طالبان کی اوسلو میں مغربی حکام سے ملاقات میں کن امور پر بات ہو گی؟

اگست میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد یورپ کے اپنے پہلے دورے میں طالبان حکام ناروے کے ساتھ ساتھ امریکہ، فرانس، برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور یورپی یونین کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے۔

مغربی ممالک، طالبان اور افغان سول سوسائٹی کے ارکان کے درمیان اتوار کو اوسلو میں شروع ہونے والے مذاکرات میں افغانستان میں خوراک کی قلت کے باعث پیدا ہونے والے بحران اور شدت پسند گروپ کی حکومت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات ہوگی۔

اگست میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد یورپ کے اپنے پہلے دورے میں طالبان حکام ناروے کے ساتھ ساتھ امریکہ، فرانس، برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور یورپی یونین کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس اہم دورے کے دوران طالبان وفد کی قیادت وزیر خارجہ امیر خان متقی کر رہے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ ’طالبان حکام کے ساتھ مذاکرات میں تمام طبقوں کی نمائندگی والے سیاسی نظام کی تشکیل، انسانی اور اقتصادی بحران، سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے خدشات اور لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم سمیت انسانی حقوق جیسے معاملات پر بات ہو گی۔‘

حکومتی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان کو امید ہے کہ ’مذاکرات جنگ کے ماحول کو ایک پرامن صورتحال میں تبدیل کرنے میں مدد کریں گے۔‘

دنیا میں تاحال کسی ملک نے بھی طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے اور اس بارے میں ناروے کی وزیر خارجہ اینیکن ہیٹ فیلڈ نے زور دیا کہ مذاکرات کا مطلب ’طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنا یا اس کو قبولیت دینا نہیں ہو گا۔‘

تاپم ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں افغانستان کے حکام سے بات کرنی چاہیے۔ ہم سیاسی صورتحال کو بدتر انسانی تباہی کی طرف لے جانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘

اگست کے بعد سے افغانستان میں انسانی صورتحال انتہائی ابتر ہو چکی ہے کیوں کہ طالبان کے حکومت سنبھالنے کے بعد بین الاقوامی امداد، جو کہ افغان بجٹ کا تقریباً 80 فیصد ہوا کرتی تھی، اچانک رک لی گئی اور امریکہ نے افغان مرکزی بینک کے ساڑھے نو ارب ڈالر کے غیرملکی اثاثے منجمد کر دیے۔

اس صورت حال میں ملک میں غربت اور بے روزگاری آسمان کو چھو رہی ہے اور کئی مہینوں سے شدید خشک سالی کے شکار ملک میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بھی ادا نہیں کی گئیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق ملک کی 55 فیصد آبادی کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔ عالمی ادارے نے افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے اس سال ڈونر ممالک سے 4.4 ارب ڈالر امداد کی اپیل کی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے جمعے کو کہا تھا کہ ’افغانستان کے عوام کو صرف اس لیے اجتماعی سزا دینا ایک غلطی ہو گی کہ طالبان حکام کا رویہ ٹھیک نہیں ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے سابق نمائندے کائی ایدے نے اے ایف پی کو بتایا: ’ہم طالبان کو روکنے کے لیے امداد کی تقسیم بند نہیں رکھ سکتے۔ اگر آپ اپنا کام موثر انداز میں کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو کسی نہ کسی طریقے سے حکومت کو شامل کرنا ہوگا۔‘

بین الاقوامی برادری یہ دیکھنے کا انتظار کر رہی ہے کہ 1996 کے بعد اپنے دوسرے دور اقتدار کے دوران طالبان انسانی حقوق کے حوالے سے کیا اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

دوسری جانب طالبان جدیدیت کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن خواتین اب بھی بڑی حد تک سرکاری ملازمتوں سے باہر ہیں اور لڑکیوں کے سیکنڈری سکول بڑی حد تک بند ہیں۔

اتوار کو بند دروازوں کے پیچھے ہونے والے اوسلو مذاکرات کے پہلے دن طالبان کے وفد کی سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افغان سماجی کارکنوں سے ملاقات متوقع ہے جن میں خواتین رہنما اور صحافی بھی شامل ہیں۔

سابق افغان وزیر نرگس نہان، جو اب ناروے میں رہتی ہیں، نے کہا کہ انہوں نے ان مذاکرات میں شرکت کی دعوت مسترد کر دی تھی۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں خدشہ ہے کہ ’مذاکرات طالبان کو تسلیم کرنے اور انہیں مضبوط کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گے جبکہ ان میں تبدیلی کا کوئی آثار دکھائی نہیں دیتا۔‘

افغان انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز کے جلاوطن سربراہ داؤد مرادیان نے بھی ناروے کے اس اقدام پر تنقید کی ہے۔

انہوں نے کہا: ’طالبان کے ایک سینئیر رکن کی میزبانی سے ناروے کا خواتین کے حقوق کے حوالے سے شاندار عالمی تشخص متاثر ہو گا جب کہ طالبان نے صنفی امتیاز کو مؤثر طریقے سے قائم کیا ہوا ہے۔‘

ناروے نے اس قبل مشرق وسطیٰ، سری لنکا اور کولمبیا سمیت کئی عالمی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا