مائیں بھی انسان ہوتی ہیں!

باڈی شیمنگ کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا جو ’موٹی ہو رہی ہو‘ سے شروع پر کر ’فٹ بال بن گئی ہو‘ تک جا پہنچا۔ باڈی شیمنگ بری ہے یا اچھی چیز یہ تو دور کی بحث ہے یہ ہے کس بلا کا نام اکثریت لاعلم نظر آئی۔

ایک بھارتی حاملہ خاتون 11 اکتوبر 2008 کو نئی دہلی میں ایک تقریب کے دوران حاملہ خواتین کے لباس کی نمائش میں حصہ لے رہی ہیں۔ تقریباً 300 حاملہ خواتین نے اس تقریب میں شرکت کی جس میں ڈاکٹروں نے بچوں کی دیکھ بھال، حمل اور غذائیت جیسے معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان میں ایسی کوشش کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے(اے ایف پی)

عورت ماں کے درجے پر فائز ہونے کے لیے بے پناہ تکالیف سے گزرتی ہے۔ ہم ماں کے رتبے کی بات تو کرتے ہیں لیکن ماں بننے والی عورت کی تکلیف اور آزمائش کا احساس نہیں کرتے۔

ہمارے لیے عورت کا تصور بیوی، بہن، ماں اور بیٹی کے رشتوں سے بندھا ہے۔ لیکن وہ ایک انسان ہے یہ بات ہمارے اجتماعی شعور لاشعور سے تقریباً محو ہو چکی ہے۔

عورت جب تخلیق کے عمل سے گزر رہی ہوتی ہے اسے غیرمعمولی جذباتی اور نفسیاتی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ حمل کے دوران طبی پیچیدگیوں کے ساتھ ساتھ کئی نفسیاتی اور جذباتی مشکلات بھی پیش آتی ہیں۔ پاکستان میں زچہ بچہ کی صحت اور بہتری کے حوالے سے وسائل تو کم ہیں ہی مگر اس حوالے سے آگہی اور احساس کی بھی شدید کمی ہے۔

عورت کے لیے بچے پیدا کرنا فرض سمجھا جاتا ہے۔ بچہ پیدا کرنے کو ایک معمولی اور آسان عمل سمجھا جاتا ہے۔ حمل سے بچے کی پیدائش تک کے عمل سے جڑی نفسیاتی کشمکش کو عام حالات میں کچھ اہمیت نہیں دی جاتی۔ بعض کیسز میں تو طبی مسائل پر بھی مناسب علاج نہیں کرایا جاتا اور کہہ دیا جاتا ہے کہ سب نے ہی بچے پیدا کیے ہیں آپ کوئی انوکھا کام نہیں کر رہیں۔

حاملہ عورت اگر کسی مشکل کا اظہار بھی کرے تو ہنستے ہنستے کہا جاتا ہے کہ ماں کے قدموں کے نیچے ایسے ہی جنت نہیں رکھی گئی۔ ارے بھئی جنت کے مقام تک پہنچنے سے پہلے ہی اگر کوئی عالم بالا پہنچ جائے تو پھر کیا ہوگا؟

پچھلی تحریر میں بچے کی دیر ہونے پر جو دباؤ خواتین سہتی ہیں اس کی روداد اپنے ذاتی تجربے کے تناظر میں رقم کی تھی۔ حاملہ ہونے کے بعد میں نے اپنے سماج کو ایک الگ زاویے سے دیکھا۔ یہ ایک کتابی بات یا لفاظی نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ عورت کو انسان نہیں سمجھا جاتا۔

حاملہ ماں کے ذہنی اور جسمانی سکون کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے۔

ذہنی اور جذباتی مدد ایک حاملہ خاتون کے لیے کتنی اہم ہے اس کا اندازہ خود اس عمل سے گزرنے کے بعد کئی گنا بڑھ گیا۔

میں پہلی بار ماں بن رہی تھی میرے لیے یہ زندگی کا ایک بہت ہی جذباتی مرحلہ تھا۔ بالخصوص ایسے حالات میں جب آپ کو لوگ بار بار کہیں کہ اب آپ کو دیر ہو گئی اور کسی حد تک آپ کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی جائے کہ اب مشکل ہی ہے کہ آپ ماں بن سکیں۔

  ابتدائی چند ہفتوں میں میری کیفیت عجیب تھی۔ خوشی کے ساتھ ساتھ ایک ڈر تھا کہ کچھ ہو نہ جائے۔ لوگ میری محبت میں بھی مجھے محتاط کرنے کے لیے ڈراؤنے قصے سناتے فلاں کا بچہ ایسے ضائع ہوگیا فلاں کا بی پی بڑھ گیا مس کیرج ہو گیا۔ میں تو چلتے ہوئے مسلسل خوفزدہ رہتی تھی۔

لاشعوری طور پر ماں اپنے اندر ایک نئی زندگی کی ذمہ داری حمل کے فوراً بعد اٹھا لیتی ہے۔ خود سے زیادہ بچے کی فکر ہوتی ہے مگر باہر کی دنیا کو میری جذباتی کیفیت سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ شاید اس کو یوں کہنا چاہیے کہ کسی کو احساس ہی نہیں تھا کہ مجھے طبی اور جسمانی مسائل کے ساتھ کوئی ذہنی، جذباتی مسئلہ بھی درپیش ہو سکتا ہے۔ میں خود ہی اپنے آپ کو جذباتی سہارا دے رہی تھی۔ خاندان اور حلقہ احباب میں سبھی ماؤں کے پاس میرے لیے بہت سے مشورے تھے جو دینا وہ اپنا فرض سمجھتی تھیں۔

 باڈی شیمنگ کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا جو ’موٹی ہو رہی ہو‘ سے شروع پر کر ’فٹ بال بن گئی ہو‘ تک جا پہنچا۔ باڈی شیمنگ بری ہے یا اچھی چیز یہ تو دور کی بحث ہے یہ ہے کس بلا کا نام اکثریت لاعلم نظر آئی۔ ٹیلی ویژن اینکر ہونے کی وجہ سے سب ہی کو یہ یہ اپنا حق لگتا ہے کہ وہ میری ظاہری شخصیت پر تبصرے کریں۔ سو حاملہ ہونے کے بعد لوگوں کو مزید موقع مل گیا۔

آغاز میں جب یہ جملے سننے کو ملے تو مجھے کچھ دباؤ محسوس ہوا کہ ٹی وی پر کام کیسے جاری رکھ پاؤں گی، اتنے موٹاپے کے ساتھ کیسے کام کرو گی۔ لیکن پھر میں نے خود کو سمجھایا اور فیصلہ کیا کہ یہ تبدیلی اور یہ جملے میرے کام کے راستے میں نہیں آئیں گے۔

چند دوستوں نے اگرچہ اس حوالے سے مدد کی اور مجھے اعتماد دیا کہ ان جملوں سے پریشان ہوئے بغیر اس مرحلے کا لطف اٹھاؤ۔ یہ جسمانی تبدیلی بھی ایک انوکھا تجربہ ہوتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے آپ پر اپنی الماری میں رکھے تمام لباس تنگ ہو جاتے ہیں اور آپ اپنے آپ سے یہ عہد کرتے رہتے ہیں بچے کی پیدائش کے بعد واپس اسی سائز میں آ جانا ہے لیکن آس پاس سے مجھے یہ سمجھا گیا کہ اب یہ کپڑے بھول ہی جاؤ۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بچے کے بعد وہ بات کہاں رہتی ہے۔ لیکن جو میں سننا چاہتی تھی وہ کسی کو کہنے کی توفیق نہیں ہوئی؟ ایک مسئلہ یہ بھی سامنے آیا کہ  پرائیویسی کا کوئی تصور نہیں ہے۔۔ کہیں بھی جاؤ ۔۔ پریگننٹ ہو۔۔۔  کون سا مہینہ ہے، بیٹا ہے یا بیٹی جیسے سوالات کی بوچھاڑ کا سامنا کرنا پڑتا۔

مجھے یہ مشورہ ہر طرف سے دیا جاتا کہ بس نارمل ڈیلیوری کی طرف جانا ورنہ ساری زندگی کے لیے بےکار ہو جاؤ گی، موٹی ہی رہو گی وغیرہ وغیرہ۔ یہ فیصلہ کیا مجھے کرنا تھا؟ لیکن شاید ایسے فیصلوں پر رائے مسلط کرنا اس سماج کی عادت ہے۔

میرا جسم میری مرضی کا نعرہ ہم ایک صدی لگاتے رہیں تو ہی شاید کسی کو احساس ہو کہ جس کا جسم ہو اسی کہ مرضی ہوتی ہے۔

حاملہ خواتین کی جذباتی اور ذہنی حالت کا ہمارے بہت کم لوگوں کو احساس ہے۔ حمل طبی، جسمانی، ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی طور پر ایک مشکل مرحلہ ہے۔ بالخصوص پہلی بار ماں بننے کا عمل جذباتی اتار چڑھاؤ سے بھرا ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر آپ کے اندر آنے والی تبدیلیوں کے لیے آپ کو ذہنی طور پر تیار نہ کیا جائے، آپ کی مدد نہ کی جائے تو یہ مرحلہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔

بچہ پیدا کرنا جتنا فار گرانٹڈ پاکستان میں لیا جاتا ہے شاید ہی کہیں اور اس کی مثال ملتی ہو۔ ایک بچہ ابھی دنیا میں آیا نہیں تھا اور مجھے میرے چاہنے والے مشورہ دینے لگے کہ بس بھائی جلدی سے دوسرا بچہ بھی کر لینا۔ جیسے میں انسان نہیں ایک مشین ہوں۔۔۔

بچے دنیا کی خوبصورت ترین نعمت ہیں لیکن بچے پیدا کرنے والی بھی انسان ہے۔ راتوں کو اکیلے جاگنے والی گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ بچہ پالنے والی خواتین کا احساس پیدا کرنا ان کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنفہ کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا لازمی نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ