عورتوں کے حقوق کا ایک اور عالمی دن آن پہنچا

’جسم پر مرضی‘ کا مطلب عمومی طور پر مرضی کا لباس پہننا سمجھا جاتا ہے اس آزادی کا مطالبہ کرنے کو عورت کے باغی ہونے کی پہلی علامت سمجھا جاتا ہے۔

آٹھ مارچ 2021 میں اسلام آباد میں عورت مارچ کے دوران خواتین کا مظاہرہ (اے ایف پی فائل)

کروڑوں عورتیں اپنے جسم، اپنی سوچ اور اپنے ذہن پر پدر سری کے تسلط کے خلاف ہمیشہ احتجاج کرتی رہی ہیں، کبھی خاموش رہ کر، کبھی چیخ کر۔ کوئی زار زار روئی، کسی نے بغاوت کی، کوئی احتجاج کی پاداش میں مار دی گئی۔

یہ احتجاج انفرادی زندگیوں میں تو تھا ہی مگر اجتماعی سطح پر بھی عورت حقوق کی جنگ لڑتی رہی۔ یہ جنگ سماج میں عورت کی معاشرتی اور قانونی حیثیت منوانے کے لیے دنیا کے ہر حصے میں لڑی گئی۔ پاکستان میں 70 سالوں کے بعد بھی عورت کو مخصوص کوٹے میں نمائندگی دینے پر آمادہ ہونے والا سماج آج بھی عورت کی حیثیت پر تذبذب کا شکار ہے۔

ابھی پاکستان کی ہر عورت اپنے شناختی کارڈ، وراثت میں حصے، یکساں تعلیم، صحت کی سہولتوں جیسے بنیادی حقوق تک نہیں پہنچی تھی کہ کسی باغی نے ’میرا جسم میری مرضی‘ کا نعرہ لگا کر بڑے بڑے ’پرو وومن‘ دانشوروں کو خاک چٹا دی۔

پدر سری کی گہری جڑوں میں جکڑے ذہن ’میرا جسم میری مرضی‘ کے نعرے سے جس طرح نفرت کر رہے ہیں اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے۔ جسم کا لفظ آتے ہی مہا پرشوں کے ذہنوں میں ننگ دھڑنگ عورتوں کی مورتیاں ناچنے لگتی ہیں۔ بے چارے کج ذہن عورت کے جسم کو محض ایک شے کے طور پر دیکھتے اور برتتے یہ بھول ہی گئے ہیں کہ یہ جسم ایک انسان کا جسم ہے اور انسان کی مرضی، ضرورت اور خواہش لباس کے علاوہ بھی ہو سکتی ہے۔

جسم پر مرضی کا مطلب عمومی طور پر مرضی کا لباس پہننا سمجھا جاتا ہے اس آزادی کا مطالبہ کرنے کو عورت کے باغی ہونے کی پہلی علامت سمجھا جاتا ہے اور لباس کی مرضی کو بھی ایسے پیش کیا جاتا ہے کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب بھی عورت اپنی مرضی کا لباس پہننا چاہتی ہے اس کی مرضی کو بے حیائی اور ننگا فیشن کرنے کی آزادی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

پڑوسی ملک کی مسکان کی مرضی کے لباس پر ٹرینڈ چلانے والے اپنے ملک کی قندیل کی مرضی پر آگ بگولا تھے۔ اگرچہ مسکان کی مرضی اور بہادری کو سراہا جا رہا ہے مگر در حقیقت یہ اس بہادر لڑکی کی مرضی کا معاملہ ہے۔ پڑوسی ملک میں مرضی کا لباس پہننے کی جنگ کا ساتھ دینے والے اپنے دیس میں ساڑھی پہننے والی پاکستانی خواتین کو جس طرح کے القابات سے نوازتے ہیں وہ ہماری ذہنی کشمش کا عکاس ہے۔

لباس سے آگے نہ کبھی عورت کو سمجھا گیا ہے نہ جانا گیا ہے اور نہ ہی مانا گیا ہے۔ اس سماج نے عورت کو اگر انسان کا درجہ دیا ہوتا تو انسانی جسم کے ساتھ جڑے مسائل اور اس انسان کا اس جسم پر حق ماننے میں اتنی دقت نہ ہوتی جتنی ہر طبقے کے پڑھے لکھے شخص سے لے کر جاہل شخص تک کو ہو رہی ہے۔

عورت مارچ میں یہ نعرہ گونجا تو غیظ و غضب کا طوفان آ گیا۔ وہ کروڑوں عورتیں جو اپنی ذات کے استحصال پر ہمیشہ افسردہ رہیں ان کے درد کو جیسے اس نعرے نے زبان دے دی۔ ایک پلے کارڈ پر لکھا نعرہ عورت مارچ کے سارے مطالبات اور حقوق کی تحریک پر حاوی ہو گیا۔

چند سال سے یہ نعرہ ہر گھر میں زیر بحث ہے ابھی اس نعرے کو نہ قبولیت ملی ہے نہ اس پر لگے الزامات میں کمی آئی ہے مگر عورتوں کا ایک اور عالمی دن آن پہنچا ہے۔ سماج کے ٹھیکیداروں کو جسم کا لفظ بےحیائی کی تصویر لگ رہا ہے۔ کوئی کفر کے فتوے دے رہا ہے کوئی پولیس کے مقدمے سے ڈرا رہا ہے اور کوئی عورت مارچ پر پابندیوں کا تقاضا کر رہا ہے۔ مگر یہ عورتیں چپ نہیں ہو رہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آخر کسی بھی انسان کے جسم پر کسی دوسرے کی مرضی کیسے چل سکتی ہے؟ سوال تو سادہ سا تھا۔ گر اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے بجائے سوال کو دبانے کی کوشش ہونے لگی۔ اس سوال کو بے حیائی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس نعرے کی تشریح گھٹیا ترین انداز میں کی جاتی ہے۔

میرے حلقہ احباب میں سے بھی کچھ مرد و خواتین اس نعرے کو رد کرنے والوں میں شامل تھے۔ جب ان سے استفسار کیا کہ آخر اس نعرے میں مسئلہ کیا ہے، کسی بھی انسان کے جسم پر ظاہر ہے اس کی مرضی چلے گی لیکن وہ لفظ جسم کو عورتوں کے منہ سے ایسے برملا استعمال ہونے کو بھی بے حیائی گردانتے ہیں۔ عورت ایسے براہ راست مطالبے اور کھلی گفتگو کیسے کرسکتی ہے؟

 میرا جسم میری مرضی کو سمجھنے کے لیے اور اپنے دوستوں کو سمجھانے کے لیے میں ایک دو مثالیں قید تحریر کرنا چاہتی ہوں جن کو پڑھ کر شاید یہ نعرہ بے حیائی نہ لگے۔

آئیے سب سے پہلے آپ کو میں صائمہ (تبدیل شدہ نام) سے ملواتی ہوں۔ 32 سالہ صائمہ تیسری بار ماں بننے والی تھی۔ وہ ضلع راولپنڈی کے مضافاتی علاقے میں ایک سکول ٹیچر تھی۔ پہلے دونوں بچے اس نے نارمل ڈیلیوری سے پیدا کیے تھے مگر اس بار اسے ڈاکٹر نے کہا کہ بچے کی پوزیشن ایسی ہے کہ اس کو آپریشن سے بچہ پیدا کرنا پڑے گا۔

ساس نے کہا ڈاکٹر پیسے بٹورنا چاہتی ہے تم چھوڑو اس کی باتوں کو۔ زچہ بچہ سینٹر جا کر بچہ پیدا کروا لیں گے۔ ڈیلیوری کا دن آن پہنچا۔ ساس اور میاں اسے قریبی زچہ بچہ سینٹر لے گئے نارمل ڈیلیوری کرنے کی کوشش میں بچہ پیٹ میں مر گیا اور صائمہ کی بلیڈنگ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ بچے کی موت کی تصدیق کے بعد میاں نے بیوی کو راولپنڈی پہنچانے کی کوشش کی مگر وہ راستے میں دم توڑ گئی۔ اس کے جسم پر اس کی مرضی چلنے دی ہوتی اس کی جان کے حساب سے اسے فیصلہ کرنے دیا ہوتا تو وہ اور اس کا بچہ بچ سکتا تھا۔

نسرین کی کہانی بھی سن لیں اوپر تلے تین بیٹیاں پیدا کیں۔ ڈاکٹر نے کہا کہ پیٹ میں رسولی بن گئی ہے اب مزید بچہ پیدا کرنا جان لے سکتا ہے مگر میاں کو بیٹے کا شوق تھا۔ نسرین نے میاں کی خواہش پوری کرنے کے لیے پھر بچہ پیدا کرنے کی کوشش کی اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔

ایک ہسپتال جانے کا اتفاق ہوا۔ میری بھابھی کے ساتھ روم میں ایک جوان لڑکی داخل تھی۔ حالت بہت خراب تھی پتہ چلا کہ بچہ پیدا کرنے سے قاصر تھی مگر میاں کی خواہش پر ٹیسٹ ٹیوب سے بچہ پیدا کرنے کی متعدد کوششوں میں کوئی ایسی پیچیدگی پیدا ہوئی کہ جان کے لالے پڑ گئے۔ میاں نے مڑ کر پوچھا تک نہیں، اب ماں باپ علاج کرا رہے تھے۔

یہ کہانیاں ہزاروں ایسی عورتوں کی ہیں جن کو اپنے جسم اور اپنی ہمت کے حساب سے فیصلے کرنے کا حق نہیں۔ عورت کو تھکنے کا حق نہیں۔ اسے آرام کرنے کا حق نہیں، وہ ساری عمر بچوں کی ماں باپ کی سسرال کی اور شوہر کی خدمت گزاری کرتی ہے، اسے چھٹیاں لینے کا حق نہیں۔

عورت اپنا نو ماہ کا حمل زدہ پیٹ اٹھا کر کھیتوں میں کام کر سکتی ہے۔ بچوں کو دودھ پلانے کے ساتھ نوکری کر سکتی ہے، وہ ہر سال بغیر کسی وقفے کے بچے پیدا کر سکتی ہے لیکن یہ سب کرتے ہوئے اسے یہ حق نہیں کہ وہ اپنے جسم کا نام بھی لے۔

مرد عورت کے جسم پر تسلط جمائے رکھے، سماج اس پر بچوں کی پرورش اور خاندان کی دیکھ بھال کا سارا بوجھ ڈال کر اس کا جسمانی استحصال کرتا رہے۔ ساسیں، نندیں، ماں، باپ، بھائی سب اس کے جسم پر اپنی مرضی چلاتے رہیں۔ لباس کی مرضی سے لے کر شادی کے فیصلوں تک مگر عورت اپنے جسم پر اپنی مرضی کی بات کرے تو وہ بے حیا ہے۔ ننگے جسموں کے ہوس زدہ تصورات میں گھرے ذہن اپنا علاج کرانے کے بجائے چاہتے ہیں کہ عورت کے جسم کا ذکر عورتوں کے منہ سے نہ ہو۔  


یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر