’فیس بک ہمیشہ اپنے مفاد کو عوامی فلاح پر ترجیح دیتی آئی ہے‘

فیس بک کی سابق ڈیٹا سائنسدان فرانسس ہوگن نے گمنام رہتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے وفاقی اداروں کو شکایات درج کروائیں کہ فیس بک کی اپنی ریسرچ ظاہر کرتی ہے کہ وہ کیسے نفرت اور غلط معلومات کو مزید بڑھاوا دیتی ہے۔

کیلی فورنیا میں فیس بک کا ہیڈ کوارٹر۔  تجزیہ کاروں کے اعدادوشمار کے مطابق فیس بک کی سالانہ آمدنی 2018 میں 56 ارب ڈالر سے اس سال دوگنی ہوکر ممکنہ طور پر 119 ارب ڈالر کے قریب ہوگی (فائل فوٹو: اے ایف پی )

فیس بک میں کام کرنے والی ایک ڈیٹا سائنسدان نے دعویٰ کیا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنی ہمیشہ اپنے مفاد کو عوامی فلاح پر ترجیح دیتی آئی ہے، جس کے کئی نقصان دہ فیصلوں میں سے ایک ایسا بھی تھا جس سے چھ جنوری کو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے کیپیٹل ہل پر دھاوا بولنے والوں کو شے ملی۔

امریکی تحقیقاتی شو ’60 منٹس‘ میں اتوار کو فرانسس ہوگن نے یہ انکشاف کیا، جنہوں نے گمنام رہتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے وفاقی اداروں کو شکایات درج کروائیں کہ فیس بک کی اپنی ریسرچ ظاہر کرتی ہے کہ وہ کیسے نفرت اور غلط معلومات کو مزید بڑھاوا دیتی ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ہوگن، جو گوگل اور پنٹریسٹ جیسی بڑی کمپنیوں میں کام کرچکی ہیں، نے 2019 میں فیس بک جوائن کیا اور کمپنی کے اس ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے کی درخواست کی، جو غلط معلومات کے خلاف کام کرتا ہے کیونکہ وہ ایک دوست کو آن لائن سازشی مفروضوں کی وجہ سے کھو چکی تھیں۔

’سی بی ایس‘ کے پروگرام ’60 منٹس‘ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا: ’فیس بک نے بار بار یہ دکھایا ہے کہ وہ حفاظت کے بجائے منافعے کا انتخاب کرتی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ گذشتہ سال صدر جو بائیڈن کے ہاتھوں ڈونلڈ ٹرمپ کو الیکشن میں شکست کے بعد فیس بک نے قبل از وقت غلط معلومات اور سازشی مفروضوں کو روکنے کے لیے بنائے گئے حفاظتی انتظامات کو ختم کر دیا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ اس اقدام نے چھ جنوری کو واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کے حامیوں کے کیپیٹل ہل پر مہلک حملے میں معاونت کا کام کیا۔

ہوگن اس ہفتے امریکی کانگریس میں بھی گواہی پیش کریں گی۔ ان کو امید ہے کہ یہ باتیں سامنے لانے سے حکومت کمپنی کی سرگرمیوں کو چلانے کے لیے ضابطے بنائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ انتخابات کے بعد فیس بک نے شہری سالمیت (سوک انٹیگریٹی) کے اس یونٹ کو بند کردیا جہاں وہ کام کر رہی تھیں اور یہ وہ وقت تھا جب انہیں احساس ہوا کہ ’مجھے بھروسہ نہیں کہ وہ فیس بک کو خطرناک ہونے سے بچانے کے لیے درکار سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔‘

پیلٹ فارم کے الگورتھم یہ تعین کرتے ہیں کہ صارفین کی نیوز فیڈ پر کیا نظر آتا ہے۔ ہوگن نے کہا کہ مواد کے بہاؤ میں 2018 میں لائی گئی ایک تبدیلی سے تفرقہ بازی میں اضافہ ہوا۔ یہ ایک ایسے پلیٹ فارم کے لیے عجیب بات ہے جو بنایا ہی اس لیے گیا تھا کہ لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑا جائے۔

ہوگن کا کہنا تھا کہ الگورتھم میں تبدیلی سے نفرتوں کو بڑھاوا مل رہا تھا، مگر اس کے باوجود فیس بک نے اسے جاری رکھا کیونکہ اسے پتہ چلا کہ اس سے صارفین اور بھی زیادہ انگیج کر رہے تھے اور ویب سائٹ پر زیادہ وقت گزار رہے تھے۔ اس سے کمپنی کو ڈیجیٹل اشتہار زیادہ مل رہے تھے جو اس کی آمدنی کا اہم حصہ ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کمپنی فیکٹ سیٹ کے تجزیہ کاروں کے اعدادوشمار کے مطابق فیس بک کی سالانہ آمدنی 2018 میں 56 ارب ڈالر سے اس سال دوگنی ہوکر ممکنہ طور پر 119 ارب ڈالر کے قریب ہوگی۔ اس کے علاوہ 2018 میں اس کی مارکٹ ویلیو 357 ارب ڈالر سے بڑھ کر اب ایک کھرب کے قریب ہوگئی ہے۔

ہوگن کا مکمل انٹرویو نشر ہونے سے قبل اتوار کو ہی فیس بک کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اس وقت تک گمنام وسل بلوئر کے الزامات کو ’گمراہ کن‘ قرار دیا۔

کمپنی کے پالیسی اور پبلک افیئرز کے نائب صدر نک کلیگ نے ملازمین کو جاری ایک میمو میں لکھا: ’حالیہ سالوں میں سوشل میڈیا نے معاشرے پر گہرا اثر ڈالا ہے اور فیس بک وہ جگہ ہے جہاں یہ بحث زیادہ تر ہوتی ہے، مگر جو بھی شواہد ہیں وہ اس خیال کی تائید نہیں کرتے کہ فیس بک یا سوشل میڈیا پولرائزیشن کی مرکزی وجہ ہیں۔‘

اس نئے انٹرویو نے فیس بک پر سپاٹ لائٹ مزید تیز کر دی ہے۔ دنیا بھر میں قانون ساز اور ریگیولیٹر اس کے معاشرے پر اثرات اور عوامی رائے بنانے کی طاقت پر نظرثانی کر رہے ہیں۔

اس میں اضافہ اب ہوا ہے، جب ستمبر میں امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی، جس میں یہ انکشاف ہوا کہ فیس بک کی اپنی اندرونی ریسرچ سے یہ پتہ چلا ہے کہ توجہ حاصل کرنے والے الگورتھمز نے سیاسی اختلاف کو فروغ دینے میں مدد کی اور نوجوانوں، خاص طور پر لڑکیوں میں ذہنی صحت اور جذباتی مسائل پیدا کیے۔

ہوگن نے فیس بک کی اس اندرونی ریسرچ کے ہزاروں صفحات اخبار کو لیک کیے، جس نے اس موضوع پر ’فیس بک‘ فائل نامی سیریز چلائی۔

فیس بک نے الزام لگایا کہ وال سٹریٹ جرنل نے ان دستاویزات سے اپنی مرضی سے چن کر وہ باتیں نکالیں جو کمپنی کو مزید بری روشنی میں پیش کرتی ہیں، تاہم اس انکشاف کے بعد فیس بک پر نظریں اور بھی گہری ہوگئیں اور اسے بچوں کے لیے اپنے مشہور پیلٹ فارم انسٹاگرام کا ورژن متعارف کروانے سے گریز کرنا پڑا۔

ہوگن کا انٹرویو نشر ہونے سے قبل نک کلیگ نے سی این این پر اتوار کو ہی ایک انٹرویو میں کہا کہ پلیٹ فارم کو محفوظ بنانے لیے جو ہو سکتا ہے وہ کمپنی کرتی ہے، چاہے وہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ہو یا مواد پر نظر رکھنے والے ہزاروں ملازمین، ’پھر بھی ہم ہر بار سو فیصد اس پر قابو نہیں پاسکتے۔‘

37 سالہ ہوگن ریاست آئیووا سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے کمپیوٹر انجینیئرنگ اور ہارورڈ یونیورسٹی سے بزنس میں ماسٹرز کیا ہوا ہے۔

انہوں نے امریکہ میں ریگیولیٹرز کو کم سے کم آٹھ شکایات درج کروائی ہوئی ہیں، جن میں الزام ہے کہ اپنے پلیٹ فارم سے جڑے خطرات کے بارے میں معلومات چھپا کر فیس بک نے قانون کی خلاف ورزی کی۔ فیس بک ان کے خلاف کمپنی کے خفیہ دستاویزات چوری کرنے اور لیک کرنے کے الزام میں کیس بھی کر سکتی ہے۔

انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ فیس بک میں کوئی شخص برا نہیں بس اس کی ترجیحات غلط ہیں۔ ’جب آپ زیادہ استعمال کریں گے تو فیس بک زیادہ پیسے بنائے گی۔ لوگوں کو ایسی چیزوں سے انگیج کرنا پسند ہے جن سے کوئی جذباتی ردعمل پیدا ہو۔ انہیں (نیوز فیڈ پر) جتنی غصے والی باتیں ملیں گی، وہ اس سے اور ردعمل دیں گے اور مزید استعمال کرتے جائیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی