادے نے ٹوئٹر پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’بین الاقوامی قانون کی ایک اور وحشیانہ خلاف ورزی میں اسرائیلی حکومت نے ایران کو فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔‘

اسرائیلی ارب پتی ایال وفر کی کمپنی زوڈیک میری ٹائم کے ایم ٹی مرسر نامی بحری جہاز کو عمان کے ساحل کے قریب گذشتہ ہفتے نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں ایک برطانوی سکیورٹی گارڈ اور عملے میں شامل رومانیہ کا شہری ہلاک ہو گیا تھا۔

برطانیہ، امریکی بحریہ اور زوڈیک میری ٹائم کا کہنا تھا کہ حملہ ’ڈرون سٹرائیک‘ معلوم ہوتا ہے۔

اسرائیل کے وزیر اعظم اور وزیر دفاع ایران کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرا کر جوابی کارروائی کی دھمکی دے چکے ہیں۔

اسرائیلی نیوز ویب سائٹ ای نیٹ سے جمعرات کو بات کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر دفاع بینی گانٹز نے ایران پر حملے کے بارے میں سوال کا جواب فوراً ہی ’ہاں‘ میں دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں ہمیں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنا ہوگی۔ دنیا کو ابھی ایران کے خلاف کارروائی کرنا ہوگی۔‘

اس سے قبل منگل کو اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ بھی کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل ’دنیا کی مدد حاصل کرنے پر کام کر رہا ہے مگر اکیلے اقدام لینا بھی جانتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ایران کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تہران میں آرام سے بیٹھ کر پورے مشرق وسطیٰ میں آگ لگانا ناممکن ہے۔ یہ ختم ہو گیا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ادھر امریکہ اور اسرائیل دونوں کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا تجزیہ ہے کہ 29 جولائی کو ہونے والے حملے میں ایرانی ڈرون استعمال ہوا، تاہم ایران ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے ایرانی وزارت داخلہ کے ترجمان خطیب زادے نے کہا کہ ’ہم واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ ایران کے خلاف کسی بھی احمقانہ کارروائی کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔‘

ترجمان نے کہا کہ ’ہمیں نہ آزمائیں۔‘

ایران پر پہلے بھی مشرق وسطیٰ کی اہم بحری گزرگاہوں میں جہازوں پر حملے کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں جن کی وہ تردید کرتا آیا ہے۔

اس معاملے پر سعودی سیاسی تجزیہ کار اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہر ڈاکٹر ہمدان الشہری نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران ہمیشہ متاثرہ فریق کا کردار نبھاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک بین الاقوامی برادری اس کی دھمکیوں اور جارحیت کا ختم کروانے پر اتفاق نہیں کرتی تب تک وہ ’آئل ٹینکروں کے زیر استعمال اہم ترین بحری راستوں کو غیر محفوظ بناتا رہے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی جوابی کارروائی محدود مگر ایران کے لیے ’ تکلیف دہ‘  ہوگی۔

’آج اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا بند کمرہ اجلاس ہوگا اور اس کا مطلب ہے ایران کو اس کے گھناؤنے عمل کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا