’کچرا اٹھانے کی ضمانت دی جائے تو فیس دینے پر اعتراض نہیں‘

کنزیومر رائٹس پروٹیکشن کونسل آف پاکستان کے رکن شکیل بیگ کا کہناہے کہ ’بجلی اور گیس وفاقی ادارے ہیں اور اٹھاوریں ترمیم کے بعد سندھ حکومت وفاقی اداروں کی مدد سے کوئی بھی ٹیکس یا فیس صارفین سے زبردستی وصول کرنے کی مجاز نہیں ہے۔‘

کراچی میں کچرا اٹھانے کی فیس سندھ حکومت نے گیس کے بل میں ہی وصول کرنے کا اعلان کیا ہے (تصویر: امرگروڑو)

سندھ حکومت کی جانب سے کچرا اٹھانے کی فیس سوئی گیس کے بل میں وصول کرنے کے اعلان کی صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم نے شدید مخالفت کی ہے۔ 

کنزیومر رائٹس پروٹیکشن کونسل آف پاکستان کے رکن اور کنزیومر رائٹس پروٹیکشن کونسل سندھ کے چیئرمین شکیل بیگ کا کہناہے کہ ’بجلی اور گیس وفاقی ادارے ہیں اور اٹھاوریں ترمیم کے بعد سندھ حکومت وفاقی اداروں کی مدد سے کوئی بھی ٹیکس یا فیس صارفین سے زبردستی وصول کرنے کی مجاز نہیں ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے شکیل بیگ نے بتایا: ’پینے کا پانی اور کچرا اٹھانے کی فیس کی وصولی تو صوبے کی نہیں بلکہ تحصیل انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، تو ایک صوبہ کیسے وفاقی اداروں کی معرفت ایسی فیس وصول کرسکتا ہے؟ یہ صارفین کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ ایسا فیصلہ واپس لیا جائے۔‘

شکیل بیگ کے مطابق وفاقی حکومت پہلے ہی ٹی وی لائسنس فیس بجلی کے بل کے ساتھ وصول کرتی ہے۔ جب کہ کتنے لوگ ٹی وی یا خاص طور پر پی ٹی وی دیکھتے ہیں؟ ’جب حکومت کوئی بھی ٹیکس یا فیس بجلی یا گیس کے بل کے ساتھ وصول کرتی ہے تو صارفین وہ رقم ادا کرنے کے پابند ہوجاتے ہیں، ورنہ ان کا کنیکشن کٹ جائے گا۔ یہ تو زبردستی رقم وصول کرنے کی ایک کوشش ہے۔ جس کی ہم سخت مخالفت کریں گے۔ اگر یہ قانون لاگو ہوگیا تو غریب عوام کے لیے بہت سی مشکلات ہوں گی۔ عدالت کو چاہیے کہ اس معاملے کا ازخود نوٹسی لے‘۔

گذشتہ روز سندھ کے وزیر بلدیات اور چیئرمین سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ سید ناصر حسین شاہ کی زیرِ صدارت منعقدہ بورڈ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو اپنے ذرائع سے ریوینیو جمع کرنے کے اقدامات کرنے ہوں گے اور اس کے لیے کنٹونمنٹ بورڈ اور انڈسٹریل ایریاز سمیت رہائشی علاقوں سے کچرا اٹھانے کی فیس وصول کی جائے گی جو سوئی گیس کے بل میں شامل کی جائے گی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ رہائشی علاقوں سے فی گھر ایک سو سے تین سو روپے تک فیس وصول کرنے کے لئے سوئی سدرن گیس کو خط لکھا گیا ہے کہ وہ اس معاملے میں سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے ساتھ رابطہ کریں۔

سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ  کے ایک ترجمان نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کچرا اٹھانے کے ٹیکس سے سالانہ 5 ارب روپے جمع ہونے کی توقع ہے۔

اس سے قبل سندھ حکومت نے کنزرونسی ٹیکس کی وصولی کے لیے کے الیکٹرک کو خط لکھا تھا کہ یہ ٹیکس بجلی کے بل میں شامل کیا جائے لیکن وفاق نے کے ای کے بل میں یہ ٹیکس وصول کرنے کی سخت مخالفت کی تھی اور کے الیکٹرک انتظامیہ نے یہ ٹیکس بل میں شامل کرنے سے انکار کردیا تھا۔

اس کے بعد وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ ایک میٹنگ میں کے الیکٹرک کے چیف ایگزکیٹو مونس علوی نے کہا کہ انہیں ٹیکس کی رقم بجلی کے بل میں شامل کرنے پر کوئی اعتراض نہیں اگر وفاقی حکومت اجازت دے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جس پر وزیراعلی سندھ سید مُراد علی شاہ نے وزیر توانائی سندھ امتیاز شیخ کو ہدایت کی کہ وہ اس سلسلے میں وفاق سے بات کریں۔

 اُدھر کراچی کے شہری اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے صارف محمود عالم خالد نے سندھ حکومت کی جانب سے کچرا اٹھانے کی فیس گیس کے بل میں شامل کرنے والے فیصلے کو خوش آمدید کرتے ہوئے کہا اگر رقم وصولی کے بعد سندھ حکومت کچرا اٹھانے کی یقین دہانی کرائے تو کراچی کے شہریوں کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے محمود عالم خالد نے کہا: ’دنیا بھر میں حکومتیں کچرا اٹھانے کے لیے فیس وصقل کرتی ہیں، اس میں کیا خرابی ہے؟ جب حکومت کو پیسے نہیں ملتے تو کچرا بھی نہیں اٹھتا اور اس صورت میں شہری نجی افراد کو پیسے دے کر کچرا اٹھواتے ہیں۔ میری گلی سے کچرا اٹھانے والے کو میں ہر مہینے چار سو روپے دیتا ہوں۔ مجھے حکومت کو یہ پیسے دینے میں کوئی مسئلہ نہیں، اگر پیسے لینے کے بعد کچرا اٹھایا جائے۔‘

محمود عالم خالد کے مطابق عوام کو حکومتی اداروں میں کرپشن اور فیس لینے کے بعد کام نہ کرنے کی وجہ سے ان پر اعتماد نہیں ہے۔ ’اگر اس معاملے میں حکومت سنجیدہ ہے تو کراچی کی سول سوسائٹی کے اراکین اور عوام کو اعتماد میں لیا جائے کہ فیس وصولی کے بعد کچرا اٹھایا جائے۔ ورنہ زبردستی والے فیصلے کے خلاف عوام سراپہ احتجاج ہوں گے‘۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان