امریکہ: مظاہرین پر فائرنگ کرنے والے شخص کے بری ہونے پر غصہ

گذشتہ سال اگست میں سیاہ فام افراد کے ساتھ پولیس کے امتیازی سلوک کے خلاف ایک احتجاج پر فائرنگ کرکے دو افراد کی ہلاک کرنے والے کائل رٹن ہاؤس کو عدالت کی جانب سے بری کیے جانے کے بعد کئی امریکی شہروں میں مظاہرے شروع ہوگئے۔

20 نومبر 2021 کو شکاگو میں مظاہرین کائل رٹن ہاؤس کی بریت کے فیصلے کے خلاف مظاہرے میں شریک ہیں(اے ایف پی)

امریکی نوجوان کائل رٹن ہاؤس کے خلاف قتل کا مقدمہ نتیجہ تقسیم کا سبب بن گیا ہے جس کے بعد ملک کے متعدد شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ امریکہ بھر کے حکام اور متاثرہ افراد کے خاندانوں نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ پرامن رہیں۔

جمعے کو نیویارک میں تین سو کے قریب افراد نے بروکلین میں واقع بارکلیز سینٹر سے بروکلین پل تک مارچ کیا۔ انہوں نے کتبے اٹھا رکھے تھے۔ بعد میں مظاہرین زیریں مین ہٹن میں داخل ہو گئے۔

 کائل کو 25 اگست 2020 کو کنوشا، وسکونس میں سیاہ فام افراد کے ساتھ پولیس کے امتیازی سلوک کے خلاف ایک احتجاج کے دوران اے آر 15 طرز کی رائفل سے دو افراد کو گولی مار کر ہلاک اور ایک شخص کو زخمی کرنے کے پانچ الزامات کا سامنا تھا۔ 15 روز تک جاری رہنے والی مقدمے کی کارروائی اور تقریباً چار روز تک جیوری میں بحث کے بعد انہیں 19 نومبر کو بری کر دیا گیا، جس امریکی عوام میں غم اور غصے کی لہر دوڑ گئی۔

 امریکی ریاست اوریگن کے شہر پورٹ لینڈ میں ہونے والے ایک مظاہرے کو حکام نے ’فسادات‘ قرار دے دیا۔ ملٹنومہ کاؤنٹی شیرف کے دفتر کے مطابق دو سو کے لگ بھگ مظاہرین میں شامل ’10 سے 15‘ لوگوں کے گروپ نے کھڑکیاں توڑ دیں اور پولیس پر مختلف اشیا پھینکیں۔

 اس گروپ نے ملٹنومہ کاؤنٹی جسٹس سینٹر کے باہر گیٹ کے ساتھ ’چھیڑ چھاڑ‘ شروع کر دی اور گرے ہوئے درختوں کی شاخوں کی مدد سے راستہ بند کرنے کی کوشش کی جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حالات خراب ہونے کا اعلان کر دیا۔ جسٹس سینٹر میں مقامی پولیس کی رہائش ہے۔ اس موقعے پر ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا جن کے خلاف پہلے وارنٹ موجود تھا۔

ایک اور مظاہرہ شکاگو میں کیا گیا جس میں شامل افراد نے شہر کی سڑکوں پر 90 منٹ تک مارچ کیا۔ جمعے کی رات کو سو کے قریب مظاہرین نے اوک لینڈ، کیلی فورنیا میں بھی ریلی نکالی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ رٹن ہاؤس کے مقدمے میں فیصلے سے امریکی نظام انصاف میں موجود عدم توازن کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس سے قانون ہاتھ میں لینے والوں کی جانب سے تشدد کے لیے مثال قائم ہو سکتی ہے۔ بروکلین میں بارکلیز سینٹر کے باہر ایک بورڈ پر لکھا تھا کہ یہ فیصلہ ’سول نافرمانی اور احتجاجوں کے کھلے موسم‘ کی نشاندہی کر رہا ہے۔

نیویارک شہر کے پبلک ایڈووکیٹ اور گورنر کے عہدے کے امیدوار جومانی ولیئمز، جنہوں نے بروکلین میں ہونے والے مظاہروں میں شرکت کی، نے کہا ہے کہ فیصلے کے نتیجے میں ’نیا معیار قائم ہو گا جس سے صرف مستقبل میں کائل رٹن ہاؤس جیسے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ ان میں سے کچھ سڑکوں پر موجود مسلح افراد اور جبر سے لیس کچھ لوگ حکومت میں ہوں گے۔‘

دریں اثنا امریکی ریاست وسکونسن کے شہر کینوشا میں احتجاج کرنے والے درجنوں افراد کینوشا کاؤنٹی کورٹ ہاؤس کے باہر جمع ہو گئے جہاں گذشتہ چند ہفتے سے مقدمے کی سماعت کی گئی۔

سال 2020 میں پولیس نے ایک سیاہ فام شخص جیکب بلیک کو گولی مار دی تھی۔ بلیک کو کینوشا کے محکمہ پولیس کے سفید فام افسر نے گولی ماری جس سے وہ مفلوج ہو گئے۔

 رٹن ہاؤس کے خلاف مقدمے کے فیصلے کے بعد جیک بلیک کے چچا جسٹن بلیک نے کورٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم پر امن رہیں گے۔‘

رٹن ہاؤس کے ہاتھوں زخمی ہونے والے امریکی شہری گیج گروس کروٹز کے خاندان کی نمائندگی کرنے والے وکلا کے بقول: ’اس وقت ہمیں امن کی ضرورت ہے، مزید تشدد کی نہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گروس کروٹز اور رٹن ہاؤس کی فائرنگ میں مارے جانے والے جوزف روزن باؤم کے اسٹیٹ کے وکلا کمبرلی موٹلی اور مائلو شواب نے جیوری کے فیصلے کے بعد ’تکلیف محسوس کرنے والے ہر شخص‘ کو پرامن رہنےکے لیے کہا۔ 

 وکلا کے بیان کے مطابق: ’اینتھنی ہبر (رٹن ہاؤس کی فائرنگ میں مارے جانے والے دورسری شخص) اور جوزف روزن باؤم کو اس رات مرنا نہیں چاہیے تھا۔ اب ہم ہر اس شخص سے پر امن رہنے کے لیے کہتے ہیں جسے تکلیف پہنچی اور یہ کہ متاثرہ افراد اور ان کے خاندانوں کی پرائیویسی کا احترام کیا جائے۔‘

وسکونسن کے گورنر ٹونی ایورز نے قانون نافذ کرنے والے مقامی اداروں کو ضرورت پڑنے کی صورت میں نیشنل گارڈ سروس کے پانچ سو اہلکاروں کو تعینات کر رکھا ہے تاہم فیصلے کے بعد ماحول نسبتاً پرامن رہا۔

مقامی پادری، ریورینڈ مونیکا کمنگز نے جمعے کی رات دعائیہ تقریب میں شمعیں روشن کروائیں اور کینوشا کے مکینوں پر زور دیا کہ وہ ’زخم بھرنے کے طویل عمل کا آغاز کریں۔‘

اس بات کے تعین کے لیے کہ آیا ریاست وسکونسن کے قانون کے تحت رٹن ہاؤس نے اپنی دفاع میں یہ قدم اٹھایا، جیوری میں بحث کا دائرہ نسبتاً تنگ تھا۔ پھر بھی اس مقدمے اور اس کی کارروائی سے امریکہ کی پوری سیاست میں گہری تقسیم کی عکاسی ہوئی ہے۔

 اس مقدمے کی وجہ سے آئین دوسری ترمیم میں دیے گئے حقوق اور اسلحے کے امریکی کلچر کے جائزے اور اس پر بحث کو زندہ کر دیا ہے۔

امریکی حقوق کے حامی متعدد افراد نے روٹن ہاؤس کی بریت پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ جب کہ متعدد ممتاز ڈیموکریٹک عہدے داروں سمیت شہری حقوق کے گروپس، نسلی انصاف کے لیے متحرک کارکنوں اور اسلحے رکھنے کے قانون میں اصلاحات کے حامیوں نے نظام انصاف اور سیاست کی آلودہ فضا کو الزام دیا ہے کہ ان کی وجہ سے تب 17 سال عمر کے رٹن ہاؤس خطرناک ہتھیار سے لیس ایک عدم استحکام کے ماحول میں داخل ہوئے۔

 صدر جو بائیڈن نے جمعے کو صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ وہ ’جیوری کے فیصلے‘ کے ساتھ ہیں اور یہ کہ ’جیوری کا نظام کام کرتا ہے۔‘

بعد میں جاری ہونے والے ایک بیان میں صدر نے لوگوں سے پر امن رہنے کی اپیل کی۔

ان کا کہنا تھا: ’ایسے میں کہ جب کینوشا میں آنے والے فیصلے سے بہت لوگوں کو غصہ آئے گا اور انہیں تشویش ہو گی جن میں میں خود بھی شامل ہوں، ہمیں تسلیم کرنا ہو گا کہ جیوری نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ میں نے اپنی انتخابی مہم میں امریکیوں کو متحد کرنے کا وعدہ کیا تھا کیونکہ میرا ماننا ہے کہ ہمیں متحد کرنے والا امر ہمیں تقسیم کرنے والے امر سے زیادہ بڑا ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ