پنجاب: پانی کے میٹرز کی تنصیب اور ماہانہ بل وصول کرنے کا معاہدہ

معاہدے کے مطابق چینی کمپنیاں 9 ارب 29 کروڑ 97 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کریں گی اور منصوبے میں واسا کا حصہ 2 ارب 13 کروڑ 89 لاکھ روپے ہوگا۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی میں شہری 26 اگست 2020 کو پینے کا پانی بھرنے کے لیے ایک واٹر فلٹر پلانٹ پر جمع ہیں (تصویر: اے ایف پی)

حکومت پنجاب نے صوبے میں پانی کے ضیاع کو روکنے اور آمدن بڑھانے کے لیے پانی کے میٹر لگانے کے دو سال پرانے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے اور اس معاملے میں واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی (واسا) لاہور کا چینی کمپنی کے ساتھ معاہدہ طے پاگیا ہے۔

حکام کے مطابق واسا کا چینی کمپنی سے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ساڑھے سات لاکھ پانی کے میٹرز لگانے کا معاہدہ ہوا ہے۔

معاہدے کے مطابق چینی کمپنیاں 9 ارب 29 کروڑ 97 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کریں گی اور منصوبے میں واسا کا حصہ 2 ارب 13 کروڑ 89 لاکھ روپے ہوگا۔

واسا لاہور نے 12 ارب روپے کی لاگت سے دو سال میں میٹر لگانے کے چینی کمپنیوں کے کنسورشیم کو آمادگی کا لیٹر بھجوا دیا ہے۔

واسا کے وائس چیئرمین امتیاز شیخ کے بقول ادارے کی جانب سے فائنل کیے گئے چینی کنسورشیم میں وان یلنگ واٹر میٹرنگ، ژنگ سو ژنگ لینگ کمپنی اور چائنہ انرجی انجینیئرنگ کمپنی شامل ہے۔

پی پی پی پراجیکٹ کے تحت چینی کمپنیز لوکل اسمبلنگ پلانٹ لگانے کی پابند ہوں گی، چھ ماہ میں واٹر میٹرنگ کے لیے فیکٹری لگائی جائے گی۔

چینی کمپنیز سپیشل پرپس کمپنی بنانے کی بھی پابند ہوں گی۔ پی پی پی موڈ میں سرمایہ کاری کی واپسی کا دورانیہ 10 سال ہوگا اور شہر میں اس ماہ سے لے کر دو سال کے دوران واٹر میٹرنگ مکمل کردی جائے گی۔

نجی کمپنی پانی کے میٹر لگانے اور بل وصولی میں لاگت وصول کرنے کے لیے با اختیار ہوگی۔

پانی کے میٹر لگانے کا مقصد کیا ہے؟

وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہماری حکومت آنے کے بعد واسا کے ٹیوب ویلز کے غیر ضروری استعمال اور اوقات کار میں کمی لائی گئی ہے۔ نجی ٹیوب ویلز پر فیس اور لائسنس کی شرط عائد کی گئی ہے۔ عدالتی رہنمائی کے مطابق واٹر ری سائیکلنگ پالیسیز لائی گئی ہیں اور زیر زمین پانی کے ٹینکس سمیت دیگر غیر روایتی اقدامات شروع کیے گئے ہیں۔

وزیر اعلی پنجاب کے مطابق یہ اقدامات اس لیے کیے جا رہے ہیں کہ صوبے میں 1980 سے 2020 تک کی رپورٹ کے مطابق زیر زمین پانی کی سطح تیزی سے کم ہوئی ہے۔

وزیر اعلی کی جانب سے جاری اعداد وشمار کے مطابق 1980 میں زیر زمین پانی کی سطح پانچ ہزار 700 میٹرز تک تھی۔

اب یہ سطح تیزی سےکم ہونے کے بعد 2020 میں 23 ہزار میٹر تک پہنچ چکی ہے جو کہ خطرناک ہے اس کو روکنے کے لیے پانی کے استعمال کو کم کرنے کی ضرورت ہے اس لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

 

وائس چیئرمین واسا امتیاز شیخ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مقصد زیر زمین صاف پانی کی کم ہوتی سطح کو روکنا ہے جس کے لیے ہم نے پہلے مرحلے میں لاہور سے پانی کے ساڑھے سات لاکھ کنکشنز پر واٹر میٹرز لگانے کا کام شروع کیا ہے۔

ان کے بقول پہلے پانچ مرلہ، 10 مرلہ یا ایک کنال یعنی رقبہ کے لحاظ سے گھروں کو سالانہ پانی کا بل بھجوایا جارہا ہے۔

لیکن اب بجلی کے فی یونٹ کی طرح پانی کے فی گیلن کو ناپنے کے لیے میٹرز لگائے جائیں گے جن کی قیمت پر حکومت 40 فیصد سبسڈی دے گی جبکہ 60 فیصد صارفین سے قسطوں میں بلوں کے ساتھ وصول کیے جائیں گے۔

امتیاز شیخ کے مطابق جس طرح یونٹس ضائع ہونے کے ڈر سے لوگ بجلی احتیاط سے استعمال کرتے ہیں اب پانی بھی ضائع نہیں کریں گے اور حکومت کی آمدن بھی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ میٹر صرف وہاں لگیں گے جہاں واسا کی جانب سے سرکاری پانی کے پہلے سے کنکشن موجود ہیں جبکہ اپنے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس یا اپنی موٹریں لگانے والوں پر ابھی اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔

پانی کے میٹرز پر عوامی ردعمل

لاہور کے سروس سٹیشن کے مالک جمال الدین نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ زیر زمین پانی کی سطح کم ہورہی ہے مگر پانی زندگی کے لیے ضروری ہے مجھ سمیت ہزاروں لوگوں کا روزگار سروس سٹیشن سے وابستہ ہے۔

گاڑیوں کی دھلائی کے دوران صاف پانی ضائع ضرور ہوتا ہے مگر اس کے علاوہ کوئی حل نہیں حکومت نے ہمیں استعمال شدہ پانی ری سائیکل کرکے بار بار استعمال کی ہدایت کی تھی مگر اتنے مہنگے پلانٹ ہم کیسے لگائیں حکومت کو چاہیے کہ ہمیں پلانٹ سبسڈی پر لگا دے یا نالوں کا پانی ری سائیکل کر کے سروس سٹیشنز کو فراہم کرے تب ہی یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔

پینے کا پانی ٹریٹمنٹ کے بعد فروخت کرنے والی کمپنی کے مالک صادق خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے کو بتایا کہ ’شہر میں سینکڑوں افراد نے پانی صاف کر کے فروخت کرنے کے پلانٹس لگا رکھے ہیں جن میں سے زیادہ تر سرکاری کنکشنز سے پانی حاصل کرتے ہیں اگر پانی کے میٹر نصب ہوئے تو پانی مہنگا ہوجائے گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’حکومت کو چاہیے کہ ایسا فارمولہ بنائے کہ پانی صاف کرکے فروخت کرنے والوں کو رعایت دے تاکہ عام شہریوں کو پینے کا صاف پانی پہلے جتنی قیمت میں ہی دستیاب ہو۔‘

وحدت کالونی کے رہائشی فرمان علی نے کہا کہ ان کا پانچ مرلے کا گھر ہے جس میں وہ چار بچوں، بیوی اور والدین کے ساتھ رہتے ہیں ان کے گھرسرکاری پانی کا کنکشن ہے اور سالانہ ہزار روپے تک ادا کرتے ہیں۔

پانی جیسی ضرورت کے لیے اتنی رقم کافی ہے حکومت کو چاہیے کہ آگاہی مہم کے ذریعے لوگوں کو جو پانی ضائع کرتے ہیں منع کرے۔

’اب اگر پانی کا بل بھی بجلی گیس کی طرح ماہانہ کی بنیاد پر آنے لگا تو غریب آدمی پہلے ہی دو وقت کی روٹی مشکل سے کما رہائے ہے بل کیسے ادا کرے گا؟‘

حکومت پینے کا صاف پانی تو ہر شہری کے لیے فراہم نہیں کر سکی مہنگائی اتنی زیادہ ہوگئی بجلی، گیس اور گھروں پر ٹیکس تک بڑھا دیے اب مذید کمائی کے لیے پانی کامیٹر لگا کر لوگوں سے پیسے وصول کرنا چاہتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’سیوریج تک کا بل وصول کیا جاتا ہے، سہولیات دینے میں انتہائی سست روی برتی جاتی ہے، گلی محلوں میں صفائی تک کا نظام بہتر نہیں پانی کی فراہمی کا نظام بھی بوسیدہ ہوچکا ہے اسے بہتر کرنے کی بجائے کمائی کا طریقہ نکال لیا ہے۔‘

انہوں نے مطالبہ کیا کہ پانی گھر گھر کی ضرورت ہے اور کئی علاقوں میں پانی ہی دستیاب نہیں ہے حکومت پہلے سے مشکلات میں گھرے لوگوں کو مذید پریشان نہ کرے۔

واضع رہے حکومت پہلے مرحلے میں لاہور اور اس کے بعد صوبے کے دیگر شہروں میں بھی پانی کے میٹرز لگانے کا منصوبہ تیار کر چکی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان