پوتن، مودی ملاقات: تجارتی اور دفاعی معاہدوں پر دستخط متوقع

بھاتی وزیراعظم اور روسی صدر کے مابین ملاقات میں تجارتی، دفاعی، خلائی اور ٹیکنالوجی کے معاہدوں پر دستخط کے ساتھ ساتھ یہ بھی متوقع ہے کہ صدر پوتن فضائی دفاعی سسٹم S-400 کا ایک ماڈل وزیر اعظم مودی کو دیں گے۔

چار ستمبر 2019 کو روسی صدر پوتن اور بھارتی وزیر اعظم مودی کے درمیان روس میں ملاقات (اے ایف پی)

روسی صدر ولادی میر پوتن پیر (چھ دسمبر) کو بھارت کا دورہ کر رہے ہیں، جہاں وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ 21 ویں سالانہ بھارت-روس سمٹ میں شرکت کریں گے، جس کے دوران دفاعی اور تجارتی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

روسی صدر ایک ایسے وقت میں بھارت کا دورہ کر رہے ہیں جب نئی دہلی امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے کہا کہ سالانہ سربراہی اجلاس کے ایجنڈے میں سیاسی اور دفاعی امور شامل ہیں۔ توقع ہے کہ دونوں ممالک خاص طور پر تجارت اور دفاع میں متعدد معاہدوں پر دستخط کریں گے۔

بھارت اور روس کے قریبی تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے، لیکن حال ہی میں، بھارت امریکہ کے قریب آیا ہے، جسے وہ چین کا مقابلہ کرنے کے لیے اہم سمجھتا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان مشرقی لداخ کی متنازع سرحد پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جہاں گذشتہ سال مہلک جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔

دریں اثنا روس نے ’کواڈ‘ کی تشکیل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا پر مشتمل یہ گروپ ہند بحرالکاہل کے علاقے میں چین کی بڑھتی ہوئی جارحیت کے جواب میں تشکیل دیا گیا تھا۔

بھارت روس کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے اور دونوں ملک 10 سالہ فوجی تکنیکی معاہدے پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں اور امکان ہے کہ روس بھارت کو نئی ٹیکنالوجی کی منتقلی میں مدد دے سکے۔

بھارت فوجی ساز و سامان کا ایک بڑا خریدار ہے، جو سرد جنگ کے دوران زیادہ تر سابق سوویت یونین پر انحصار کرتا تھا، لیکن اب وہ امریکی آلات کا بھی انتخاب کرکے اپنی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے دوران امریکہ اور بھارت نے تین ارب ڈالر سے زائد کے دفاعی معاہدے کیے تھے اور دو طرفہ دفاعی تجارت 2008 میں تقریباً صفر سے بڑھ کر 2019 میں 15 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بھارت کا روسی S-400 میزائل سسٹم کا حصول، جسے وہ چین کا مقابلہ کرنے کے لیے اہم سمجھتا ہے، نئی دہلی اور واشنگٹن کے تعلقات کے لیے پریشان کن ثابت ہو سکتا ہے۔

امریکہ نے اپنے شراکت داروں سے کہا ہے کہ وہ ممکنہ پابندیوں سے بچنے کے لیے روسی فوجی ساز و سامان سے دور رہیں۔

بھارت اور روس کو اپنے تجارتی سودے مضبوط ہونے کی امید ہے۔ انہوں نے پہلے ہی 2025 کے آخر تک دو طرفہ تجارت میں 30 ارب ڈالر کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق یہ نومبر 2019 کے بعد مودی اور پوتن کے درمیان پہلی ملاقات ہوگی۔

اس میں تجارتی، دفاعی، خلائی اور ٹیکنالوجی کے معاہدوں پر دستخط تو متوقع ہی ہیں، تاہم بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق یہ بھی متوقع ہے کہ صدر پوتن S-400 میزائل سسٹم کا ایک ماڈل وزیراعظم مودی کو دیں گے۔ 

اس کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان بھارت میں اے کے 203 کی پیداوار کے معاہدے پر بھی دستخط متوقع ہیں، بھارتی فوج 7.5 لاکھ رائفلز خریدے گی۔ 

دہلی کی تھنک ٹینک آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے نندن اونیکرشن نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ نہایت اہم ہے۔ 

ان کا کہنا تھا: ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ تعلقات میں کمی آئے۔‘

دونوں ممالک کے لیے افغانستان پر بات چیت بھی اہم ہے۔

بی بی سی کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں افغانستان پر بات ضرور ہوگی کیونکہ بھارت افغانستان میں اثرورسوخ قائم رکھنا چاہتا ہے اور ماسکو اس کے لیے مددگار ہوسکتا ہے کیونکہ دونوں ممالک کو افغانستان کے مستقبل کے بارے میں خدشات ہیں۔ 

امریکی تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن کے سینیئر دفاعی تجزیہ کار ڈیرک گروسمن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو افغانستان سے دہشت گردی کے نتیجے میں متاثر ہونے کا خدشہ ہے، ’اس لیے افغانستان دہلی اور ماسکو کے درمیان مضبوط معاہدوں‘ کی وجہ ہو سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا